Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
90 - 243
جہاں ان سب محذورات سے پاک ہو وہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ ولہذا مولانا علی قاری نے بعد نقل کلام مذکور تورپشتی فرمایا:
قلت فیستفاد منہ انہ اذا کانت الخیمۃ لفائدۃ مثل ان یقعد القراء تحتھا فلا تکون منھیۃ، قال ابن الھمام واختلف فی اجلاس القارئین لیقرأ واعند القبر والمختار عدم الکراھۃ ۱؎ ۔
میں کہتا ہوں تو اس سے مستفاد ہو اکہ جب خیمہ کسی فائدہ کے تحت ہو مثلاً یہ کہ قرآن پڑھنے والے اس کے نیچے بیٹھیں گے تو ممنوع نہ ہوگا۔ ابن ہمام نے فرمایا: قبر کے پاس بیٹھ کر پڑھنے کے لیے جوٹاٹ بچھتے ہیں ان سے متعلق اختلاف ہے، مختاریہ ہے کہ کراہت نہیں۔(ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب دفن المیّت فصل اول            مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴/ ۶۹)
شیخ الاسلام  کشف الغطاء میں فرماتے ہیں:
اگر غرضے صحیح داشتہ باشد ' دراں باک نیست بآں چنانکہ دربنائے قبر بہ نیت آسائش مردم وچراغ افرو ختن درمقابربقصد دفع ایذائے مردم از تاریکی راہ ونحو آں گفتہ اند، کذا یفھم من شرح الشیخ ۲؎ ۔
اگر کوئی صحیح غرض ہو تو اس میں حرج نہیں جیسے لوگوں کے آرام کے لیے قبر کے پاس عمارت بنانے اور راستے کی تاریکی سے لوگوں کی تکلیف دفع کرنے کے لیے قبرستان میں چراغ جلانے ا وراس طرح کے کاموں میں علماء نے فرمایا ہے____ شیخ کی شرح سے ایسا ہی سمجھ میں آتا ہے ۔(ت)
 (۲؎ کشف الغطاء    باب دفن میّت    مطبع احمدی دہلی        ص ۵۵)
صحیح بخاری شریف میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ لعن اﷲ الیہود والنصاری اتخذ واقبور انبیاء ھم مسجدا قالت ولولا ذاک لابرزوا قبرہ ۳؎ ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتی ہے کہ حضور نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: یہود ونصارٰی پر خدا کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ اگریہ ارشاد نہ ہوتا تو حضور کی قبر انور نمایاں رکھی جاتی ۔(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری  کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذالمسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۷)
علامہ قسطلانی ارشاد الساری میں زیر حدیث مذکور لکھتے ہیں:
لکن لم یبرز وہ ای لم یکشفوہ بل بنوا علیہ حائلا ۱؎۔
لیکن اسے نمایا اور منکشف نہ رکھا بلکہ اس پر ایک حائل بنادیا ۔(ت)
 (۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری  کتا ب الجنائز     دارالکتاب العربی بیروت    ۲/ ۴۳۰)
جذب القلوب میں فرمایا:
چوں دفن سرورِ انبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ وسلم بموجب حکمِ الہٰی ہم درحجرہ شریفہ شد۔ عائشہ صدیقہ نیز درخانہ خود ساکن می بودومیان او و قبرشریف پر دہ نہ بود، و در آخر بسبب جرأت و عدم تحاشی مردم از درآمدن برقبرشریف وبرداشتن خاک ازاں خانہ را دوقسم ساخت ودیوارے درمیان مسکن خود وقبر شریف کشید وبعد ازاں کہ امیر المومنین عمر درمسجد زیادت کر دہ حجرہ راازخشت خام بناکردو تازمان حدوث عمارت ولید ایں حجرہ ظاہر بود عمر بن عبدالعزیز بحکم ولید بن عبدالملک آں راہدم کردو بحجارہ منقوشہ برآورد۔ برظاہر آں حظیرہ دیگر بناکرد وہیچکدام ازیں دودرے نگذاشت از عروہ روایت می کنند کہ وے بہ عمربن عبدالعزیز گفت، اگر حجرہ شریفہ رابرحالِ خود گزارند وعمارتے گردآں برآرند احسن باشد ۲؎ الخ(ملخصاً)
