یسوی المین علیہ والقصب لاالاٰجر المطبوخ والخشب لوحولہ امافوقہ فلا یکرہ ابن ملکوجاز حولہ بارض رخوۃ کالتابوت ۱ ۔
اس پرکچی انیٹیں ا وربانس چُن دے ، پکی انیٹیں اور لکڑی اس کے گرد نہ لگائے، اوپر ہو تومکروہ نہیں، ابن الملک۔ او رنرم زمین ہو تو ا س کے گرد بھی جائز ہے جیسے تابوت ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی۱/ ۱۲۵)
حلیہ پھرردالمحتار میں ہے :
کرھوالا جرو الواح الخشب وقال الامام التمرتاشی ھذا ان کان حول المیّت وان کان فوقہ لایکرہ لانہ یکون عصمۃ من السبع وقال مشائخ بخار ا لایکرہ الاٰجرفی بلد تنا لمساس الحاجۃ لضعف الاراضی ۱؎ ۔
علماء نے پکی اینٹوں او رلکڑی کے تختوں کو مکروہ کہا ہےاورامام تمرتاشی نے فرمایا: یہ اس وقت ہے جب میّت کے گرد ہو، اور اگر اس کے اوپر ہو تو مکروہ نہیں اس لیے کہ یہ درندے سے حفا ظت کا ذریعہ ہوگا، مشائخ بخارا نے فرمایا کہ ہمارے دیار میں پکی اینٹیں مکروہ نہیں کیونکہ زمین کمزور ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت ہے ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۰)
خانیہ و خلاصہ وہندیہ میں ہے :
یکرہ الاٰجرفی اللحد اذاکان یلی المیّت اما فیما وراء ذلک لاباس بہ ویستحب للبن والقصب ۲؎ ۔
لحد میں پکّی اینٹ مکروہ ہے جبکہ میّت سے متصل ہو اس کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں، اور مستحب کچی اینٹ اور بانس ہے ۔(ت)
ہمارے دیار میں شق اختیار کی گئی ہے اس لیے کہ زمین نرم ہے جس میں لحد متعذر ہے یہاں تک کہ علماء نے پکّی اینٹ، لکڑی کے صندوق ا ورتابوت کی اجازت دی ہے اگر چہ لوہے کا ہو۔ (ت)
(۴؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۹۵)
بحرالرائق میں ہے:
قیدہ الامام السرخسی بان لایکون الغالب علی الاراضی النزوالرخاوۃ فان کان فلاباس بھما کا تخاذتا بوت من حدید لھذا۱؎ ۔
امام سرخسی نے اس حکم کو اس سے مقید کیا ہے کہ زمین پر تری ا ورنرمی غالب نہ ہو۔ اگر ایسی ہو تو پکی اینٹ اور لکڑی لگانے میں کوئی حرج نہیں ، جیسے اس بناء پر لوہے کا تابوت لگانے میں حرج نہیں ۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۹۴ )
نیز بحر وحاشیہ ابی السعود الازہری علی الکنز میں ہے :
وقیدہ فی شرح المجمع بان یکون حولہ امالوکان فوقہ لایکرہ لانہ یکون عصمۃ من السبع ۲؎ ۔
شرح مجمع میں یہ قید لگائی ہے کہ اس کے گرد ہو لیکن اگر اوپر ہو تو مکروہ نہیں اس لیے کہ اس سے درندوں سے حفاظت رہے گی ۔(ت)
(۲؎ فتح المعین علٰی شرح الکنز لملامسکین باب الجنائز فصل فی الصلٰوۃ علی المیّت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ /۱۹۴)
کچّی اینٹ اور بانس چُناجائے، لکڑی اور پکی اینٹ نہ ہو ، اور نرم زمین میں اس کی بھی اجازت ہے ۔(ت)
(۳؎ دررالحکام فی شرح غرر الاحکام باب الجنائزمطبعۃ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ۱/ ۱۶۷)
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
