| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
مسئلہ ۱۳۲: از ہائی سکول نجیب آباد ضلع بجنور ، معرفت حمید حسن خاں طالبعلم درجہ نہم مسئولہ اﷲرکھا مستری ۲۱ محرم۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبر کا پختہ کرانا بہتر ہے یا نہ کرانا؟ اگر پختہ بنانا بہتر ہے تو اس کی تعمیر میں کن خاص اور ضروری باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے، مثلاً طول عرض بلندی او رصورت وغیرہ۔ بینوا توجروا
الجواب قبر پختہ نہ کرنا بہتر ہے ، اور کریں تو اندر سے کڑا کچا رہے، اوپر سے پختہ کرسکتے ہیں، طول وعرض موافق قبرمیّت ہو، اور بلندی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو، اورصورت ڈھلوان بہتر ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۳ تا۱۳۴: از بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ سید صفدر علی صاحب ۶ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں: (۱) کسی ولی اﷲ کا مزار شریف فرضی بنانا اور اس پر چادر وغیرہ چھڑھانا، اور اس پر فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب ولحاظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی مرشد اپنے مریدوں کے واسطے بنانے اپنے مرضی مزار کے خواب میں اجازت دے تو وہ قول مقبول ہوگا یا نہیں؟ (۲) اگر جنازہ میّت کا واسطے دفن کے جانب پچھم لے جائیں توکس طرح سے لے جانا چاہئے سرجانبِ غرب ہویا جانب پورب؟
الجواب (۱) فرضی مزار بنانا او راس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرناناجائز وبدعت ہے اور خواب کی بات خلافِ شرع امور میں مسموع نہیں ہوسکتی۔ (۲) میّت کو کسی طرف لے جانا ہو بہر حال سر آگے کی طرف رہے ۔ عالمگیری میں ہے :
فی حالۃ المشی بالجنازۃ یقدم الراس کذافی المضمرات ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جنازہ لے جانے میں سر آگے رکھا جائے گا۔ ایسا ہی مضمرات میں ہے ۔ ( ت)واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۲)
مسئلہ ۱۳۵: ازنوشتہ ضلع علی گڑھ ڈاک خانہ دتاؤلی مرسلہ محمد عمر خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلاًزید نے ایک قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا،بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے، ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں، روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید ا س آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے؟ ----------------------- آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے؟ کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟ کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟ آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟ نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا
الجواب قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎ ۔
گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۵/ ۶)
بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے،
قال تعالٰی : کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون ۲؎ ۔
وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔(ت)
(۲؎ القرآن ۵/ ۷۹)
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی،۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے،
قال تعالٰی: بیدہ عقدۃ النکاح ۳؎
( اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔ت)ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تک کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎ القرآن ۲/ ۲۳۷)
مسئلہ ۱۳۶: از قصبہ اوریا ضلع ایٹاوہ مرسلہ عبد الحی صاحب مدرسہ اسلامیہ ۹شعبان ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیرانِ پیر رحمۃ اﷲ علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنالیا گیا ہے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے مزار کی اینٹ دفن ہے۔ اس مزار میں ایسی جگہ جاکر عرس کرنا ،چادر چڑھا کیسا ہے؟ وہ قابل تعظیم ہے یانہیں؟
الجواب جھوٹا مزار بنانا اور اس کی تعظیم جائز نہیں۔
واﷲسبحانہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۷: از شہر محلہ کانکرٹولہ مرسلہ عبدالرحیم خاں ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص بچپن میں حافظ قرآن ہوا اور تمام عمر بدافعالی میں گزاری، ایک شوہر دار عورت سے جس کا شوہر نامرد تھا برسوں تعلق رہا او راس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، ان حرکات پر ماں باپ نے گھر سے نکال دیا۔ وہ اسی عورت کے گھر جارہا، پھر بیمار ہو کرواپس آیا اور مرگیا۔ اب زید کے والدین نے کوشش کرکے مسجد میں ایک بزرگ کی قبر پرانی تھی لیکن خام تھی اس کے برابر دفن کردیا، دونوں قبروں کو بہت اچھا پختہ بنوادیا۔ اب اس کے والدین نے دنیا والوں کے خیالات بدلنے کی غرض سے اس قبر پر بہت کثرت سے ہار پھول چڑھانے شروع کردیا۔ اور مسجد میں کوڑا وغیرہ ہوان کو کچھ مطلب نہیں،لیکن قبر پر دن میں دو ایک مرتبہ جھاڑو دینا اور دلوانا او رلوگوں سے یہ کہناکہ دیکھو کیسی رونق ہے اور بعض جاہل لوگ نے قبر پر سے مراد مانگنے کی ترغیب دینا شروع کیا۔ چنانچہ اسی قبر کو ابھی بیس پچیس دن گزرے ہوں گے کہ چادر بہن اور بھائی چڑھانے لگے اور قبر کو تعظیم کے ساتھ بوسہ دینا شروع کیا۔ اور آئندہ کو خدا جانے کیا حالت کو ان کے والدین پہنچادیں، ایسی حالت میں قبر کو پوجنے والے اور شہرت کرنے والے اور کرانے والے اور مسجد میں جھاڑو کو نہ دینے والے ، اور قبر پر بلا ناغہ چڑھاوادینا اور مشہور کرنا، شرع شریف میں کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا
الجواب اسے پوچنا نہیں کہتے۔ یہ سائل کی بہت زیادتی ہے۔ تکریم قبور کو وہابیہ پوجنا کہتے ہیں، او روہابیہ خود شیطان کو پوجتے ہیں، باقی ایسے شخص کی قبر کو ولی کا مزار ٹھہرانا اورمسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے اس کے یہ اہتمام کرنا اور لوگوں کو وہاں مراد مانگنے کی ترغیب دینا یہ ضرور مکرو زُور ہے۔ حدیث میں فرمایا:
من غشّنا فلیس منّا ۱؎
( جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ صحیح مسلم باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم من غش فلیس منا نور محمد اصح المطابع کراچی۱/ ۷۰)