Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
89 - 243
مسئلہ ۱۲۵:  از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

قبر پر درخت لگانا، دیوار کھینچنا یا قبرستان کی حفاظت کے لیے اس کے چاروں طرف کھود کر، جس میں قدیم قبریں بھی ہیں، محاصرہ کرناجائز ہے یا نہیں؟
الجواب

حفاظت کے لیے حصار بنانے میں حرج نہیں، اور درخت اگر سایہ زائرین کے لیے ہو  اچھا ہے، مگر قبرستان سے جُدا ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۶: از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالبعلم ۱۸ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان کی کوئی چیز مثلاً لکڑی واینٹیں وغیرہ مسجد میں صرف کرنایا اُن کی قیمت لے کر مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہ؟
الجواب

قبرستان میں پیڑ جس نے لگائے ان کی لکڑی او رمقبرہ جس نے بنوایا اس کی اینٹیں ا س لگانے بنوانے والے کی ملک ہے وہ جوچاہے کرے، اور اگر مالک کا پتا نہیں یا درخت خودرَو ہیں تو مسجد میں صرف کرسکتے ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷: از سہانپور مرسلہ مولوی امیر یار خاں صاحب امام مسجد جامع ۲۰ شوال ۱۳۱۱ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ
 ( اﷲ آپ پر رحم کرے، آپ کا کیا فرمان ہے ۔ت) ا س مسئلہ میں کہ ایک بزرگ کی قبر خام ہے اس اہل قبر سے اس کے مقتدین کے لیے کمال درجہ کا فیض مثل اویسیہ کے اور حصول تسکین قلب ومراقبہ واشغال متصور ہے۔ مگر چونکہ موسم برسات میں بباعث آب وسیلاب کے اور دیگر مواسمِ گرما وغیرہ میں معتقد ین کو وہاں بیٹھنے کی بہت تکلیف رہتی ہے، پس اگر معتقدین مذکورین واسطے اپنے استفاضہ طریقت اس قبر کے گرداگرد چبوترہ پختہ دیوار او رچار دیواری پختہ بنادیں او راوپر سے کھلی ہوئی رکھیں اور قبر کو خام رہنے دیں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

صورت مذکورہ فی السوال جائز ہے۔ ائمہ دین نے مزراتِ حضرات علماء ومشائخ قدست اسرار ہم کے گرد زمین جائز التصرف میں اس غرض سے کہ زائرین ومستفیدین راحت پائیں عمارت بنانا جائز رکھا، اور تصریحات فرمائیں کہ علت منع نیت فاسدہ یا عدم فائدہ ہے توجہاں نیت محمود اور نفع موجود منع مفقود۔ تفصیل صور وتحقیق اغر اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر پہلے عمارت بنالی جائے بعدہ اس میں دفن واقع ہو جب تو مسئلہ بناء علی القبر سے متعلق ہی نہیں کہ یہ اقبار فی البناء ہے، نہ بناء علی القبر، علامہ طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن، پھر علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام،

پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین، پھر علامہ سید احمد مصری حاشیتین در ومراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
واللفظ الغنیۃ قال قال فی البرھان یحرم البناء علیہ للزینۃ ویکرہ للاحکام بعد الدفن لاالدفن مقام بنی فیہ قبلہ لعدم کونہ قبر حقیقۃ بدونہ ۱؎ اھ
الفاظ غنیہ کے ہیں کہا کہ برہان میں ہے کہ قبر پر زینت کے لیے عمارت بنانا حرم ہے او ردفن کے بعد پختگی ومضبوطی کے لیے بنانا مکروہ ہے، جہاں پہلے سے عمارت تھی وہاں دفں مکروہ نہیں کیونکہ بغیر دفن کے وہ جگہ حقیقۃً قبر نہیں اھ (ت)
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام فی بغیہ  درر الاحکام  باب الجنائز  مطبعۃ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت بیروت ۱/  ۱۶۷)
 اور اگر دفن کے بعد تعمیر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ خود نفسِ قبر پر کوئی عمارت چُنی جائے اس کی ممانعت میں اصلاً شک نہیں کہ سقفِ قبر و ہوائے قبر حق میّت ہے، معہذا اس فعل میں ا س کی اہانت واذیت، یہاں تک کہ قبر پر بیٹھنا ، چلنا ممنوع ہوا نہ کہ عمارت چننا، ہمارے بہت علمائے مذہب قدست اسرارہم نے احادیث وروایات نہی عن النباء سے یہی معنٰی مراد لیے اور فی الواقع بناء علی القبر کے حقیقی معنٰی یہی ہیں۔ گرد قبر کوئی مکان بنانا حول القبر ہے کہ علی القبر۔جیسے صلٰوۃ علی القبر کی ممانعت بجنب القبر کو شامل نہیں
کما نص علیہ العلماء قاطبۃ وبیناہ فی فتاوٰنا
 ( جیسا کہ علماء نے بالاتفاق اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے ۔ت)
امام فقیہ النفس فخر الملۃ والدین اوزجندی خانیہ میں فرماتے ہیں:
لا یجصص القبر لماروی عن البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ انھی عن التجصیص و التقضیض وعن البناء فوق القبر، قالوا اراد بالبناء السفط الذی یجعل علی القبر فی دیار نالماروی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال لایحصص القبر ولایطین ولایرفع علیہ بناء وسفط ۱؎ ۔
قبر کو گچ سے پکا نہ کیا جائے گا ا س لیے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ حضور نے گچ اور چونے سے پختہ کرنے سے اور قبر کے اوپر عمارت بنانے سے ممانعت فرمائی ہے، علماء نے فرمایا عمارت سے مراد وہ سفط ہے جو ہمارے دیار میں قبر پر بنایا جاتا ہے اس لیے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: قبر کو گچ اور گارے سے پختہ نہ کیا جائے اور نہ اس پر عمارت او رسفط بلند کیا جائے ۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    باب غسل المیّت الخ            منشی نولکشور لکھنؤ    ۱/ ۹۲)
امام طاہرین بن عبدلرشید بخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں:
لا یرفع علیہ بناء قالوا ارادبہ السفط الذی نجعل فی دیارنہ علی القبور وقال فی الفتاوی الیوم اعتاد واالسفوط ۲؎ ۔
اس پر کوئی عمارت اونچی نہ کی جائے، علماء نے فرمایا: اس سے وہ سفط مراد ہے جو ہمارے دیار میں قبروں پر بنایا جاتا ہے، اور فتاوٰی میں ہے کہ اس زمانے میں سفطوں کی عادت ہوچکی ہے ۔(ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الخامس والعشرون فی الجنائز    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۲۲۶)
رحمانیہ میں نصاب الاحتساب سے ہے :
لایجوز لاحد ان یبنی فوق القبور بیتا اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور فلا یجوز لاحد التصرف فی ھواء قبرہ ۳؎ ۔
قبر کے اوپر گھر یا مسجد بناناجائز نہیں اس لیے کہ قبر کی جگہ میّت کا حق ہے تو کسی کے لیے اس قبرکی فضا میں تصرف روا نہ ہوگا ۔(ت)
 (۳؎ رحمانیہ)
ہندیہ میں ہے:
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیّت ۴؎ ۔
قبروں پر چلنے سے گنہگار ہوگا اس لیے کہ قبر کی چھت حقِ میّت ہے ۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشرفی زیارۃ القبور الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۱)
دوسسرے یہ کہ گرد قبر کوئی چبوترہ یا مکان بنایاجائے، یہ اگر زمین ناجائز تصرف میں ہو جیسے ملک غیر بے اذن مالک یا ارض وقف بے شرط واقف، تو اس وجہ سے ناجائز ہے کہ ایسی جگہ تو مسجد بنانی بھی جائز نہیں اور عمارت تو اور ہے،
ولذ النقل فی المرقاۃ عن الازھاران النھی للحرمۃ فی المقبرۃ المسبلۃ ویجب الھدم وان کان مسجدا ۱ ؎ ۔
اسی لیے مرقات میں ازہار سے نقل ہے کہ عام وقفی قبرستان میں تعمیر حرام ہونے کی وجہ سے نہی ہے اور اسے ڈھادینا ضروری ہے اگر چہ مسجد ہی ہو ۔(ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب دفن المیّت   مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴/ ۶۹)
یوں ہی اگر بہ نیت فاسدہ ہو مگر زینت وتفاخر جیسے امراء کی قبور پر ابنیہ رفیعہ بمصارف وسیعہ اس غرض سے بنائے جاتے ہیں، تو یہ بوجہ فساد نیت ممنوع،
کما مرعن البرھان ومثلہ فی نور الایضاح وغیرہ۔
جیساکہ برہان کے حوالے سے گزرا، اور اسی کے مثل نورالایضاح وغیرہ میں ہے ۔(ت)
اسی طرح جہاں بے فائدہ محض ہو، جیسے کوئی قبر کسی بَن میں واقع ہو جہاں لوگوں کا گزر نہیں یا عوام غیر صلحا کی قبور جن سے نہ کسی کو عقیدت کہ بجہت تبرک وانتفاع ان کی مقابر پر جائیں نہ ان کے دنیا دار ورثا سے امید کہ وہی جاڑے ، گرمی، برسات مختلف موسموں میں بقصدِ زیارت قبر ونفع رسانیِ میّت وہاں جاکر بیٹھا کریں گے، قرآن وذکر میں مشغول رہیں گے یا بر وجہ جائز قراء وذاکرین کو وہاںمقرر رکھیں گے، ایسی صورت میں بوجہ اسراف واضاعت مال نہی ہے، علامہ تورپشتی فرماتے ہیں:
منھی لعدم الفائدۃ فیہ ۲؎
 ( ممنوع ہے کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ۔ت)
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ       بحوالہ تورپشتی  باب دفن المیّت         مکتبہ امدادیہ ملتان۴/ ۶۹)
 مجمع بحار الانوار میں ہے:
منھی عنہ لعدم الفائدۃ ۳؎
 (بے فائدہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے ۔ت)
 (۳؎ مجمع بحار الانوار        لفظ '' شرف'' کے تحت مذکور ہے  منشی نولکشور لکھنؤ    ۲/ ۱۸۷)
مرقاۃ میں ہے:
وقال بعض الشراح من علمائنا ولاضاعۃ المال ۴؎ ۔
اور ہمارے بعض علمائے شارحین نے فرمایا او راضاعت مال کی وجہ سے بھی ۔(ت)
 (۴؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب دفن المیّت فصل اول        مکتبہ امدادیہ ملتان     ۴/ ۶۹)
Flag Counter