Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
97 - 243
جب قبر پر تکیہ لگانے سے اہل قبورکی اہانت ہوتی اور ان کی توہین اور ان کی ترک تعظیم ہوتی ہے۔ تواس پر کھیتی کرنے سے اور اس پر مکان بنانے سے تو بطریق اولٰی  ان کی توہین ہوگی، اور ثالثاً یہ کہ ہم یہاں معترض نجدی شعار سے پوچھتے ہیں کہ تجھ کو کیسے معلوم ہو اکہ میّت بالکل مٹی ہوگئی ہے اور اس کی ہڈی بھی باقی نہیں رہی ہے ا س واسطے کہ قبر ابھی تک کھودی نہیں کی گئی ہے او رنہ میّت کے مٹی ہو نے کا قرآن اور حدیث میں کوئی وقت مقرر ہوا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میّت کی ہڈیاں  بھی مٹی ہوجاتی ہیں، بلکہ تجربے سے بازہا مشاہدہ ہواہے کہ کسی بہت پرانی بستی کے اطراف میں کوئی جگہ کھودی جائے تواس میں قبور نکلیں جن میں ہڈیاں ( بلکہ بعض کے ابدان) اب تک باقی صحیح وسلامت تھیں، کتبوں سے تین تین چار چار صدیوں کی قبور معلوم ہوتی تھیں تو بلا دلیل بلا ضرورت شرعی کے کسی ممنوع امرکا کسی مبہم روایت کی بناپر مرتکب ہونا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اگر معترض پھرعود کرے اور کہے کہ بمبئی وغیرہ عظیم  شہروں میں قبور کھود کر ان میں دوسرے اموات دفن کئے جاتے ہیں، تو اگر قبور کھودنے سے اموات کی توہین ہوتی ہے توان شہروں میں یہ کام کیوں ہوتا ہے، تو جواب اس کا یہ ہے کہ ان شہروں میں جگہ بہت تنگ ہے، قبرستانوں  میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ میّت کے لیے الگ الگ قبرہو، لہذا اس ضرورت شدیدہ سے یہ جائز ہے کہ
الضرورات تبیح المحظورات
 ( بوقت ضرورت منع کردہ چیزیں بھی جائز ہوجاتی ہیں ۔ت) قاعدہ متفقہ ہے۔
کبیری شرح منیہ میں ہے :
ولا یحفر قبرلدفن اخرما لم یبل الاول فلم یبق لہ عظم الاّ عند الضرورۃ بان لم یوجد مکان سواہ ۱؎ الخ۔
دوسرے مردہ کو دفن کرنے کے لیے قبر نہ کھودی جائے جب تک پہلا مردہ بوسیدہ نہ ہوجائے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی نہ رہیں مگر بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو الخ (ت)
 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجنائز    سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۶۰۷)
بالجملہ صورت مسئولہ میں قبور کو کھود کر ان پرمکانات بنانا ہمارے حنفی مذہب میں جائز نہیں اور بلاشبہ وشک ایسا کرنے سے اہل قبور کی توہین ہوگی جو جائز نہیں ہے۔
ھذا ماعندی والعلم الاتم عند ربی قالہ بفمہ وامر برقمہ العبد الفقیر محمد عمرالدین السنی الحنفی القادری الھزاروی عفااﷲ تعالٰی  عنہ۔
یہ میری تحقیق ہے اور علم کا مل میرے رب کے پاس ہے، یہ فتوٰی  بزبانِ خودکہا ہے اور اس کے لکھنے کا حکم دیا ہے بندہ فقیر محمد عمر دین سنّی حنفی قادری ہزاروی نے (عفا اﷲ تعالٰی  عنہ ) ۔(ت)
جو کچھ مجیب لبیب نے لکھاہے حق او رصواب ہے، چنانچہ خزانۃ الروایۃ میں ہے :
فی مفید المستفید عن مفاتیح المسائل واذا صارالمیّت ترابا فی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ ۱؎ انتھی۔
مفاتیح المسائل سے مفید المستفید میں ہے جب قبرمیں میّت گل کر مٹی بھی ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس میّت کی تعظیم و حُرمت اب بھی باقی ہے انتہی (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار    بحوالہ الامداد        ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۵۹۹)
اور یہ بھی خزانۃ الروایۃ میں ہے :
