مسئلہ ۱۲۴: از بمبئی ، محلہ نل بازار ، دکان سیٹھ شمس الدین وامیر الدین مرسلہ امیر الدین معرفت سید محمد مہدی حسن میاں صاحب ۸ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص قبرستان خاص یا قرب قبرستان مکان تعمیر کرے، اور پاخانہ بھی تعمیر کرے۔ پاخانہ کی موری کا غلیظ پا نی قبروں پر ہو کر جائے تو ایسی جگہ مکان بغرض سکونت و رہائش بنا نا جائز ہے یا نا جائز؟ ایسی جگہ کہ کپڑوں کے دھونے سے غلیظ پانی کپڑوں کا قبروں پر سے جاری ہے وہاں دھوبی کپڑے دھوسکتا ہے او راگر وہ جگہ بقبضہ مسلمان ہے یا ملکیت مسلمان ہے تو مسلمان اگر مانع نہ آئے، یا بطمع کرایہ دھوبی کے اس عمل مذکور کوجاری رہنے دے۔ بینوا توجروا
الجواب
قبرستان وقف ہے اور وقف میں اپنی سکونت کا مکان بنانا وقف بیجا ہے او راس میں تصرف بیجا حرام ہے پھر اگر اس قطعہ میں قبور بھی ہوں اگر چہ نشان مٹ کرناپید ہوگئی ہوں جب تو متعدد حراموں کا مجموعہ ہے، قبروں پر پاؤں رکھنا ہوگا، چلنا ہوگا، بیٹھنا ہوگا، پیشاب پاخانہ کرنا ہوگا، او ریہ سب حرام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو طرح طرح ایذا ہے او ر مسلمان بھی کون، اموات کہ شکایت نہیں کرسکتے، دنیا میں عوض نہیں لے سکتے، بے وجہ شرعی مسلمانوں کی ایذا اﷲ ورسول کی ایذا ہے، اﷲ ورسول کو ایذا دینے والا مستحق جہنم۔ اسی طرح اگر قبرستان کے قریب مکان بنایا ، پاخانے یا دھوبیوں کے غلیظ پانی کا بہاؤ قبور پر رکھا تو یہ بھی سخت حرام ہے اور جو باوصفِ قدرت اُسے منع نہ کرے وہ بھی مرتکب حرام ہے اوربطمع کرایہ اُسے روارکھنا سستے داموں دوزخ مول لینا ہے، یہ کام اُسی شخص کے ہو سکتے ہیں جس کے دل میں نہ اسلام کی قدر ، نہ مسلمانوں کی عزت، نہ خدا کا خوف، نہ موت کی ہیبت، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ امام ابن امیر الحاج حلیہ میں نوادر وتخفۃ الفقہاء و بدائع و محیط وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں:
انہ والتراب الذی علیہ حق المیّت فلایجوز ان یوطء ۲؎ ۔
وہ اور اس پرکی مٹی حقِ میّت ہے توا س پر چلنا جائز نہیں ۔(ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمد یۃ الصنف الثامن نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۰۴)
فتاوٰی عالمگیری میں امام علی ترجمانی سے ہے :
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیّت۳؎ ۔
قبروں پر چلنے سے گنہگار ہوگا اس لیے کہ قبر کی چھت میّت کا حق ہے ۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱)
تنویرالابصار میں ہے:
یکرہ بول وغائط فی مقابر ۴؎
( قبرستان میں پیشاب پاخانہ مکروہ ہے ۔ت)
(۴؎ درمختار فصل فی الاستنجا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷)
ردالمحتار میں ہے:
لان المیّت یتأذی بمایتاذی بہ الحی والظاھر انھاتحرمیۃ لانھم نصوا علی المرورفی سکۃ حادثہ فیھا حرام فہذا اولی ۵؎۔
اس لیے مردے کو بھی اس چیزسے اذیّت ہوتی ہے جس سے زندے کوا ذیت ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ اس لیے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نَوپیدا راستے سے گزرنا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولٰی حرام ہوگا ۔(ت)
(۵؎ ردالمحتار فصل فی الاستنجا ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱/ ۲۲۹)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لان امشی علی جمرۃ اوسیف احب الٰی من ان امشی علی القبر ۱؎۔ رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند جید۔
مجھے آگ یا تلوار پر چلنا قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہےاسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے بسند جید روایت کیا۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۱۳)
نیز نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کسر عظم المیّت یوذیہ فی قبرہ مایوذیہ فی بیتہ ۲؎ وقال عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذی المومن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ ۳؎ م
مُردے کی ہڈیاں توڑنا او راسے ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندے کی ہڈی توڑنا، او رایک روایت کے الفاظ یہ ہے: میّت کو قبر کے اندربھی اس چیز سے ایذاہوتی ہے جس سے گھر کے اندر ایذاہوتی تھی، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: بحالت وفات مومن کو ایذا دینا ایسے ہے جیسے اسے زندگی میں ایذا دینا۔
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الجنائز آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۰۲)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ ابن ابی شیبہ باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ۴/ ۷۹)
وعن عمارۃ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال رانی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ۴؎ ۔
حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے قبر سے لگنے والے! قبر سے اُتر جا، صاحب قبر کو ایذا نہ دے ۔(ت)
(۴؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ الطبرانی والحاکم باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹)
ان تمام صحیح حدیثوں اور ان کے سوا اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ قبر پر بیٹھنا یا پاؤں رکھنا بلکہ صرف اُس سے تکیہ لگانے سے میّت کو ایذاہوتی ہے۔ او رمردہ مسلمان کی ایذا ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی۔ تواس پر تجھے پانی بہانا کس قدر باعث ایذاہوگا۔ جب زندہ مردہ اس میں برابر ہیں تو کیا یہ شخص روا رکھے گا کہ پاخانے کے بدرو کا پانی اس پر بہایا جائے یا لوگ اس کے سینے او رمُنہ پر پیشاب کیاکریں، یا دھوبی ناپاک کپڑے دھوکر وہ پانی اس کے منہ اور سر پر چھڑک دیا کریں، ہر گز کوئی مسلمان بلکہ کافر اسے اپنے لیے روانہ رکھے گا، تومیّت مسلمانوں کے لیے ایسی سخت ایذا کس دل سے روارکھی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلماً فقد اذانی ومن اذانی فقد اٰذی اﷲ ۵؎۔ رواہ الطبرانی عنہ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ ایذادی۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں بسندِ حسن حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔(ت)
(۵؎ کنز العمال بحوالہ طب عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۷۰۳ موسسۃالرسالۃ بیروت ۱۶/ ۱۰)