Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
15 - 43
فرماتے ہیں:اس روایت میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اپنے بچوں کےلیے کم عمری میں ہی کوئی اچھی کنیت رکھ دی جائے،بعض اوقات ایک ہی نام کئی افراد میں مشترک ہوتا ہے اور اس صورت میں لوگ ایسے شخص کو بلانے کے لیے کوئی نہ کوئی لقب رکھ دیتے ہیں جو کہ اکثر  بُرا  ہوتا ہے ۔بچے کی کنیت رکھنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ جب وہ بڑا ہو گا تو یہ کنیت اسے بلانے اور پکارنے کے لیے استعمال ہو گی اور کوئی اس کا بُرا لقب نہیں رکھے گا۔(۱)
صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں:بچہ کی  کُنْیَت ہو سکتی ہے یا نہیں صحیح یہ ہے کہ ہو سکتی ہے،حدیث ابی عُمیر(۲)اس کی دلیل ہے۔(۳)امیرُالمؤمنین حضرتِ

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… فیضُ القدیر، حرف الباء،۳/۲۵۱،تحت الحدیث:۳۱۱۶  ملخصاً
۲…حضر تِ سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سركارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے ، میراایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت  ابو عمیر تھی،اس نے ایک چڑیا  پال رکھی تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا،وہ چڑیا مرگئی ،پھر ایک  دن سركارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے، اسے غمگین دیکھ کر وجہ پوچھی ،عرض کی گئی کہ  اس کی چڑیا مر گئی ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اَبَا عُمَیْر!مَا فَعَلَ النُّغَیْر‘‘ اے ابو عمیر!  نُغَیْر(چڑیا کے مشابہ ایک سرخ چونچ والا پرندہ )نے کیا کیا ہے؟(ابوداود،کتاب الادب،باب ماجاء فی الرجل یتکنی ولیس لہ ولد،۴/۳۸۱، حدیث:۴۹۶۹)
۳ … بہارِشرِیعت،۳/۶۰۳،حصہ۱۶