علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خلاف ہَرزہ سرائی میں مشغول ہیں۔ ان کے مقابلے کے لئے عُلَماء و مَشائخ میدانِ عمل میں ہیں اور ان کی خدمات قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں اور خاص کر دعوتِ اسلامی کی تحریک نے جو اُمت کے دِلوں میں اِسلام کی شَمع فَرُوزاں کی ہے یہ اِنہی کاخاصہ ہے اور اب تو مَدَنی چینل کے ذَریعے مزید اُمت کو دِین کے قریب لانے میں مدد ملے گی، اور فَحاشی و عُریانی کا کافی حَد تک سَدِّباب ہوجائے گا۔ خداوند تعالیٰ اِس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے، آمین۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(218) شیخ الحدیث حضرت مولانا پیر محمد چشتی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(دارالعلوم جامعہ غوثیہ معینیہ بیرون یکہ توت، پشاور ، سرحد، پاکستان)
اِسلام وسیع الجہات مذہب ہے، زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے عوام کی تعلیم اور تربیت کے حوالے سے تاریخ کے ہر دور میں اِس نے تبلیغ کی اہمیت بتائی ہے اور تبلیغ ِ اسلام کا یہ فریضہ در حقیقت صلحاء اُمت کی قیادت میں مسلم اسٹیٹ (ریاست)کی سرپرستی میں انجام پذیر ہونا چاہیے جیسا عہدِ نُبُوّت میں اور اُس کے بعد خُلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دور میں ہوتا رہا ہے۔ گردشِ ایّام کے نتیجہ میں خلافت راشدہ کے بعد سے لے کر اب تک(سوائے چند اَدوار کے) اِسلامی حکومت علٰی منہاج النُّبوۃ