عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: مجھے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، ارشاد فرمایا : '' او قبر پر بیٹھنے والے! قبر سے اُتر آ، صاحبِ قبر کو ایذا نہ دے، نہ وہ مجھے ایذا دے ۔''
اخرج الطحاوی فی معانی الاثار والطبرانی فی المعجم الکبیر بسند حسن والحاکم وابن مندۃ عن عمارۃ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی علیہ رانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جالساً علٰی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لا تؤذی صاحب القبر ولایؤذیک ۱؎ ولفظ الامام الحنفی فلایؤذیک ۲؎ ۔
طحطاوی نے معانی الآثارمیں اور طبرانی نے معجم کبیر میں بسندِ حسن اور حاکم اور ابنِ مندہ نے عمارہ بن حزم سے روایت کی کہ مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قبرپر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے قبر پر بیٹھنے والے قبر سے اتر اور قبر والے کوتکلیف نہ دے اور وہ تجھے تکلیف نہ دے۔ اور امام حنفی کے لفظ یہ ہیں فلا یؤذیک ( پس وہ تجھے تکلیف نہ دے ۔ت)
(۱؎ شرح الصدور بحوالہ الطبرانی والحاکم وابن مندۃباب تاذیہ بسائر وجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۶)
(۲؎ شرح معانی الآثار باب الجلوس علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۳۴۶ )
اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اپنی مسند میں یوں روایت کیا: عمر وبن حزم کو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وآلہٖ وسلم نے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھا، فرمایا:
لاتؤذِ صاحب القبر ۳؎، کما فی المشکٰوۃ قلت وھذا الحدیث لایلائمہ تاویل الامام ابی جعفر والنھی عن شیئ لاینا فی النھی عن اعم منہ فافھم ۔
صاحب قبر کوایذا نہ دے، جیسے مشکوٰۃ میں ہے، میں کہتا ہوں اس حدیث سے امام ابوجعفر کی تاویل مناسب نہیں رکھتی ہے او رکسی چیز سے روکنا اس چیز سے عالم کے روکنے کو مستلزم نہیں، تو غور کیجئے۔
(۳؎مشکوٰۃ المصابیح باب دفن المیّت فصل ثالث مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹)
شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ شرح میں فرماتے ہیں:
شاید کہ مراد آنست کہ روحِ وے ناخوش می دارد وراضی نیست بہ تکیہ کردن برقبر وے جہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوے ۴؎ اھ۔
شاید مراد یہ ہے کہ اس کی روح ناراض ہوتی ہے اپنی قبرپر تکیہ لگائے کی وجہ سے اہانت محسوس کرتی ہے ۔ اھ
(۴؎ اشعۃ اللمعات باب دفن المیّت نوریہ رضویہ سکھر۱/۶۹۹)
اقول اس توجیہ پر امام علامہ عارف باﷲ حکیم الامۃ سیدی محمد بن علی تر مذی قدس سرہ، نے جزم فرمایا، تصریح فرماتے ہیں کہ:'' ارواح کوا ن کی بے حرمتی وتنقیصِ شان معلوم ہوجاتی ہے لہذا ایذا پاتی ہیں۔''
قال سیدی عبد الغنی فی الحدیقۃ عن نوادر الاصول معناہ ان الارواح تعلم بالترک اقامۃ الحرمۃ وبالاستھانہ فتتأذی بذلک ۱؎ اھ۔
سیدی عبدالغنی نے حدیقہ میں نوادر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: اس کے یہ معنی ہیں کہ ارواح اپنی اہانت و ذلت کو محسوس کرتی ہیں اور اس سے انھیں ایذا ہوتی ہے اھ
(۱؎ حدیقہ ندیہ الصنف الثامن الاصناف القسمۃ فی آفات الرجل مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان ام شی علی جمرۃ اوسیفٍ اواخصف نعلی برجلیہ احب الی من ان امشی علٰی قبر ۲؎۔ رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ واسنادہ جیّد کما فاد المنذری۔
