سبب اس طرح بنا کہ مدینۃُ الاولیاء (ملتان) میں دعوت اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی اجتماع کی آمد آمد تھی ہر طرف نیکی کی دعوت کا دور دورہ تھا اسلامی بھائی بڑے ہی ذوق و شوق کے ساتھ شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ اس کی دعوت کی دھومیں مچا رہے تھے اور زورو شور کے ساتھ اس کی تیاریوں میں مشغول تھے ۔ وقتِ مقررہ پر میرے بڑے بھائی نے بھی اس اجتماعِ پاک میں شرکت کی اور اس کی برکتیں لوٹنے کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے، اجتماع کے بعد جب وہ واپس گھر آ رہے تھے تو راستے میں ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جان جانِ آفریں کے سپرد کر گئے، خوش قسمتی سے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور بذات خود ان کی نمازجنازہ پڑھائی کرم بالائے کر م یہ کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان کے جنازے کو کندھا بھی دیا مزید شفقت فرماتے ہوئے تما م گھر والوں کو صبر کی تلقین کی، نماز، روز ہ کی پابندی اور دیگر نیک کام کرنے کی ترغیب دلائی اور زیادہ سے زیادہ مرحوم بھائی کے لیے ایصالِ ثواب کرنے کا مدنی ذہن دیا۔
ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ سہروردی کابینات کے اہم ذمہ دار اسلامی نے خواب میں دیکھا کہ میرے مرحوم بھائی ان سے کہہ رہے ہیں : ’’میرے چھوٹے بھائی سے کہو کہ فکر نہ کرے