Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
34 - 107
الدرس الخامس والخمسون
الف لام(اَلْ) کا بیان
الف لام کی دو قسمیں  ہیں  :   ۱۔ اسمی 	  ۲۔ حرفی ۔
	جو الف لام اسم فاعل یا اسم مفعول حدوثی پرآئے اُسے الف لام اسمی کہتے ہیں  کیونکہ یہ اسم موصول کے معنی میں  ہوتاہے: اَلضَّاِربُ(اَلَّذِيْ ضَرَبَ أو یَضْرِبُ) اَلْمَضْرُوْبُ(اَلَّذِيْ ضُرِبَ أو یُضْرَبُ)اورجو الف لام اِس کے علاوہ ہو اُسے الف لام حرفی کہتے ہیں : اَلْحَسَنُ، اَلْوَلَدُ۔(حر: ۵) 
الف لام حرفی کی دو قسمیں ہیں :  ۱۔ غیرزائدہ   ۲۔زائدہ۔
	 جوالف لام مدخول میں کوئی معنی پیدا کرے اُسے غیر زائدہکہتے ہیں : اَلْوَلَدُ۔ اور جو الف لام مدخول میں  کوئی معنی پیدا نہ کرے اُسے  زائدہکہتے ہیں : اَلصَعْقُ۔
الف لام زائدہ کی دو قسمیں ہیں :   ۱۔ لازمی 	۲۔عارضی۔
	جو الف لام اپنے مدخول سے جدانہ ہوتا ہو(۱۴) اُسے لازمی کہتے ہیں :لفظ اللہُ میں  اور جو الف لام اپنے مدخول سے جدا ہوتا ہواُسے عارضی کہتے ہیں : اَلْحَارِثُ۔
الف لام غیر زائدہ کی پانچ قسمیں  ہیں :
	جس الف لام سے اِشارہ فردِ معلوم کی طرف ہو اُسے الف لام عہد خارجی کہتے ہیں : فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ۔ جس الف لام سے اشارہجنس کی طرف ہو اُسے الف لام جنسی کہتے ہیں : اَلرَجُلُ خَیْرٌ مِنَ الْمَرْأَۃِ۔جس الف لام سے اشارہ جنس کے تمام اَفراد کی طرف ہواُسے الف لام استغراقی کہتے ہیں : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