Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
96 - 161
عام مزدور نہیں بلکہ کوئی بڑا آدمی ہے ۔ میں نے ان سے اس کا پتہ معلوم کیا اور اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان زمین پر لیٹا ہواتھا اور اسے سخت بخار تھا ۔ میں نے اس سے کہا ،''میرے بھائی!تو یہاں اجنبی ہے ،تنہا ہے اور پھر بیمار بھی ہے ، اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو ۔'' اس نے انکار کر دیا لیکن میرے مسلسل اصرار پر مان گیا لیکن ایک شرط رکھی کہ وہ مجھ سے کھانے کی کوئی شے نہیں لے گا، میں نے اس کی یہ شرط منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا ۔

    وہ تین دن میرے گھر قیام پذیر رہا لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کرکھائی۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آگئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا،''میرے بھائی !لگتا ہے کہ اب میراآخری وقت قریب آگیا ہے لہذا جب میں مر جاؤں تو میری اس وصیت پر عمل کرنا کہ،''جب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا اور اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ لوگو! دیکھ لو اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے ۔''شاید اس طرح میرا رب عزوجل مجھے معاف کر دے ۔ جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا پھر بغداد میں خلیفہ ہارون رشید کے پاس جانا اور یہ قرآن مجید اور انگوٹھی انہیں دینا اور میرا یہ پیغام بھی دینا کہ،''اللہ عزوجلاللہ عزوجل سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور نشے کی حالت میں موت آجائے اور بعد میں پچھتانا پڑے،لیکن پھر اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔''

    وہ نوجوان مجھے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا ۔ میں اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور غمزدہ رہا ۔ پھر (نہ چاہتے ہوئے بھی )میں نے اس کی