Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
91 - 243
نورالایمان میں ہے :
قدنقل الشیخ الدھلوی فی مدارج عن مطالب المومنین ان السلف اباحوا  ان یبنی علی قبر المشایخ والعلماء المشہورین قبۃ لیحصل الاستراحۃ الزائرین و یجلسون فی ظلھا وھکذا فی المقاتیح شرح المصابیح وقد جوزہ اسمٰعیل الزاھدی الذی من مشاھیر الفقہاء ۴؎ ۔
شیخ محقق دہلوی نے مدارج النبوۃ میں مطالب المومنین سے نقل کیا ہے کہ سلف نے مشہور مشائخ وعلماء کی قبروں پر قبے تعمیر کرنا جائز ومباح رکھا ہے تاکہ زائرین کو آرام ملے اور اس کے سائے میں بیٹھ سکیں، اسی طرح مفاتیح شرح مصابیح میں بھی ہے اور مشاہیر فقہاء میں سے اسمٰعیل زاہدی نے بھی اسے جائز قراردیا ہے ۔(ت)
 (۴؎ مدارج النبوۃ بحوالہ مطالب المومنین وصل درنماز جنازہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱/ ۴۲۰)
علامہ سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں صرحۃً فرمایا کہ اس میں کچھ کراہت بھی نہیں۔
حیث قال فی مسألۃ الدفن فی الفساقی ان فی نحو قرافۃ مصر لایتأتی للحدودفن الجماعۃ لتحقق الضرورۃ واماالبناء فقدم تقدم الاختلاف فیہ ، ومام الاختلاط فللضرورۃ، فاذا فعل الحاجزبین الاموات فلا کراھۃ ۱؎ ۔
تَہ خانوں کے اندر تدفین کے مسئلہ میں لکھتے ہیں : قرافہ مصر جیسی جگہ میں لحد نہیں بن پاتی او رکئی ایک آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرنا مجبوری کی وجہ سے ہے ۔ رہی تعمیر تو اس بارے میں ختلاف گزر چکا ہے، اور اختلاط تو مجبوراً ہے ۔ اگر مُردوں کے درمیان آڑ کردی جائے تو کوئی کراہت نہیں ۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی حمل المیّت ودفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۳۶)
نہایت یہ کہ امام اجل ابوعبد اﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی نے تنویر الابصار و جامع البحارپھر علامہ محقق علاءالدین محمد دمشقی نے شرح تنویر پھر فاضل جلیل سیّدی احمد مصری نے حاشیہ مراقی میں تصریح وتقریر فرمائی کہ قولِ جواز ہی مختار ومفتی بہ ہے۔
وھذا الفظ العلامۃ الغزی لایرفع علیہ بناء، وقیل لاباس بہ وھوالمختار ۲؎ اھ
یہ علامہ غَزّی کی عبارت ہے : اس پر کوئی عمارت بلند نہ کی جائے اورکہا گیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، اور یہی مختار ہے اھ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار   باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۱۲۵)
بعد تصریح صریح افتاء وترجیح ، مجال کلام کیا ہے،
ھذا ینبغی تحقیق المقام بتوفیق الملک المنعم العلام وبہ یحصل التوفیق بین کلمات الاعلام واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اس مقام کی تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے بادشاہ محسن علّام کی توفیق سے۔ اور اسی سے علمائے اعلام کے کلمات میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم زیادہ کمال واستحکام والا ہے (ت)
مسئلہ ۱۲۸ تا ۱۲۹: از پنڈول بزرگ، ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ر بیع الاول شریف ۱۳۳۷ ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) بزرگوں کے مزار پر فاتحہ، قرآن پڑھنے اور کھڑے ہوکر وسیلہ چاہنے کے لیے بنادے اور عُرس کرے کرائے تو جائز ہے یا نہیں؟

(۲) کسی بزرگ کے روضے کے سامنے قبریں ہیں اور وسعتِ جگہ کے لیے اس قبہ سے لگا کر اس گرد کی قبر پرمثل سائبان کے پایہ زینہ دیگر چھپر ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

(۱) جائز ہے کمافی مجمع بحار الانوار ( جیساکہ مجمع بحار الانوار میں ہے ۔ت) ہاں منکراتِ شرعیہ مثل ومزامیر سے بچنا لازم ہے۔

