Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
98 - 243
وصلِ اوّل
علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ مسلمان کی عزت مُردہ و زندہ برابر ہے۔ محقق علی الاطلاق رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الاتفاق علٰی  انّ حُرمۃ المسلم میّتا کحرمتہ حیّا ۱؎ ۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت وحرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے ۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیم    فصل فی الدفن    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۱۰۲)
نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کسر عظم المیّت واذاہ ککسرہ حیّا ۲؎ ۔ رواہ الامام احمد وابوداؤد وابن ماجۃ باسناد حسن عن اُمّ المؤمنین عائشہ الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا۔
  مُردے کی ہڈی کو توڑنا ا ور اسے ایذا پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی کو توڑنا، اسے امامِ احمد و وابوداؤد وابن ماجہ نے بسند حسن ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کیا۔
 (۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الجنائز    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۰۲)
یہ حدیث مسند الفردوس میں ان لفظوں سے ہے : سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
المیّت یؤذیہ فی قبرہٖ مایؤذیہ فی بیتہ ۱؎ ۔
مُردے کو قبر میں بھی اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے گھر میں اسے اذیت ہوتی۔
 (۱؎ الفردوس بمأ ثورالخطاب    حدیث ۷۵۴     دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۹)
علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں:
افادان حرمۃ المؤمنین بعدموتہٖ فاقیۃ ۲؎ ۔
   اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی حُرمت بعد موت کے بھی ویسے ہی باقی ہے ۔
   (۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر  حدیث ۶۲۳۱ دارالمعرفۃبیروت    ۴ /۵۵۱)
سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ فرماتے ہیں:
اذی المؤمن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ ۳؎ ۔رواہ ابی بکر بن ابی شیبہ ،
مسلمان مُردہ کو ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندہ کو ۔ اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا۔
 (۳؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی شیبہ فصل تأذیہ بسائرو جوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص ۱۲۶)
علماء فرماتے ہیں :
المیّت یتاذی بما یتاذی بہ الحی ۴؎ ۔ کذافی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔
جس بات سے زندہ کو ایذا پہنچتی ہے مردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں، جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں مذکور ہے ۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار     فصل الاستنجاء     ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱/ ۲۲۹)
علامہ شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ اشعتہ اللمعات میں امام علامہ ابویوسف بن عبدالبر سے نقل فرماتے ہیں:
ازیں جامستفادمیگر ددکہ میّت متألم میگرد دتجمیع انچہ متألم میگرد دبدان حی ولازم انیست کہ متلذذگرد تمام انچہ متلذذم میشود بدان زندہ ۵؎ انتہی ۔
اس جگہ یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جن چیزوں سے زندہ کو درد پہنچتاہے ان تمام سے مردہ کو بھی الم پہنچتا ہے،ا ور یہ لازم ہے کہ جن چیزوں سے زندہ کو لذت حاصل ہو ان سب سے میّت کو بھی لذت حاصل ہوتی ہے انتہی ۔ (ت)
 (۵؎ اشعۃ اللمعات باب دفن المیّت   فصل ثانی   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۶۹۶)
یہاں تک ہمارے علماء نے تصریح فرمائی، قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس میں آدمیوں کو چلنا حرام ہے،
فی الشامیہ عن الطحطاویۃ آخر کتاب الطھارۃ نصوا علٰی  ان المرورفی سکۃ حادثۃ فیھا حرام ۱؎ ۔
آخر کتاب الطہارۃ شامی میں طحطاوی سے ہے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس پر چلنا حرام ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء    ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱/ ۲۲۹)
اور فرماتے ہیں: ''مقبرے کی گھاس (سبز) کاٹنا مکروہ ہے کہ جب تک وہ( گھاس سبز) تر رہتی ہے ہے اﷲ تعالٰی  کی تسبیح کرتی ہے، اس (سبز گھاس) سے اموات کادل بہلتا ہےاور ان پر رحمتِ الہٰی  کا نزول ہوتا ہے ،ہاں خشک گھاس کاٹ لینا جائز ہے مگر وہاں سے تراش کوجانوروں کے پاس لے جائیں، او ریہ ممنوع ہے کہ انھیں گورستان میں چرنے چھوڑدیں''۔
