الدرس السادس والخمسون
تنوین کا بیان
جونون کلمے کی آخری حرکت کے تابع ہو اور تاکید کے لیے نہ ہو اسے تنوین کہتے ہیں : قَلَمٌ(قَلَمُنْ)، دَوَاۃً(دَوَاتَنْ)، کِتَابٍ(کِتَابِنْ)۔
تنوین کی پانچ اَقسام ہیں :
۱۔تنوین تمکن: وہ تنوین جو مدخول کے منصرف ہونے پر دال ہو: رَجُلٌ۔ ۲۔تنوین تنکیر : وہ تنوین جو مدخول کے غیر معین ہونے پر دال ہو: صَہٍ۔ ۳۔تنوین عوض: وہ تنوین جو مضاف الیہ کے بدلے میں ہو: یَوْمَئِذٍ، مَرَرْتُ بِکُلٍّ(بِکُلِّ وَاحِدٍ) ۴۔تنوین مقابلہ: وہ تنوین جو جمع مؤنث سالم میں ہو: مُسْلِمَاتٌ۔ ۵۔تنوین ترنُّم : وہ تنوین جو مصرعوں کے آخر میں سُرپیدا کرنے کے لیے ہو :
أَقِلِّي اللَوْمَ عَاذِلُ وَالْعِتَابَنْ وَقُوْلِيْ اِنْ أَصَبْتُ لَقَدْ أَصَابَنْ(۱۵)
قواعد وفوائد:
.1تنوین کی پہلی چار قسمیں اسم کے ساتھ خاص ہیں جبکہ تنوین ترنم ٗ اسم، فعل اور حرف سب پر آسکتی ہے اور یہ الف لام کے ساتھ بھی آجاتی ہے۔
.2اگرکوئی مانع تنوین پایاجائے تو اسم پر تنوین نہیں آئے گی ورنہ آئے گی، موانع تنوین پانچ ہیں : ۱۔ الف لام کا ہونا : اَلرَجُلُ۔ ۲۔مضاف ہونا: قَلَمُ زَیْدٍ۔ ۳۔غیر منصرف ہونا: أَحْمَدُ۔ ۴۔مبنی ہونا(۱۶): ہُوَ۔ ۵۔علم کا ایسے اِبْن یااِبْنَۃٌ سے موصوف ہونا جوایک اور علم کی طرف مضاف ہو: زَیْدُ بْنُ بَکْرٍ، ہِنْدُ ابْنَۃُ خَالِدٍ۔
٭٭٭٭٭٭٭