Brailvi Books

مَدَنی چینل کے بارے میں تأثرات (قِسْط پنجم)
19 - 48
گو ہوں  کہ میری تحریر کو وہ تاثیر دے جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے۔
جہاں  میں  اہلِ اِیماں  صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
	اِنسان کی قدر عمل کے حُسن سے ہے ، اگر اِس کا دامن اچھے اعمال سے بھرا ہوا ہے تو اِس دُنیا میں  بھی اس کی قدر ہے اور آخرت میں  بھی اس کی عزّت ۔وہ فرد یا قوم جس کی زِندگی عمل کے سوز سے خالی ہے وہ ایک بے معنی لفظ ہے۔ بے روح جسم ہے۔ گفتار کی روح کردار ہے اسی لیے نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِسلام کی دعوت دینے سے قبل اپنا حُسنِ کردار اہلِ مکہ کے سامنے رکھ دیا ،گفتار کا حُسن بے مقصد اور بے معنی ہے اگر اس کے ساتھ کردار کی خوبی شامل نہ ہو، کردار ہو تو لفظوں  کی شان اور شِکوہ کی ضرورت باقی نہیں  رہتی۔دعوتِ اسلامی میری اس تحریر کی محتاج نہیں۔ کیونکہ     ؎
جوشِ کِردار سے کھل جاتے ہیں  تقدیر کے راز
	عمل سے قوموں  کے اندر جذبہ، جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ رواں  دواں  پانی تازہ رہتا ہے۔ جب کہ ساکن پانی میں  بدبُوپیدا ہوجاتی ہے۔ سکون تو قبر کی آغوش میں  مل سکتا ہے۔ زندگی تو جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہاں  اِنسان حرکت وعمل سے