پیش کرتے ہیں۔ فَجَزَاہُ اللہُ خَیْراً وَّ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(180) استاذالعلماء حافظ مفتی ابو معین محمد نظام الدین جامی رضوی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
( مدرس ومفتی دارالعلوم حنفیہ غوثیہ عارف والا ضلع پاکپتن شریف ،پاکستان)
دین اسلام میں یوں توبے شمار ہستیاں مخلوقِ خدا کی رُشد وہدایت کے لیے تشریف لائیں مگر اَوراقِ تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جن کو اللہ سبحان وتعالیٰ نے عالمگیر مقبولیت سے نوازا اور ان کے فیض کو سارے جہاں میں عام کیا، شرق و غرب میں ان کا چرچا ہوا ،جن کی بارگاہ میں ظالموں کے سر جھک گئے، فاسقوں کو توفیقِ توبہ ملی، سرکش و منکر عاجز و مطیع ہوئے، کبیرہ گناہوں میں مبتلا نہ صرف واجب ، سُنَّت، مستحب کے پابند ہوئے بلکہ مکروہ تک سے بچنے لگے ایسے عظیم المرتبت لوگ زمانہ ماضی قریب میں بَہُت کم نظر آتے ہیں اور عصر حاضر میں تقریبا ً نایاب۔ لاکھ لاکھ شکر ہے اللہ عزوجل کا کہ جس نے اس دور میں اصلاحِ اُمت کا عظیم منصب اپنے ایک مقبول