اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتقریباً پورے فتح پور تھکیالہ میں پھیلتا ہی جارہا ہے۔ مَیں کافی عرصہ سے دعوتِ اسلامی کے پروگراموں میں جاتا ہوں بلکہ بین الاقوامی اِجتماع میں جا کر دعوتِ اسلامی کے کام کو دیکھا تو دِل باغ باغ ہوا ۔ تعداد مدینہ مدینہ، اِنتظام مدینہ مدینہ، مجالس کا قیام مدینہ مدینہ، مکاتِب کا کام مدینہ مدینہ، بلکہ وہاں کا کیا کہنا بس ہر طرف فیضان مدینہ۔حال ہی میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارہ مکتبۃ المدینہ کی کتابیں ’’جدّالممتار‘‘اور ’’بہارِ شریعت‘‘ دِیکھی دِل بَہُت خوش ہوا۔ مَیں اکثر بیانات میں کہتا ہوں کہ یہ حضرت علامہ مولیٰنا الحاج محمد الیاس عطارؔ قادری مُدَّظِلُّہُ العَالِی نے اوپن یونیورسٹیاں کھول دی ہیں۔ بوڑھا ، نوجوان ہر ایک علمِ دِین آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔ کبھی درسوں کی صورت میں ، کبھی ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتماعات کی صُورت میں ، کبھی علاقوں میں نیکی کی دعوت کی صورت میں ، کبھی مدنی قافلوں کی صورت میں ، کبھی حلقوں کے اندر اِجتماعات CDیا VCDکی صُورت میں ،تو کبھی بازار میں جگہ بہ جگہ درس دینے کی صورت میں ،کبھی المدینہ لائبریری (اور نکیال میں جامع غوثیہ مسجد کے سامنے تقریباً پونے تین سو نوجوان کُتُب لے کر جاتے اورپڑھتے ہیں ) جگہ بہ جگہ کی صورت میں اور میلادالنبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دِنوں میں تو ہرطرف ایک بَہار کی صورت میں۔