Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
2 - 107
تنبیہ: 	ثَلاثَۃٌ سے عَشَرَۃٌ  تک کا معدود جمع اور مجرورہوگا، أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ تک کا معدود مفرد اور منصوب ہوگا اور مِأَۃٌ، أَلْفٌاور اِن کے تثنیہ و جمع کا معدود مفرد اور مجرور ہوگا۔کَمَا رَأَیْتَ۔
تنبیہ:  أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃَ عَشَرَ  تک اسم عدد کے دونوں  جز مبنی علی الفتح ہوتے ہیں  سوائے اِثْنَا عَشَرَکے پہلے جز کے ، اِثْنَا عَشَرَکا پہلاجزء اورباقی تمام اَسمائے عدد معرب ہوتے ہیں  جن کا اعراب عامل کے مطابق بدلتارہتاہے۔
٭٭٭٭٭٭
{…عطف بیان اور بدل میں فرق …}
	عطف بیان اور بدل میں آٹھ وجہوں سے فرق ہے:  ۱۔ عطف بیان نہ اسم ضمیر ہوتاہے اور نہ ضمیر کا تابع جبکہ بدل ضمیر بھی ہوسکتاہے اور ضمیر کا تابع بھی ہوسکتاہے:رَأَیْتُ زَیْدًا إِیَّاہٗ، {وَنَرِثُہٗ مَا یَقُوْلُ}، {مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ}۔   ۲۔عطف بیان کا تعریف و تنکیر میں متبوع کے مطابق ہونا ضروری ہے جبکہ بدل میں یہ ضروری نہیں:{اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾ صِرٰطِ اللہِ}، { بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کٰذِبَۃٍ}  ۳۔عطف بیان جملہ نہیں ہوسکتا جبکہ بدل جملہ ہوسکتاہے: {مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبْلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغْفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ}  ۴۔عطف بیان جملے کا تابع نہیں ہوسکتا جبکہ بدل جملے کا تابع ہوسکتاہے: {اِتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسْـَٔلُکُمْ اَجْرًا}، { اَمَدَّکُمۡ بِمَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ اَمَدَّکُمۡ بِاَنْعٰمٍ وَّ بَنِیۡنَ} ۔  ۵۔عطف بیان ایسا فعل نہیں ہوسکتاجو فعل کا تابع ہو جبکہ بدل ہوسکتا ہے: { وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾ یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ}۔   ۶۔عطف بیان بلفظ اول نہیں ہوسکتا جبکہ بدل بلفظ اول ہوسکتاہے جبکہ زیادتی بیان کا فائدہ دے:{وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا}۔   ۷۔عطف بیان تکریر عامل کے حکم میں نہیں ہوتا جبکہ بدل تکریر عامل کے حکم میں ہوتاہے اسی لیے یا زید الحارث میں الحارث کا بدل ہونا ممتنع اور عطف بیان ہونا متعین ہے۔   ۸۔عطف بیان تقدیرا کسی دوسرے جملے کا جزء نہیں ہوتا جبکہ بدل تقدیرا کسی دوسرے جملے کا جزء ہوتاہے اسی لیے ہند قام بکر أخوہا میں أخوہا کا بدل ہونا ممتنع اور عطف بیان ہونا متعین ہے۔(مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب: ۲/۱۳۱تا ۱۳۷)