Brailvi Books

مَدَنی چینل کے بارے میں تأثرات (قِسْط چہارُم)
29 - 46
کا  وُجُود نہ ہونے کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ اضطراری حالت میں  ہے جس کے نتیجہ میں  طوائفالمذہبی کا دور دورہ ہے۔ معروضی حالات کی اس تاریکی میں  اگر کچھ صُلحاء اُمت دعوت و تبلیغ کے لیے کمر بستہ نہ ہوجائیں  تو پھر اِسلام کے بچے کُھچے شعائر بھی ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ جس سے اُمت کو بچانے کے لیے ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے تاریخ کے ہر دور میں  کچھ صُلحاء اُمت کو اس منصب کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ جِن کی تبلیغی کاوشوں  کے نتیجے میں  شَعَائِرُاﷲ، حُدُوْدُ اللہ اور شرعی اَحکام کا تعارُف و پہچان ممکن ہورہی ہے، میری فہم کے مطابق مولانا محمد الیاس عطارؔ اور اُن کے رُفقاء کار بھی اِس بامقصد جماعت کے زمرہ میں  شُمار ہوتے ہیں  کہ اُن کی تبلیغی کاوشوں  کے نتیجہ میں  کتنے کج کلاہوں  کو صراطِ مستقیم کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ کتنے بے اعتدالوں  کو توفیق اعتدال میسّر ہوتی ہے۔ اور کتنے مغلوب النّفس غافلین کو خوابِ غفلت سے نکال کر شاہراہِ ہدایت پر لگایا جاتا ہے۔ مجھے یہ سُن کر از حد مسرت ہوئی کہ دعوتِ اسلامی نے  مَدَنی چینل کا اِجراء کرکے وقت کی اہم ترین ضرورت کو پُورا کیا ہے۔ اہلِ دانش جانتے ہیں  کہ موجودہ دور میڈیا کی آواز کا دور ہے جس نے تبلیغِ اسلام کوآسان کر دیا، جس کے نتیجہ میں  ایک مُبلِّغ ایک ملک کے ، ایک شہر کے ایک کمرہ میں  بیٹھ کر تبلیغ ِاِسلام کی آوازِ حق دُنیا بھر کے لوگوں  تک پَہُنچاسکتا ہے۔ ہر مُلک ،ہر شہر اور ہر طبقۂ فکر