(232) حضرت مولانا محمد شریف قادریمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مرکزی جامع مسجد محمدیہ حنفیہ بابا شاہ بسطامی روڈ، سمن آباد، مرکز الاولیاء لاہور)
بعد حمد وصلوٰۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے ہمیں اپنے پیارے محبوب اِمام الانبیاء رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین حضرت محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی اُمت میں پیدا فرما کر اپنے دِین اسلام کا داعی بنایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اﷲِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ0 (پ۲۴ حٰمٓ سجدہ۳۳)
ترجَمۂ کنزالایمان :اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے مَیں مسلمان ہوں }، ارشاد نبوی بَلِّغُوْا عَنِّی وَلَوْ اٰیَۃً (کَنْزالعُمَّال ج۱۰ ص ۹۷ حدیث ۲۹۱۶۱دار الکتب العلمیۃ بیروت) یعنی میری طرف سے پُہَنچادو اگر چہ ایک ہی آیت ہو ۔مذکورہ بالا آیت مُبارَکہ اور حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اِنفرادی یا اِجتماعی طور پر دینِ اسلام کی تبلیغ کرتا رہے۔ تبلیغ اسلام کے ہر دور میں اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ جس طر ح پہلے زمانہ میں گھوڑوں ،تیروں ،تلواروں کے ذریعے جنگ ہوتی اور آج کل بندوق ، ٹینک ، ہوائی جہاز اور راکٹ کے ذریعے ہوتی ہے ۔ا سی طرح پہلے دور میں اسلام کی تبلیغ تحریری اور زبانی طور پر ہوتی تھی اور آج جدید ٹیکنالوجی کے