Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
53 - 107
الدرس الرابع والستون
تنازُعِ فِعلَین
	کبھی دو فعلوں  کے بعد ایک اسم ظاہر آتاہے اور ان دونوں  میں  سے ہر ایک فعل اس اسم ظاہرکو اپنا معمول بنانا چاہتاہے اسی کو تنازُعِ فِعلَین کہاجاتاہے۔
	تنازُع کی چار صورتیں  ہیں : ۱۔ہر فعل فاعل چاہے: نَصَرَ وَأَکْرَمَ زَیْدٌ۔  ۲۔ہر فعل مفعول چاہے: نَصَرْتُ وَأَکْرَمْتُ زَیْدًا۔  ۳۔پہلا فعل فاعل اور دوسرا مفعول چاہے: نَصَرَ وَأَکْرَمْتُ زَیْدًا۔  ۴۔پہلا فعل مفعول اور دوسرا فاعل چاہے ۔
	ان صورتوں میں اگر دوسرے فعل کو عمل دیں  تو وہ واحد ہی رہے گا اور اسم ظاہر اس کے مطابق (مرفوع یا منصوب ) ہوگا ،اس صورت میں پہلا فعل اگرفاعل چاہتا ہو (جیسے ۱ اور ۳میں ) تووہ واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث ہونے میں  اسم ظاہر کے مطابق آئے گا اور اس کا فاعل ضمیر متصل ہوگی اور مفعول چاہتا ہو (جیسے ۲ اور ۴میں ) تووہ بھی واحد ہی رہے گا اور اس کا مفعول بہ محذوف مانیں  گے جو اسم ظاہر ہی کی طرح ہوگا لیکن منصوب ۔
{…دوسرے فعل کو عمل دیااورپہلا فعل فاعل چاہتاہے…}
پہلی اور تیسری صورت کی مثالیں (اسم ظاہر مذکر)           پہلی اور تیسری صورت کی مثالیں (اسم ظاہر مؤنث)
نَــصَـرَ وَأَکْــرَمَ زَیْدٌ۔  نَـصَـرَ وَأَکْـرَمْـتُ زَیْـدًا   ۞	   نَـصَرَتْ وَأَکْـرَمَتْ ہِنْدٌ۔ نَـصَرَتْ وَأَکْـرَمْتُ ہِنْدًا
نَـصَرَا وَأَکْـرَمَ زَیْـدَانِ۔ نَصَرَا وَأَکْـرَمْتُ زَیْدَیْنِ    ۞    نَـصَرَتَا وَأَکْرَمَتْ ہِنْدَانِ۔ نَـصَرَتَا وَأَکْرَمْتُ ہِنْدَیْنِ
نَصَرُوْا وَأَکْرَمَ زَیْدُوْنَ۔ نَصَرُوْا وَأَکْرَمْتُ زَیْدِیْنَ ۞   نَصَرْنَ وَأَکْرَمَتْ ہِنْدَاتٌ۔ نَصَرْنَ وَأَکْرَمْتُ ہِنْدَاتٍ