انما یکرہ الاجرفی اللحد ان کان یلی المیّت امافی وراء ذلک فلا باس بہ کذافی الخلاصۃ وقال الامام علی السغدی اتخاذ التابوت فی دیارنا افضل من ترکہ ۴؎ ۔
لحد میں پّکی اینٹ اسی صورت میں مکروہ ہے کہ میّت سے متصل ہو، اس کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں، ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام علی سغدی نے فرمایا: ہمارے دیار میں تابوت لگانا نہ لگانے سے بہتر ہے ۔(ت)
(۴؎ شرح نقایہ برجندی فصل فی صلٰوۃ الجنائزۃ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۸۲)
مجمع الانہر میں ہے:
یکرہ الاٰجروالخشب ای کرہ ستر اللحد بھما وبالحجارۃ والجص لکن لوکانت الارض رخوۃ جاز استعمال ماذکر ۵ ؎۔
پکی اینٹ اور لکڑی مکروہ ہے صرف لحد کو ان سے اور پتھروں سے اور گچ سے چھپانا مکروہ ہے لیکن اگرزمین نرم ہو تو ان سب کا استعمال جائز ہے ۔(ت)
(۵؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی الصلٰوۃ المیّت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۸۶)
کشف الغطاء میں ہے:
الان دردیارنا نیز بسبب رخاوت زمین ہمیں متعارف است حتی کہ تجویز کردہ اندمشائخ درامثال ایں دیار بایں علت خشت پختہ وچوب وگرفتن تابوت راکہ ازآہن باشد ۱؎ ۔
اب ہمارے دیار میں بھی زمین کے ڈھیلے پن کی وجہ سے یہی متعارف ہے یہاں تک کہ مشائخ نے اس طرح کے دیار میں، اُسی علت کی وجہ سے پکی اینٹ اور لکڑی او رآہنی تابوت لگانے کو جائز کہا ہے۔(ت)
(۱؎ کشف الغطاء )
اسی میں ہے:
درتجنیس گفتہ رخصت دادہ است، امام اسمٰعیل زاہد کہ گردانیدہ شوند خشت ہائے پختہ خلف خشتہائے خام بہ لحد وتحقیق وصیت کردہ بود بوے ومشائخ بخارا گفتہ اند درزمین ماخشت پختہ اگر بنہند مکروہ ونباشد از برائے نرمی زمین پس بہر جاکہ زمین نرم باشد باک نیست بنہادن خشت پختہ ومانندآں از چوب ۲؎ ۔
تجنیس میں ہے کہ امام اسمٰعیل زاہد نے اس کی رخصت دی ہے کہ لحد میں کچی اینٹوں کے پیچھے پکی اینٹیں لگائی جائیں، اور اس کی وصیت بھی فرمائی تھی، مشائخ بخارا نے فرمایا ہے کہ اگر ہماری زمین میں پکی اینٹ لگائیں تو مکروہ نہ ہوگا اس لیے کہ زمین نرم ہے تو جہاں بھی زمین نرم ہو، پکی اینٹ او راسی طرح لکڑی کےتختے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ (ت)
(۲؎ کشف الغطاء ۵۳ )
ان عبارات متظافرہ سے واضح ہواکہ فعلِ زید بغرض مذکور ہرگز ہرگزکسی طرح قابل مواخذہ نہیں وانا اقول ( اور میں کہتا ہوں ۔ت)بالفرض کراہت ہی مانتے تو مسئلہ خصوصاً ایسے تصریحات جماعات کثیرہ ائمہ کے بعد زینہار حدِ تفسیق تک بھی نہیں پہنچ سکتا کہ اس کی اقتداء کو مکروہ ہی کہا جائے نہ کہ عدم جواز، یہ محض جہل بعید و تعصبِ شدید ہے، معہذا نصوص سابقہ سے واضح ہوا کہ پکی اینٹ او رلکڑی کا ایک حکم ہے۔ اصل سنت کچی اینٹ اور نرکل سے چھپانا ہے ، لکڑی کے تختے اڑانے عام طورپر ان بلاد میں، حضرات متعرضین بھی استعمال کررہے ہیں، اپنے اور مولویوں کے پیچھے نماز ناجائز کیوں نہیں کہتے، مگر تحکم ان صاحبوں کاداب قدیم ہے،