وہابیہ رُسیاہ کے نزدیک ابنیاء واولیاء علیہم الصّلٰوۃوالسلام معاذاﷲ منہا مرکر مٹی ہوگئے ہیں
ان بدبختوں کے نزدیک ظاہری موت کے بعد یہ بالکل بے حس وبے شعور ہوجاتے ہیں اور مرکر معاذاﷲ (پناہ بخدا) مٹی میں مل جاتے ہیں ، ملّا اسمٰعیل دہلوی اپنی کتاب تفویت ا لایمان کے صفحہ ۶۰ میں حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شانِ ارفع واعلٰی میں بکتا ہے کہ: ''میں(عہ) بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے ولا ہُوں ۲؎ ''۔
عہ: سابقاً علامہ بصری علیہ الرحمۃ کے قول میں گزرا کہ نجدی نے جب قبور شہداءِ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو شہید کیا تو ان میں ان کے کفن اور بدن شریف سب سلامت تھے، اور صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو مدفون ہوئے تخمیناً بارہ سو سال گزر چکے تھے، پس ہزار تف ہے ملاّ اسمٰعیل او راس کے مقلدین وہابیہ رُوسیاہ پر کہ ان کا ایسا ناپاک عقیدہ ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات اقدس واطہر کے ساتھ کہ جو مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ اﷲ تعالٰی اہلسنت کو ان کی صحبتِ بد سے بچائے۔ امین!
جب سید المرسلین علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت ان ملا عنہ کا ایسا ناپاک خیال ہے اور ان کے روضہ اطہر اور شہداء وصحابہ کرام علیہم الرضوان کی قبور کو منہدم کرنے کا بیہودہ خیال ہے تو باقی اموات عامہ مومنین صالحین کی نسبت پوچھنا کیا ہے۔ جب قبور مومنین بلکہ اولیاء علیہم السلام اجمعین کا توڑنا اور منہدم کرنا شعارِ نجدیہ وہابیہ ہوا تو کسی کو جائز نہیں ہے کہ وہ صورت مسئولہ میں قبور مومنین اہلسنت کوتوڑ کر بلکہ ان کو کھود کر ان پر اپنی رہائش وآسائش کے مکان بناکر ان میں لذاتِ دنیا میں مشغول ومنہمک ہو ، جو قطعاً ویقینا اصحاب قبور کو ایذا دینا اور ان کی اہانت اور توہین کرنا ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔
اہلسنت کے نزدیک انبیاء وشہداء واولیاء اپنے ابدان مع اکفان کے زندہ ہیں
اہلسنت کے نزدیک انبیاء وشہداء علیہم التحیۃ والثناء اپنے ابدان شریفہ سے زندہ ہیں بلکہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ابدانِ لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں کہ وہ ان کو کھائے، اسی طرح شہداء واولیأ علیہم الرحمۃ والثناء کے ابدان وکفن بھی قبور میں صحیح و سلامت رہتے ہیں وہ حضرات روزی ورزق دئے جاتے ہیں،
علامہ سبکی شفاء السقام میں لکھتے ہیں:
وحیاۃ الشھداء اکمل واعلٰی فھذا النوع من الحیاۃ والرزق لایحصل لمن لیس فی رتبتھم، وانما حیاۃ الانبیاء اعلٰی واکمل واتم من الجمیع لانھا للروح والجسد علی الدوام علی ماکان فی الدنیا۱؎
شہداء کی زندگی بہت اعلی ہے، زندگی اور رزق کی یہ قسم ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی جوان کے ہم مرتبہ نہیں اور انبیاء کی زندگی سب سے اعلی ہے اس لیے کہ وہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہے جیسی کہ دنیا میں تھی اور ہمیشہ رہے گی۔
اور قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں :
'' اولیاء اﷲگفتہ اندارواجنا اجسادنایعنی ارواح ایشاں کار اجساد مے کنند وگاہے اجساد ازغایت لطافت برنگ ارواح مے برآید، می گویند کہ رسول خدا راسایہ نبود ( صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) ارواح ایشاں از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہند مے روند، وبسبب ایں ہمیں حیات اجساد آنہار ا درقبرخاک نمی خورد بلکہ کفن ہم می باند، ابن ابی الدنیا از مالک روایت نمود ارواحِ مومنین ہر جاکہ خواہند سیر کنند ،مراد از مومنین کاملین اند، حق تعالٰی اجسادِ ایشاں راقوتِ ارواح مے دہد کہ دوقبور نماز میخوانند (ا داکنند) وذکر می کنند وقرآن کریم مے خوانند ۲؎ ''
اولیاء اﷲ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے جسم ہیں۔ یعنی ان کی ارواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ ان کی ارواح زمین آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جاتی ہیں، اس لیے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کو نہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابن ابی الدنیاء نے مالک سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سَیر کرتی ہیں۔ مومنین سے مراد کاملین ہیں ، حق تعالٰی ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے اور ذکر کرتے ہیں اور قرآن کریم پڑھتے ہیں ۔
(۱؎ شفاء السقام الفصل الرابع من الباب التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۲۰۶)