جب سرورِ انبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حکم الہٰی کے باعث حجرہ شریفہ ہی میں دفن کردیاگیا عائشہ صدیقہ بھی اپنے گھر میں سکونت پذیر تھیں، ان کے اور قبر شریف کے درمیان پردہ نہ تھا، آخر میں قبر شریف کے پاس بیباکی سے لوگوں کے بے تحاشہ آنے اور وہاں کی خاک لے جانے کی وجہ سے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ا ور اپنے مسکن اور قبر شریف کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی، جب امیر المومنین حضرت عمر نے مسجد میں اضافہ کیا تو حجرہ کی عمارت کچی اینٹوں کی بنادی، ولید کے زمانہ کی تعمیر جدیدتک یہ حجرہ ظاہر تھا، عمر بن عبد العزیز نے ولید بن عبد الملک کے حکم سے اسے منہدم کرکے منقش پتھروں سے بنایا او را س کے بیرونی حصہ پر ایک اور حظیرہ بنایا اور ان دو دروازوں میں سے کوئی نہ چھوڑا۔ حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انھوں نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا اگر حجرہ شریف کو اپنے حال پر رکھتے اور اس کے گرد ایک عمارت بنادیتے تو بہتر ہوتا الخ ( ملخصاً) (ت)
 (۲؎ جذب القلوب   باب ہفتم دربیان تغیرات الخ    نولکشور لکھنؤ  ص ۱۲۱)
لاجرم ائمہ کرام نے گرِد قبورِ علماء ومشائخ قدست اسرارہم اباحتِ بناکی تصریح فرمائی ۔ علامہ طاہر فتنی بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں:
وقد اباح السلف ان یبنی علی قبر المشایخ والعلماء المشاھیر لیزورھم الناس و یستریحوا بالجلوس فیہ ۱؎ ۔
سلف نے مشہور علماء ومشایخ کی قبروں پر عمارت بنانے کی اجازت دی ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کو آئیں او راس میں بیٹھ کر آرام پائیں ۔(ت)
 (۱؎ مجمع بحارالانوار    تحت لفظ ''شرف''    منشی نولکشور لکھنؤ    ۲/ ۱۸۷)
بعینہ اسی طرح علامہ علی قاری مکی نے بعد عبارت مسطورہ ذکر فرمایا کہ
وقد اباح السلف البناء ۲؎ الخ
 ( سلف نے علماء ومشائخ کی قبور پر عمارت بنانے کی اجازت کی ہے ۔ت)
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب دفن المیّت    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴/ ۶۹)
کشف الغطاء میں ہے :
درمطالب  المومنین گفتہ کہ مباح کردہ اند سلف بناء رابر قبر مشائخ علمائے مشہور تامردم زیارت کنند واستراحت نمایند بجلوس درآں ولیکن اگر برائے زینت کنند حرام است ودرمدینہ مطہرہ بنائے قبہا بر قبور اصحاب درزمان پیش کردہ اند ظاہر آنست کہ آں بتجویز آں وقت باشدو برمرقدِ منور آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نیز قبہ عالی ست ۳؎ ۔
مطالب المومنین میں لکھا ہے کہ سلف نے مشہور علماء و مشایخ کی قبروں پر عمارت بنانا مباح رکھا ہے تاکہ لوگ زیارت کریں اور اس میں بیٹھ کر آرام لیں، لیکن اگر زینت کے لیے بنائیں تو حرام ہے مدینہ منورہ میں صحابہ کی قبروں پر اگلے زمانے میں قبے تعمیر کئے گئے ہیں، ظاہر یہ ہے کہ اس وقت جائز قراردینے سے ہی یہ ہوا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مرقدِ انور پر بھی ایک بلند قبہ ہے ۔(ت)
 (۳؎ کشف الغطاء    باب دفن میّت    مطبع احمدی دہلی    ص۵۵)
Flag Counter