نامنا سب افعال کرنے سے اموات مسلمین کو ایذا ہوتی ہے
او ربعض عامہ مومنین اور بقیہ اموات کے ابدان گو سلامت نہ رہتے ہوں تاہم ان کی قبور پر بیٹھنے بلکہ ان پر تکیہ لگانے اور قبرستان میں جوتوں کی آواز کرنے سے ان کو ایذا ہوتی ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے یہ امر ثابت بلاریب ہے۔ حاکم وطبرانی عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا :
یاصاحب القبر، انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولا یؤذیک ۴؎ ۔
اورقبر والے! قبر سے اتر آ، نہ تو صاحب قبر کوایذا دے نہ وہ تجھے۔
(۴؎ شرح الصدور بحوالہ الطبرانی والحاکم باب تأذیہ بسائرہ وجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۶)
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی : کسی نے حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا، فرمایا:
مجھ کو جس طرح مسلمان زندہ کی ایذا ناپسند ہے یوں ہی مردہ کی۔
(۱؎ شرح الصدوربحوالہ سعید بن منصور باب تأذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۶)
امام احمدعلیہ الرحمۃ بسندِ حسن انھیں حضرت عمر بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی: سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھا، فرمایا:
لا تؤذی صاحب ھذاالقبر
( اس قبروالے کو ایذا نہ دے) یا فرمایا:
لا تؤذہ ۲؎
( اسے تکلیف نہ پہنچا)
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ حم عن عمرو بن حزم باب دفن المیّت مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۴۹)
اس ایذا کا تجربہ بھی تابعین عظام اور دوسرے علماء کرام نے جو صاحب بصیرت تھے کرلیا ہے۔ ابن ابی الدنیا ابو قلابہ بصری سے راوی : میں ملک شام سے بصرہ کو جاتا تھا ، رات کو خندق میں اترا، وضو کیا، دورکعت نماز پڑھی، پھر ایک قبر پر سر رکھ کر سوگیا، جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے او رکہتا ہے :
لقد اذیتنی منذ اللیلۃ ۳؎
(اے شخص! تونے مجھ کو رات بھر ایذا دی) ۔
(۳؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا عن ابی قلابۃ باب ینفع المیّت فی قبرہ خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۸)
امام بیہقی دلائل النبوۃ میں اور ابن ابی الدنیا حضرت ابو عثمان نہدی سے ، وہ ابن مینا تابعی سے راوی: ،میں مقبر ے میں گیا، دو رکعات پڑھ کر لیٹ گیا،خدا کی قسم میں خوب جاگ رہا تھا کہ سنا کوئی شخص قبر میں سے کہتا ہے:
قم فقد اٰذیتنی۴؎
( اُٹھ کہ تو نے مجھ کو ایذا دی)۔
(۴؎ دلائل النبوۃ للبہیقی باب ماجاء فی الرجل سمع صاحب القبردارالکتب المعلمیۃ بیروت ۷/ ۴۰)
حافظ ابن مندہ امام قاسم بن مخیمرہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے راوی: '' اگر میں تپائی بھال پر پاؤں رکھوں کہ میرے قدم سے پار ہوجائے تو یہ مجھ کو زیادہ پسند ہے اس سے کہ قبر پر پاؤں رکھوں۔ '' ایک شخص نے قبر پر پاؤں رکھا، جاگتے میں سنا :
الیک عنّی یا رجل لا تؤذینی۵؎
(اے شخص! الگ ہٹ مجھے ایذا نہ دے) ۔
(۵؎ شرح الصدور بحوالہ ابن مندہ عن القاسم فصل تأذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈ می سوات ص ۱۲۶)
او رعلامہ شربنلالی مراقی الفلاح میں لکھتے ہیں :
اخبرنی شیخی العلامۃ محمد بن احمد الحموی الحنفی رحمہ اﷲ تعالٰی بانھم یتأذون بخفق النعال ۶ ۔
مجھ کو میرے استاذعلامہ محمد ابن احمد حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی نے خبردی کہ جوتے کی پہچل سے مردے کو ایذا ہوتی ہے ۔
(۶؎ مراقی الفلاح علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴۲)
اسی واسطے ہمارے فقہائے کرام احناف علیہم الرحمۃ فرماتے ہیں کہ: ''قبر پر رہنے کو مکان بنانا، یا قبر پر بیٹھنا، یا سونا، یا اس پر یا اس کے نزدیک بَول وبراز کرنا یہ سب اموراشد مکروہ قریب بحرام ہیں۔'' فتاوٰی علمگیری میں ہے :