(۲؎ تذکرۃ الموتٰی والقبور اردو ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ نوری کتب خانہ نوری مسجد اسلام گنج لاہور ص ۷۵)
اور شیخ الہند محدث دہلوی علیہ الرحمۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
اولیاء خدائے تعالٰی نقل کردہ شدندازیں دارفانی بداربقا وزندہ اند نزد پرودگار خود، ومرزوق اندوخوشحال اند، ومردم را ارزاں شعورنیست۱؎۔
اﷲ تعالٰی کے اولیاء اس دار فانی سے داربقا کی طرف کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق دیا جاتاہے، وہ خوش حال ہیں، اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الجہاد باب حکم الاسراء مطبع تیج کمار لکھنؤ ۳/ ۴۰۲)
اور علاّمہ علی قاری شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں :
لافرق لھم فی الحالین ولذ قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن ینتقلون من دارٍ الٰی دار ۲؎ الخ
اولیاء اﷲ کی دونوں حالتوں (حیات وممات) میں اصلاً فرق نہیں' اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔
(۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الجمعۃ فصل الثالث مطبع امدادیہ ملتان ۳ /۲۴۱)
علامہ جلا الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شرح الصدور میں اولیائے کرام علیہم الرضوان کی حیات بعد ممات کے متعلق چند روایات مستندہ لکھی ہیں جو یہاں نقل کی جاتی ہیں : امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدہ سرہ ، اپنے رسالے میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس اﷲ ثرہ المتاز سے روای ہے کہ میں مکہ معظہ میں تھا، بابِ بنی شیبہ پر ایک جوان مُردہ پڑا پایا، جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ مسکرایا اورکہا :
یاابا سعید اماعلمت ان الاحبّا احیاء وان ماتو ا وانما ینقلون من دارٍ الٰی دار۳؎ ۔
اے ابو سعید ! کیاتم نہیں جانتے کہ اﷲ تعالٰی کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں، وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں بدلائے جاتے ہیں۔
(۳شرح الصدور باب زیارۃ القبور وعلم الموتٰی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۸۶)
وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سّرہ، سے راوی ہیں:میں نے ایک فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا ان کا سرخاک پر رکھ دیا کہ اﷲ تعالٰی ان کی غربت پر رحم کرے۔ فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا:
یا ابا علی اتذللنی بین یدی من یدللنی
( اے ابو علی! تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھا تا ہے) میں عرض کی: اے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ فرمایا :
بل انا حَی وکل محب اﷲ حی لانصرنک بجاھی غدا ۴؎
( میں زندہ ہوں، اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے، بیشک وہ وجاہت وعزت جو مجھے روز قیامت ملے گی اس سے میں تیری مدد کروں گا)
(۴؎ شرح الصدور باب زیارۃ القبور وعلم الموتٰی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۸۶)
وہی جنان مستطاب حضرات ابراہیم بن شیبان قدس سرہ، سے راوی :''میرا ایک مرید جوان فوت ہوگیا، مجھ کو سخت صدمہ ہوا، نہلانے بیٹھا، گھبراہٹ میں بائیں طرف سے ابتداء کی، جوان نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی دہنی کروٹ میری طرف کی، میں نے کہا: جان پدر! تو سچا ہے مجھ سے غلطی ہوئی ''۔ ۱
(۱؎ شرح الصدور باب زیارۃ القبور و علم الموتٰی خلافت اکیڈمی سوات ص ۸۶)
وہی امام ، حضرت ابو یعقو ب سوسی نہر جوری قدس سرہ، سے راوی : '' میں نے ایک مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لٹایا اس نے میرا انگوٹا پکڑلیا۔ میں نے کہا: جان پدر ! میں جانتا ہوں کہ تو مردہ نہیں یہ تو صرف مکان بدلنا ہے، لے میرا ہاتھ چھوڑدے ''۔ ۲؎
(۲؎ شرح الصدور باب زیارۃ القبور و علم الموتٰی خلافت اکیڈمی سوات ص ۸۶)
مکہ معظمہ میں ایک مرید نے مجھ سے کہا: پیر مرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا، حضرت ایک اشرفی لیں، آدھی میں میرا دفن اور آدھی میں میرا کفن کریں۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا مریدمذکور نے آ کر طواف کیا، پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی، میں نے قبر میں اتارا۔ آنکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا: کیا موت کے بعدزندگی ؟ کہا:
اَنا حَی وکُلُّ مُحِبُّ اﷲِ حَیّ۳
(میں زندہ ہوں اور اﷲ تعالٰی کا ہر دوست زندہ ہے )۔
(۳؎ شرح الصدور باب زیارۃ القبور و علم الموتٰی خلافت اکیڈمی سوات ص ۸۶)