الدرس الثالث والخمسون
اَفعال تعجب کا بیان
جو افعال اِظہارِ تعجُّب کے لیے وضع کیے گئے ہیں اُنہیں افعالِ تعجب کہتے ہیں : مَا أَحْسَنَ زَیْدًا(زید کتنا حسین ہے!) أَکْرِمْ بِخَالِدٍ(خالدکیسا سخی ہے!)۔( کا:۱۰۹)
قواعد وفوائد:
.1جس چیز پر تعجب کیا جائے اُسیمُتَعَجَّب مِنْہکہتے ہیں اور یہ ہمیشہ معرفہ یا نکرہ مخصوصہ ہوتا ہے: مَا أَحْسَنَ زَیْدًا! أَحْسِنْ بِرَجُلٍ تَہَجَّدَ! ( ض:۴/۲۳۶ )
.2ثلاثی مجرد سے فعلِ تعجب دو وزن پر آتاہے : مَاأَفْعَلَاورأَفْعِلْ۔ پہلے صیغے میں متعجب منہ منصوب اور دوسرے میں (باء کے ساتھ) لفظًامجرور ہوتا ہے۔
.3فعل اگرمعتل العین ہو(مثلًا: ضَاقَ، خَافَ) تو عین کلمے کو اس کی اصل کی طرف لوٹا دیں گے: مَا أَضْیَقَ الْعَیْشَ! مَا أَخْوَفَ الْوَادِيَ! (ضح: ۴۴۱)
.4غیر ثلاثی مجرد یا وہ فعل جس میں رنگ، حلیہ یاعیب کامعنی ہو اس سے فعل تعجب بنانے کے لیے مَا أَشَدَّیا أَشْدِدْوغیرہ کے بعدفعل کا مصدر صریح یا مؤول لاتے ہیں : مَا أَشَدَّ اِکْرَامًایاحُمْرَۃًیاعَرَجًا، أَشْدِدْ بِأَنْ یُکْرِمَ یا بِأَنْ یَحْمَرَ۔(ضح: ۴۳۹)
فعل مجہول یا منفی(مثلا: فُہِمَیا مَاکَتَبَ) سے فعل تعجب بنانے کا بھی یہی طریقہ ہے لیکن اس میں مصدر مؤول ہی آئے گا: مَا أَشَدَّ أَنْ یُفْہَمَ، أَشْدِدْ أَنْ لَا تَکْتُبَ۔
.5 متعجب منہ اور فعل تعجب کے درمیان صرف ظرف یاجار مجرورآسکتے ہیں : أَشْجِعْ یَوْمَ الرَوْعِ بِفُرْسَانِ الْعَرَبِ! مَا أَنْعَمَ فِي الْمَدِیْنَۃِ الْحَیَاۃَ! (ضح: ۴۴۲)
.6کبھی فَعُلَ(۱۳)سے بھی تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے: حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا۔