ویکرہ ان یبنی علی القبر اویقعد اوینام علیہ اویطاء علیہ او یقضی حاجۃ الانسان من بول اوغائط۱؎۔
الخ قبر پر عمارت بنانا، بیٹھنا، سونا ، روندنا، بول وبراز کرنا مکروہ ہے ۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبرو الدفن نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۶)
علاّمہ شامی اس کی دلیل میں حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
لان المیّت یتأذی بما یتاذی بہ الحیّ ۲؎ ۔
یعنی اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مردے بھی ایذا پاتے ہیں۔
(۲؎ ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱/ ۲۲۹)
بلکہ دیلمی نے امّ المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کلیے کی تصریح روایت کی کہ سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
المیّت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ فی بیتہ ۳؎ ۔
میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے قبر میں بھی اس سے ایذا پاتا ہے۔
ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی:
اذی المومن فی موتہ کا ذاہ فی حیاتہ ۴۔
مسلمان کو بعد موت تکلیف دینی ایسی ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی۔
(۴؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی شیبہ باب تاذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈ می سوات ص ۱۲۶)
اور اظہر من الشمس ہے کہ قبور کو کھود کر ان پر رہنے کو مکان بنایا تو اس میں یہ سب امور موجود ہیں، جس سے یقینا اہل قبور کی توہین ہوتی ہے اور ان کو ایذا دینا ہے۔ جو ہر گز ہمارے حنفی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ شرح کنز میں علامہ زیلعی لکھتے ہیں :
اگر میّت پرانی ہوجائے اور مٹی میں مل جائے تودوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا، کھیتی باڑی کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز ہے۔
(۱؎ تبیین الحقائق فصل السلطان احق بصلٰوۃ مطبعۃ کبٰری امیر تہ مصر ۱/ ۲۴۶)
تو جواب اس کا اولاّ یہ ہے کہ یہ قول علامہ زیلعی کا احادیث مذکورہ اور روایات مسطورہ کے معارض ہے لہذا قابلِ قبول نہیں ہے، اور ثانیا یہ کہ علامہ شربنلالی نے امداد الفتاح میں علامہ زیلعی کے اس قول کو رد کردیا ہے دوسری روایتِ معارضہ سے، پس قابلِ تعمیل نہیں۔
امداد الفتاح میں فرمایا اور تاتارخانیہ میں اس کے برعکس ہے ، یعنی جب قبر میں میّت گل کر مٹی بھی ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے کہ اس کی تعظیم وحرمت کے خلاف ہے کہ اس میّت کی تعظیم وحرمت اب بھی باقی ہے ۔ الخ
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ الامداد باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۵۹۹ )
اور مؤید ہے اس کی وجہ جو علامہ نابلسی علیہ الرحمۃ نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے :
معناہ ان الاارواح تعلم بترک اقامۃ الحرمۃ وبالا ستھانۃ فتاذی بذلک ۳؎ ۔
یعنی قبر پر تکیہ لگانے سے جو اہل قبور کو ایذا ہوتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ روحیں جان لیتی ہیں کہ اس نے ہماری تعظیم میں قصور کیا، لہذا ایذاپاتی ہیں ۔
(۳؎الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃالنصف الثامن الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۵)
اور شیخ الہند علیہ الرحمۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں :
شاید کہ مراد آنست کہ روحِ وے ناخوش میدارد وراضی نیست بتکیہ کردن برقبر وے ازجہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوے ۴؎ ۔
اس سے مراد غالباً یہ ہے کہ اس کی روح قبر پر تکیہ لگانے سے ناخوش ہوتی ہے کیونکہ ا س میں اس کی توہین ہے۔
(۴؎ اشعۃ اللمعات باب الدفن فصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۹۹)