البتہ چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی قبر پر چلوں اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا،اس کی سند عمدہ ہے جیسا کہ منذری نے افادہ کیا۔ (ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳ )
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لان اطاء علی جمرۃ احب الی من ان اطاء علٰی قبر مسلم، رواہ الطبرانی فی الکبیر باسناد حسن ۳ قالہ امام عبدالعظیم۔
بے شک مجھے آ گ پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے مسلمان کی قبر پرپاؤں رکھنے سے، اسے طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن روایت کیا ۔ جیسا کہ امام عبدالعظیم نے کہا ہے ۔ (ت)
(۳؎ الترغیب والترتیب الترھیب من الجلوس علی القبر الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۷۲)
ان ہی صحابی اجل سے کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا ، فرمایا:
کما کرہ اذای المؤمن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ ۴؎۔ اخرجہ سعید بن منصور فی سننہ کما فی شرح الصدور۔
میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند کرتاہوں ۔ اسے سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں بیان کیا جیسا کہ شرح الصدور میں ہے۔
(۴؎ شرح الصدور باب تأدیسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۱۲۶)
اقول وھذہ الاحادیث تویّدما اخترنا وتؤذن ان تاویل ابی جعفر رحمہ اﷲ تعالٰی لیس فی محلہ فبما فی عامۃ الکتب نأخذی لاعتقادھا بنصوص الاحادیث، ولانہ علیہ الاکثر وقد نصوا ان العمل بما علیہ الاکثر، وانہ لا یعدل عن روایۃ ماوفقتھا درایۃ فکیف اذاکان ھوا الاشھر الاظھر الاکثر الازھر وبھٰذا یضعف مازعم العلامۃ البدرفی المعدۃ فتبصر۔
میں کہتا ہوں ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جوبات ہم نے اختیار کی ہے وہ درست ہے، او رابو جعفر رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تاویل برمحل نہیں، لہذا ہم وہ مسلک اختیار کرتے ہیں جوعام کتب میں ہے، کیو نکہ اسے احادیث کی صراحت سے تقویت حاصل ہے ، اور ا س لیے بھی کہ اکثر کایہی قول ہے کیونکہ علماء نے صراحت کردی ہے کہ عمل اس پر ہوگا جس پر اکثریت ہوگی اوریہ کہ اس روایت سے عدول نہیں کیا جاتا ہے جو درایت کے مطابق ہو، تو پھر اس سے عدول کا جواز کیا ہوگا جو اشہر ، اظہر، اکثر اور واضح ہے، اور اسی سے علاّمہ بدر کا زعم عمدہ میں ضعیف قرار پاتا ہے۔ تو غور کیجئے۔
ان ہی احادیث سے ہمارے علماء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم نے بے ضرورت (عہ) قبر پر چلنے اور اس پربیٹھنے او رپاؤں رکھنے سے منع فرمایا کہ یہ سب حرمتِ مومن کے خلاف ترکِ ادب گستاخی ہے،
عہ: قولہ بے ضرورت، ضرورت کی صورت مثلاً قبرستان میں میّت کے لیے قبرکھودنے یا دفن کرنے جانا چاہتے ہیں بیچ میں قبریں حائل ہیں اس حاجت کیلیے اجازت ہے، پھر بھی جہاں تک بن پڑے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں، ان اموات کیلیے دعا استغفار کرتے جائیں،
فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح عن شرح المشکوٰۃ الوطء الحاجۃ کدفن المیّت لایکرہ اھ وعن السراج فان لم یکن لہ طریق الاعلی القبر جازلہ المشی علیہ للضرورۃ ۱؎ ۔ ۱۲ منہ
علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں شرح مشکوٰۃ سے ہے کہ ضرورت کے پیش نظر مثلاً میّت کو دفن کرنے جانا ہو تو قبروں پر سے گزرنا مکروہ نہیں اھ اور سراج سے ہے کہ اگرقبرپر ہی گزرنے کا راستہ ہو تواس پر چلنا ضرورتاً جائز ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۰)