(۲) کسی قبر پرکوئی پایہ چننا جائز نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۰: ازموضع شرشدی ، ڈاکخانہ رفینی، ضلع نواکھالی ، مرسلہ سید حمید الدین صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۸ھ
ماقول علمائنارحمھم اﷲ تعالٰی
( ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی کا کیا ارشاد ہے ۔ت) ایک نہایت مشہور ومعروف بزرگ کا اتنقال ہوا اس کے وارث نے بایں نیت ا س پر گھاس کی چھت بنوادی ہے کہ زائرین اطمینان کے ساتھ صیف وشتا میں قرآن مجید پڑھ کر ثواب رسانی کرسکیں اور اس بزرگ کی قبرکا  نشان باقی رہے تاکہ لوگ اس سے فیض حاصل کرسکیں، اس میں نہ چراغ جلایا جاتاہے، نہ چاندنی تانی گئی ہے نہ کسی کوقبر پرستی او رنہ قدمبوسی کی اجازت ہے، اصل قبرو متصل زمین خام ہے ۔
الجواب

صورتِ مذکورہ میں وہ بلاشُبہہ جائز ہے، او ربنوانے والا اپنی نیک نیتی پر ثواب کا مستحق ہے، اور اس میں زائروں اور تلاوت کرنے والوں کے لیے چرا غ بھی روشن کریں،یہ قبر پر چراغ نہیں، مجمع بحار الانوار جلد ثالث میں ہے:
قداباح السلف البناء علٰی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء  لیزورھم الناس ویستریحون فیہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
سلف نے اہل فضل اولیاء وعلماء کی قبروں پر عمارت بنانا مباح قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ا س میں آرام لیں ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ تکملہ مجمع بحار الانوار    تحت لفظ '' قبر''    منشی نولکشور لکھنؤ    ۳/ ۱۴۰)
مسئلہ ۱۳۱: از بجنور مرسلہ شیخ معین الدین صاحب ماسٹر پٹواری اسکول ضلع بجنور ۲۱ جمادی الاخری ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلحاظ نرمی زمین وحفظ نعش اپنے پیر طریقت کی قبر کو پختہ بنوایا اور سالیانہ تاریخ وفات شیخ پر قرآن شریف اور درود وکلمہ پڑھوا کر شیخ مذکور کی رُوح پر فتوح کو ایصال ثواب کرتا ہے اور بامید فیضان وحلِ مشکلات شیخ کی قبر پر جاکر بیٹھتاہے اور وساطۃً اس سے استمداد کرتا ہے تو یہ ایصال ثواب او راستمداد عن الاموات زید کا جائز ہے یانہیں ار ارتکاب عمل ہذا زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

امواتِ مسلمین کو ایصال ثواب بے قید تاریخ خواہ بحفظ تاریخ معیّن مثلاً روزِ وفات جبکہ اس کاالتزام بنظرِ تذکیر وغیرہ مقاصد صحیحہ ہو،نہ اس خیال جاہلانہ سے کہ تعیین شرعاً ضروریا وصولِ ثواب اسی میں محصور، یو نہی عرس مشائخ کہ منکرات شرعیہ مثلاً رقص ومزامیر وغیر سے خالی ہو۔، اسی طرح اولیائے کرام وسائل بارگاہ ونوابِ حضرت احیائے معنی واموات صورۃ قدست اسرارہم سے استعانت واستمداد جبکہ بطور توسّل وتوسط وطلبِ شفاعت ہو، نہ معاذاﷲ بظنِ خبیث، استقلال وقدرت ذاتہ، جس کا توہم نہ کسی مسلم سے معقول نہ مسلمان ہونے پر سوئے ظن مقبول، یہ سب امور شرعاً جائز وروا ومباح ہیں جن کے منع پر شرع مطہرہ سے اصلاً دلیل نہیں۔ فقیر غفر اﷲ تعالٰی نے متعدد مسائل ورسائل مندرجہ فتاوٰی فقری مسمی بہ
البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ  المشارقۃ
میں ان سب مسئلوں کی تحقیق انیق بروجہ کافی ذکر کی۔اور دربارہ استعانت خاص ایک رسالہ مسمّی بہ برکات الامداد لاھل الاستمداد تالیف کیا۔ ان کے بعد تفصیل تازہ کی حاجت نہیں، اور قبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجادر حمہم اﷲ تعالٰی یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میّت کے متصل یعنی اس کے آس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃً قبر اسی کا نام ہے بلکہ گڑھا کچّا اور بالائے قبر پختہ ہے تو مطلقاً ممانعت نہیں، یہاں تک کہ امامِ اجل فقیہِ مجتہد اسمٰعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچّے چوکے کی تَہ ہواور اپنی قبر مبارک میں یونہی کرنے کی وصیت فرمائی او رمتصل میّت ممنوع مکروہ ، مگر جبکہ بضرورت تری ونرمی زمین ہو تو ا س میں بھی حرج نہیں۔
Flag Counter