Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
94 - 243
مسئلہ ۱۳۸الف: از دہلی مدرسہ نعمانیہ محلہ بَلی ماراں مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مہتمم مدرسہ ۱۵ محرم الحرام۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد ہے اور اس کے متصل قبرستان ہے جس میں کہ آثار قبور ظاہر ہیں اب مسلمان چاہتے ہیں کہ ان قبروں کے آثار کو محوکر کے اس زمین پر گودام وغیرہ بنائیں اوراس پر مسجد بنائیں، پس ایسا فعل یعنی قبور کو محو کرکے اوپرمسجد نیچے گودام بنانا اور اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ جائز کہتے ہیں او ردلیل حدیث رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کو جو حضرت علی کرم اللہ تعالٰی  کو حکم دیاتھا پیش کرتے ہیں
لاتدع تمثالا الاطمستہ ولا قبر امشرفا الاسویتہ ۱؎
 ( کوئی مورت مٹائے بغیر اور کوئی قبر برا بر کئے بغیر  نہ چھوڑنا ۔ت) او ردوسری حدیث جس میں مسجدنبوی کے بنا کے وقت قبور توڑ نے کا ذکر ہے بھی پیش کرتے ہیں اور کہتا ہے کہ اس حکم کے مطابق ہم قبور کو برابر کریں گے او ران کے آثار کو مٹادیں گے اور مسجد ومکان اس قبرستان موقوفہ میں بنائیں گے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ احناف کا اس میں قول مفتٰی  بہ کیا ہے؟
(۱؎ صحیح مسلم        کتاب الجنائز        نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/ ۳۱۲)
الجواب

قول مفتی بہ امر خلافی میں ہوتا ہے۔ یہ حدیث شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہین قبور مسلمین ایک اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔ او روقف کی تغییر تین، عالمگیری میں ہے :
لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ ۲؎اھ فکیف عن اصلہ۔
  وقف کی ہیأت تبدیل کرنا جائز نہیں اورپھر سرے سے وقف ہی کو بدلنا کیسے جائز ہوگا !
 (۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ    الباب الرابع عشر فی المتفرقات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۹۰)
کہا ں قبر کی بلندی کہ حدِ شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم او رکہاں یہ کہ قبور مسلمین مسمار کرکے ان پر چلیں، اموات کو ایذا دیں، اس پر نماز پڑھ کر گناہ کے مرتکب ہوں ، نماز خراب کریں، ارشاد اقدس :
لاتصلوا علٰی  قبر ۳؎
 (قبرپر نماز نہ پڑھو ۔ت) کی مخالف کریں اورکہاں قبور مشرکین کھودکران کی نجاست سے زمین پاک کرکے مسجد اقدس کااس پر بنا فرمانا اور کہاں قبور مسلمین کو توہین، اﷲ عزّوجل فرماتا ہے :
افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون ۴؎  ۔
کیا ہم مسلموں کو مجرموں کی طرح کردیں، تم کیسا حکم رکھتے ہو؟ (ت)اس مسئلہ کی تمام تفصیل ہمارے رسالہ
اھلاک الوھابیین علٰی  توھین قبور المسلمین
میں ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
 (۳؎ صحیح مسلم   کتاب الجنائز    نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۱۲)              (۴؎ القرآن     ۶۸ / ۳۵ و ۳۶)
رسالہ

اہلاک الوھابیین علٰی  توھین قبور المسلمین (۱۳۲۲ھ)

( قبور  مسلمین کی توہین کی بِنا پر وہابیوں کی سرکوبی)
مسئلہ ۱۳۸ب: علمائے دین ومفتیان شرعِ متین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک گورستان ( اہلسنت) قدیم کی ( پرانی)قبروں کو عمداً کھود کر اپنے رہنے کے لیے مکان بنانا موافق مذہب حنفی کے جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسا کرنے میں اہل قبور کی توہین واہانت ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