لایجوز لاحدٍ ان یبنی فوق القبور بیتاً اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور ولھذا لایجوز نبشہ ۲؎ انتھی مختصرا۔
    قبروں پر کسی کو گھر یا مسجد بنانا جائز نہیں کیونکہ قبروالی جگہ صاحب قبر کا حق ہے، اسی وجہ سے قبر کو کھودنا جائز نہیں ہے اھ مختصراً۔
 (۲؎ خزانۃ الروایۃ    )
نمقہ الراجی الی رحمۃ ربہ الشکور عبد الغفور صانہ اﷲ عن الاٰفات و الشرور۔
   اسے لکھا ہے اپنے رب شکور کی رحمت کے امیدوار عبدالغفور نے، اﷲ تعالٰی  اسے آفات اور برائیوں سے بچائے ۔ (ت)
ﷲ درالمجب حیث اجاب فاجادواصاب فیما افادہ حررہ المسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ ۔
  اﷲ تعالٰی  مجیب کو جزائے خیردے کہ انھوں نے عمدۃ جواب دیا اور صحیح افادہ فرمایا، اسے لکھا ہے مسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ نے ۔(ت)
اس فتوے کو دیکھا ، فتوٰی  صحیح ہے، جواب درست ہے۔
حررہ محمد عبدالرشید دہلوی عفی عنہ
الجواب صحیح۔
 ( جواب صیح ہے ۔ت) محمد افضل المجید عفی عنہ
9_3.jpg
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ الذی جعل الارض کفاتا o و اکرم المومنین احیاء وامواتا o وجعل موتھم راحۃً وسباتاً o وحرّم اھانتھم تحریماً بتاتاً o

الصلٰوۃ والسلام علی من سقانا من فضلہ وفضلتہ ماء فراتا o واعطانا فی کل محجّۃ ابلح حجّۃ نقضا واثباتا o وابّد تعظیم المؤمنین ابدالابدین ولم یوقت لہ میقاتاً o فجعلھم عظاماً وان صاروا عظاماًo وحرّم ایذاء ھم ولوکانوا رِفاتاً o وعلٰی  اٰلہٖ وصحابہٖ و اھل وحزبہ المکرمین عند اﷲ جمیعاو اشتاتا، جزی اﷲ المجیب خیرًا ویثیب۔
تمام تعریفیں اس اﷲ تعالٰی  کے لیے ہیں جس نے زمین کو جمع کرنیوالی بنایا، زندہ اور مردہ مومنوں کو عزت بخشی او ران کی موت کو سکون وآرام بنایا اور ان کی توہین کو قطعی طور حرام کیا، درود سلام ہو اس ذات پر جس نے اپنے احسان اور بقیہ سے ہمیں خوب میٹھا پانی پلایا، اور ہر میدان میں ہمیں نقض واثبات کے لیے بھاری حجہ عطا فرمائی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مومنوں کو عزت بخشی اور اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہ فرمایا او رمومنوں کو عظمت والا بنایا اگر چہ وہ ہڈیاں ہو جائیں، اور ان کو ایذادینا حرام کیا اگر چہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں، اور آپ کےآل ، اصحاب ، اہل اور آپ کے گروہ پرجو عند اﷲ مکرم ہیں، اجتماعی اور متفرق طور پر، اﷲ مجیب کو جزائے خیر اور ثواب عطافرمائے ۔(ت)
جامع الفضائل، قامع الرذائل، حامی السنن، ماحی الفتن مولٰنا مولوی محمد عمرالدین جعلہ اﷲ کا سمہٖ عمرالدین وبسعیہٖ ورعیہ عمرالدین کا جواب ناہج مناہج صواب کافی و وافی ہے ، مگر بحکم المامور معذور بنظر تکثیر افاضہ دو  وصل مفید کا اضافہ منظور وصل اول اس بیان مجیب کی تا ئید و تصویب میں کہ قبور مسلمین کی تعظیم ضرور اور اہانت محظور، او ر یہ کہ کیا کیا امور موجب ایذائے اصحابِ قبور، یہاں اگر سلسلہ سخن میں بعض امو رمذکورہ جواب کا اعادہ ہو تو غیر محذور کہ تکرّر فرع موجب مزید تاکید واوقع فی الصدور؂
والمسک ماکرّرتہ یتضوء
وصل دوم میں احقاقِ مرام وازہاقِ اوہام وتبکیت مخطیان نجاریہ لیام، اور اس امر کا بیان کامل و تام کہ مقابر عام مسلمین میں کوئی وقفی مکان بنانا بھی حرام ، نہ کہ اپنی سکونت وآرام کا مقام، نیز روایت علاّمہ زیلعی کی تحقیق انیق، اس وصل میں دو فتوے فقیر کی نقل پر قناعت ہے کہ ان میں بحمد اﷲ تعالٰی کفایت ہے، وباﷲ التوفیق۔
Flag Counter