انقلاب برپا ہوگیا،یوں میں اجتماع کی برکات سے اپنا خالی دامن بھر کے گھر لوٹی اس کے بعد دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت معمول بن گئی، مدنی انعامات کا رسالہ پر کرنے کی سعادت ملنے لگی، ایمان کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہوگئی، مدنی کاموں کی ترقی وعروج کے لیے مدنی کام کورس اور دیگر کورس کرنے کا موقع ملا، یوں میں مدنی کاموں میں حسب استطاعت حصہ لینے لگی، کرم بالائے کرم یہ کہ مدنی مرکز کی طرف سے مختلف ذمہ داریاں ملتی رہیں ، نیکی کی دعوت کا جذبہ پروان چڑھتا رہا۔ تادمِ بیان عالمی مجلس مشاورت کی رکن ہونے کی حیثیت سے امیراہلسنّت کے عطا کردہ مدنی مقصد’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کے تحت سنّتوں کا پیغام عام کرنے میں مصروف ِعمل ہوں ،اللہ عَزَّوَجَلَّتادمِ حیات دعوتِ اسلامی میں استقامت عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
{14}قراء ت وتجوید کی شائقہ
ایک اسلامی بہن کے تحریری مکتوب کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے، کہ میرا تعلق ایک دین دار گھرانے سے تھا جس کی وجہ سے بچپن سے ہی قراٰنِ پاک تجوید کے ساتھ پڑھنے اور پردہ کرنے کا مجھے بے حد شوق تھا، حسنِ اتفاق