(225)حضرت مولانا پروفیسر ڈاکٹر اسلم ظفر صاحب مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(خطیب اعظم غوثیہ جامع مسجد ،سپلائی بازار ،راولا کوٹ، پاکستان)
اپنے تاثُرات کو مندرجہ شعر سے شروع کرتا ہوں کہ
ہوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اَنداز خسروانہ
اَنداز خسروانہ کے باوصف مدِّ مقابِل کی آندھیاں اور تُند و تیز جھونکے رِفعتوں ، شوکتوں ، سطوتوں اور عظمتوں میں بحمداﷲمعتدبہ اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ دعوتِ اسلامی کم عُمری کے باوُجُود تدریجاً حکیمانہ اَنداز میں جس حسین و َدِلنشین پیرائے میں اِنفرادی اور اِجتماعی زِندگیوں میں مَدَنی پھولوں کی مہک اور پیاری پیاری سُنتوں کی دائمی ، اَبدی اور سَرمدی فضیلتوں کے چراغ روشن کرتی چلی آرہی ہے یہ واقعی اسی کا حصّہ ہے۔جہاں یہ ساری سعی ، کوشش اور کاوِش اپنے بھرپور فوائد و ثَمرات سے اُمتِ مسلمہ کومُستَفِید کرنے میں مُمِدّو معاوِن ثابت ہورہی ہے۔ وہاں مَدَنی چینل نے مہمیز کا کام کیا ہے۔ دُعا ہے کہ علّامہ محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم القدسیہ کاسایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور دعوتِ اسلامی کے ہر جوان بشمول اراکین مرکزی مجلس شوریٰ کو پیہم نوازشوں سے سرفراز فرمائے،آمین۔