فی جنائز  ردالمحتار یکرہ ایضا قطع النبات الرطب والحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر والدرر وشرح المنیۃ ۲؎ وعللہ فی الامداد بانہ مادام رطباً یسبح اﷲ تعالٰی  فیونس المیّت وتنزل بذکرہ الرحمۃ ونحوہ فی الخانیۃ انتھی ۳؎ ۔
ردالمحتار کے جنائز میں ہے کہ ترگھاس کا مقبرے سے کاٹنا مکروہ ہے خشک گھاس کا نہیں، جیسا کہ بحر، درراور شرح منیہ میں ہے، اور امداد میں اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ جب تک وہ تر رہتی ہے اﷲکی تسبیح کرتی رہتی ہے جس سے میّت کو انس حاصل ہوتا ہے ، خانیہ میں بھی اسی طرح ہے انتہی،
 (۲؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز     ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۶۰۶)

(۳؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز     ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۶۰۶)
وفی العالمگیریۃ عن البحرالرائق لوکان فیھا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولاترسل الدواب فیھا ۴؎ اھ۔
اور علمگیریہ میں بحرالرائق سے ہے کہ اگر قبرستان میں خشک گھاس ہوتو کاٹ کر لائی جاسکتی ہے مگر جانور اس میں نہ چھوڑے جائیں اھ۔
 (۴؎ فتاوٰی  ہندیۃ    الباب الثانی عشر فی الرباطات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۷۱)
نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک شخص کو مقابر میں جوتا پہنے چلتے دیکھا ، ارشاد فرمایا:     '' ہائے کم بختی تیری اے طائفی جُوتے والے! پھینک اپنی جوتی ۔''
 اخرج الائمۃ ابوداؤد النسائی والطحطاوی وغیرھم عن بشیر بن الخصاصیۃ واللفظ للامام الحنفی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم راٰی  رجلاً یمشی بین القبور فی نعلین، فقال ویحک یا صاحب السبتیتین الق سبتیتیک ۱؎ اھ۔ السِّبتتہ بکسر المھملۃ وسکون الموحدۃ ھی التی لاشعرفیھا۔ قال القاضی عیاض کان من عادۃ العرب لبس النعال بشعرھا غیرمدبوغۃ وکانت المدبغۃ تعمل بالطائف وغیرہ ۲؎ الخ ۔
 ابوداؤد ، نسائی اور طحطاوی وغیر ہم نے بشیر بن خصاصیہ سے روایت کی اور لفظ امام حنفی کے ہیں کہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبروں کے درمیان جوتیاں پہن کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: خرابی ہو تیری اے جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتاردے، سبتہ مہملہ کے کسرہ اور سکون باء سے مراد وہ چمڑا ہے جس میں بال نہ ہوں، قاضی عیاض نے فرمایا: عرب والے کچے چمڑے کے مع بالوں کے جوتے پہنا کرتے تھے اور پکائے ہوئے چمڑے کے جوتے طائف وغیرہ میں بنائے جاتے تھے الخ۔
(۱؂شرح معانی الاثار     باب المشی بین القبور بالنعال    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۴۲)

(۲؎ تاریخ سبتتہ للقاضی عیاض    )
فاضل محقق حسن شرنبلالی اور ان کے استاذ علامہ محمد بن احمد حموی فرماتے ہیں: ''چلنے میں جو آواز کفش پا سے پیدا ہوتی ہے اموات کو رنج دیتی ہے ۔''
حیث قال فی مراقی الفلاح اخبرنی شیخی العلامۃ محمد بن احمد الحموی الحنفی رحمہ اﷲ تعالٰی  بانھم یتأذون بخفتی النعال انتھی ۳؎ اھ۔ اقول ووجھہ ماسیأتی عن العارف الترمذی رحمہ اﷲ تعالٰی ۔
اس لیے کہ مراقی الفلاح میں کہا کہ مجھے خبردی میرے شیخ علامہ محمد بن احمد حموی حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی  نے کہ مُردے جوتیوں کی پہچل سے تکلیف محسوس کرتے ہیں اھ۔ میں کہتا ہوں اس کی دلیل عنقریب عارف ترمذی سے منقول ہو کر آئے گی۔
(۳؎ مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی  فصل فی زیارۃ القبور  نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴۲)
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
  لان یجلس احد کم علٰی  جمرۃ فتحرق ثیابہ حتی تخلص الٰی  جلدہ خیرلہ من ان یجلس علٰی  قبر ۴؎۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن سیدنا ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ۔
بیشک آدمی کو آگ کی چنگاری پر بیٹھارہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر جلد تک توڑ جائے، اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے، اسے مسلم وابوداؤد و نسائی وابن ماجہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۴؎سنن ابی داؤد    کتاب الجنائز        آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۰۴)
Flag Counter