ومنہ الھدایۃ الی الحق والصواب
جاننا چاہئے کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وعامہ مومنین اہلسنت کے ساتھ جو قلبی عداوت فرقہ نجدید وہابیہ کو ہے ایسی او رکسی فرقہ مبتدعہ کو نہیں ہے، اسی وجہ سے اس فرقہ محدثہ کے اکا بر ملاعنہ کی تصانیف اباطیل اہانتِ محبوبانِ خدا سے بھری پڑی ہیں، جس کا جی چاہے وہ نجدی ملا اسمٰعیل دہلوی وصدیق حسن بھوپالی وخرم علی و رشید گنگوہی وغیرہ کی تالیفاتِ باطلہ اٹھا کر دیکھ لے کہ قِسم قِسم کی اہانتوں سے پر ہیں۔ منجملہ ان کے ایک اہانت قبور انبیاء وشہداء واولیاء علیہم السلام کا منہدم ونابود تابمقدور کرنا اس فرقے کا شعار ہوگیا ہے۔
شیخ نجدی نے روضہ اقدس کو گرانے کا ارادہ کیا تھا
علامہ احمد بن علی بصری کتاب
فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوھاب
میں فرماتے ہیں:
منھا انہ صح انہ یقول لواقدر علی حجرۃ الرسول صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم لھد متھا ۱؎ ۔
ان میں سے ایک یہ بات صحیح ہے کہ وہ کہتاہے میں اگر قدرت پاؤں تو روضہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کو توڑ دوں ۔(ت)
 (۱؎ فصل الخطاب فی ردّ ضلالات ابن عبدالوہاب)
شیخ نجدی نے شہداء وصحابہ کرام کے مزار توڑے
اور یہی علامہ بصری ایک دوسرے مقام میں لکھتے ہیں:
اقول تھدیم قبور شھداء الصحابۃ المذکورین لاجل البناء علٰی  قبورھم ضلالۃای ضلا لتہ انتھی مختصرا ۲؎ ۔
 یعنی نجدی کا شہداء صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کی قبور کو قُبّوں کی وجہ سے توڑ ڈالنا بڑی ضلالت اورگمراہی اس نجدی کی ہے (بالاختصار) ۔ (ت)
(۲؎ فصل الخطاب فی ردّ ضلالات ابن عبدالوہاب)
اوریہی علامہ مذکور تیسرے مقام میں لکھتے ہیں:
قال بعضھم ولوکان المبنی علیہ مشھورا بالعلم والصلاح اوکان صحا بیا وکان المبنی علیہ قبّۃ وکان البناء علٰی  قدر قبرہ فقط ینبغی ان لا یھدم لحرمۃ نبشہ وان اندرس اذا علمت ھذا فھذ البناء علٰی  قبور ھٰؤلاء الشھداء من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی  عنہم لا یخلو اما ان یکون واجباً اوجائزاً بغیر کراہۃ وعلٰی  کل فلا یقدم علی الھدم الاّرجل مبتدی ضال لاستلزامہ انتھاک حرمۃ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم الواجب علٰی  کل مسلمٍ محبتھم ومن محبتھم وجوب توقیرھم وای توقیر ھم عند من ھدم قبور ھم حتی بدت ابدانھم واکفانھم کما ذکر بعض علماء نجد فی سوال ارسلہ الی انتہی مختصرا ۱؎ ۔
بعض علماء نے فرمایا کہ صاحب قبّہ اگر کوئی مشہور عالم، متقی یا صحابی ہے اور قبّہ صرف قبرکے برابر ہو تو اسے منہدم نہ کرنا چاہیے کیونکہ خواہ اس کا نشان بھی کیونہ مٹ جائے مگراس کا کھولنا جائز نہیں اب آپ معلوم ہونا چاہئے کہ ان شہید صحابہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کی قبور پر عمارات بنانا یا تو واجب ہوگا یا بلاکراہت جائز،۔ اوربہر صورت منہدم کرنا جائز نہیں، اوریہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے کو بدعتی اور گمراہ ہو کیونکہ اس سے اصحابِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی بے حرمتی ہوتی ہے، حالانکہ ان کی تعلیم اور توقیر ہر مسلمان پر واجب ہے، اب وہ لوگ تعظیم کرنے والے کیسے قرار پاسکتے ہیں جنھوں نے شہداء کی قبور کھود ڈالیں جبکہ بعض کے بعض کے جسم اور کفن بھی ظاہر ہوگئے، جیسا کہ بعض علماء نجد نے اس سوال کے جواب میں ذکر کیا اھ مختصراً
 (۱؎ فصل الخطاب فی ردّ ضلالات ابن عبدالوہاب)
Flag Counter