کی خدمت میں مشغول ہوں۔ اللہ تعالیٰ استقامت کے ساتھ ذمہ داری کا حق اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے مذکورہ اسلامی بہن فلمیں ڈرامے دیکھنے کی شائقہ تھیں ، مگرفیضانِ دعوتِ اسلامی سے نہ صرف انہیں اس عادتِ بد سے نجات مل گئی بلکہ تائب ہوکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے میں مشغول ہوگئی، فلم بینی کی ہلاکت خیزیاں ان پر منکشف ہوگئیں ، بدقسمتی سے فلمیں ڈرامے دیکھنے گانے باجے سننے کا گناہ عام ہوچکا ہے ،بعض خواتین قبروآخرت سے غافل ہوکر شب وروز فلمیں ڈرامے دیکھ کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کرتی ہیں ، یادرکھیے بدنگاہی حرام جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،
حضرتِ سیِّدُنا عیسٰیعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامفرمایا کرتے تھے کہ بدنگا ہی دل میں شہوت کا بیج بو دیتی ہے۔
حضرت سیدنا حسن بصری رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی آنکھ کو آزاد کر دیا اس کے رنج بڑھ گئے ۔(بحرالدموع،ص۵۶)
{12}گناہوں سے نجات مل گئی
ایک اسلامی بہن کا بیان ہے: تقریبا ۲۱ سال پہلے کی بات ہے کہ