مسئلہ ۱۱۷: روز دوشنبہ ۲۳ صفر ۱۳۲۳ھ ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی امرأۃ حاملۃ ماتت فی مدۃ کاملۃ ودفنت بدستور العمل فراٰی رجل صالح فی المنام انھا ولدت ولداحیا ایجوز ان یحفر قبرھا ویخرج الولد معہا اویخرج ولدھا فقط باعتماد منام الرجل المذکور ام لا، بینوا بالبرھان توجروا من الرحمان۔
اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک عورت پوری مدتِ حمل کے بعد بحالت حمل انتقال کر گئی، دستور کے مطابق اسے دفن کردیا گیا، ایک مردصالح نے خواب دیکھا کہ اس عورت کو زندہ بچہ پیدا ہواہے، اب شخص مذکور کے خواب پر اعتماد کرکے قبر کھود کر بچّے کو عورت کے ساتھ نکالنا جائز ہے یا نہیں؟ دلیل کے ساتھ بیان فرمائیں خدا سے اجر پائیں (ت)
الجواب
لا، الابدلیل جائز والستر مصون والرویا فنون، فی السراجیۃ ثم الھندیۃ حامل اٰتت علی حملھا سبعۃ اشھر وکان الولد یتحرک فی بطنھا ماتت فدفنت ثم رؤیت فی المنام انھا قالت ولدت لاینبش القبر ۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم
جائز نہیں، مگر جب کوئی روشن دلیل ہو، پر دہ محفوظ ہے ، اور خواب طرح طرح کے ہوتے ہیں، سراجیہ پھر ہندیہ میں ہے ایک عورت کے حمل کو ساتھ مہینے ہوئے بچہ اس کے پیٹ میں حرکت کرتا تھا وہ مرگئی او راسے دفن کردیا گیا، پھر کسی نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتی ہے میں نے بچہ جنا ہے، تو قبر نہ کھودی جائے گی اھ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشرفی زیارۃ القبور الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱)
مسئلہ ۱۱۸: از جوہر کوٹ بارکھان ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
مسافران راعادت است کہ درسفر بمیرند ہمانا دفن میکند ولیکن امان میکند بعد از مدت مقررہ ازنیجا بیرون کنا نیدہ از مشرق بہ مغرب واز شمال بجنوب وعلی العکس می برن د، آیا ایں فعل جائز است یا ناجائز؟
مسافروں کی عادت یوں ہے کہ جو سفر میں مرتے ہیں ان کو ویسے ہی دفن کر دیتے ہیں لیکن امانت رکھتے ہیں ایک مقررہ مدّت کےبعد سے نکالا کر مشرق سے مغرب ،شمال سے جنوب او راس کے برعکس لے جاتے ہیں ،یہ فعل جائز ہے یا ناجائز ؟
الجواب
ایں حرام ست، بعد از دفن کشودن حلال نیست، و نقل بمسافتِ بعیدہ روانیست، واﷲ تعالٰی اعلم
یہ حرام ہے، دفن کے بعد کھولنا جائز نہیں، اور دور مسافت تک لے جانا بھی روا نہیں، اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۹ تا ۱۲۰: از جالندھر چوک حضرت امام ناصرا لدین صاحب مسئولہ ملک محمد امین صاحب ۹ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں :
(۱) قبرستان بوجہ بہت ویرانے کے میّت کی ہڈیاں باہر نکل پڑیں تو ایسی حالت میں پختہ اینٹوں سے قبر از سرنو بنانی جائز ہے یا نہیں؟
(۲) ایسے قبرستان میں جوتی پہن کر جانا اور چارپائی پر سونا ، گھوڑا باندھنے میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) اُن ہڈیوں کو دفن کرنا واجب ہے اور قبر میّت کے گرد پکی نہ ہو اوپر سے پّکی کرسکتے ہیں۔
(۲) قبروں پر چلنے کی ممانعت ہے نہ کہ جُوتا پہننا۔ سخت توہینِ اموات مسلمین ہے، ہاں جو قدیم راستہ قبرستان میں ہو جس میں قبر نہیں اس میں چلنا جائز ہے اگر چہ جُوتا پہنے ہو۔ قبروں پرگھوڑے باندھنا، چارپائی بچھانا، سونا، بیٹھنا سب منع ہے ۔واﷲللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۱: از شہر بریلی کہنہ محلہ کانکر ٹولہ مسئولہ مولوی حضور احمد صاحب ۱۲ ر بیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کے صحن میں، بعد تعمیر مسجد، ایک عرصہ کے بعد اتفاق سے تین میّت دفن ہوگئیں، قبروں کے میل میں شمال کی جانب ایک حجرہ بھی تھا کہ اس کو وارثان میّت موصوفہ نے توڑکر دوسری جگہ حجرہ بنوادیا اور اراضی حجرہ سابق کو شامل قبروں کے حدود قائم کردئے، وارثانِ میّت کا ایما قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اراضی حجرہ سابق بغرض آئندہ قبروں کے شامل کی گئی ہے۔ علاوہ اس کے قبرو کے تین رُخ یعنی جانب مشرق و مغرب جنوب بوقت بنوانے حدود کے تھوری اراضی صحن مسجد قبروں میں اور شامل ہوگئی ہے۔ ایسی صوت میں شرعاً کیا ہونا چاہئے؟ او رچونکہ اس وقت فرش صحنِ مسجد کا پختہ اور درست ہورہا ہے اراضی حجرہ سابق ونیز اور جو اراضی کسی قدر قبروں کے حصہ میں دب گئی ہے اس کو نکال کر اور تینوں قبروں میں جس قدر اراضی ہے حدود بنادئے جائیں یا نہیں یا کیا کرنا چاہئے؟ چونکہ تعمیر فرش زیر تعمیر ہے اس کے جواب کی جلد ضرورت ہے۔
الجواب
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ صحنِ مسجد میں بعد تعمیر مسجد وارثانِ بانی مسجد خواہ کسی نے قبریں بنالیں تو وہ قبریں محض ظلم ہیں اور ان کا باقی رکھنا ظلم ہے نہ کہ آئیندہ قبروں کے لئے ایک حدبندی اور اس میں حجرہ مسجد اورصحن ِ مسجد سے اورزمین شامل کرنایہ سب ظلم وحرام ہے او راس کا دفع کرنا فرض ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس لعرق ظالم حق ۱؎ واوقع ھھنا فی ابن عابدین ایھام ازلناہ فیما علیہ عقلناہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ یہاں شامی کچھ ایہام واقع ہے جس کا ازالہ ہم نے اس کے حاشیہ میں کیا ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب احیاء الموات آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱)
مسئلہ ۱۲۲: مسجد کےمحاذی مسجد کے دروازے سے ملحق اگر پرانا قبرستان ہو جس میں قبروں کے نشان نمایا ہوں اس کی اراضی کو مسجد کے صحن کو وسعت دینے کی غرض سے ہموار کرکے شاملِ صحن کرلیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
حرام ، حرام، حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۳: از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع شوبیدپور مرسلہ مولانا انوار لدین صاحب ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان وقف میں کسی کو اپنی سکونت یا ذاتی منفعت کے لئے مکان بنایا، یا مقبرہ غیر وقف میں مالک کا خاص قبور پر یا قبروں سے جدا مکان تعمیر کرنا، خصوصاً اس قبر پر جو بلااجازتِ مالک اس کی زمین میں بنالی ہو، اس میں سے میّت کو نکال کر یا بے نکالے ہوئے جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
مقبرہ وقف میں اپنا مکانِ سکونت بنانا یا خلافِ وقف اپنے کسی تصرف وانّتفاع میں لانا حرام ہے ۔
فان الوقف لا یملک ولا یخالف
( اس لیے کہ وقف کو نہ اپنی ملک بنایا جاسکتا ہے نہ اس کے مقررہ مقصد کے خلاف کیا جاسکتاہے ۔ت) اورمالک کو اپنی زمین مملوک میں قبروں سے جدا مکان بنانا روا،
فان الملک مطلق لہ والمالک لا یحجر
( اس لیے کہ ملک اس کے لیے مطلق ہے ا ور مالک روکا نہیں جاسکتا ۔ت) اور قبور پر کہ اس کی اجازت سے بنی ہوں ناروا،
لما فیہ من استھانۃ بالمسلمین وقد حققنا مایتعلق بھذافی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ ومن سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ۔
اس لیے کہ ا س میں مسلمان کی اہانت ہے اس سے متعلق تمام باتون کی کامل تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے اور جو اس عہد کو توڑنے کی کوشش کرے جو اسی کی جانب سے تمام ہوا تو اس کی کوشش اس پر رد کردی جائیگی ۔ (ت)مگر جو قبر ظلماً بلااجازت مالک بنالی جائے اس کے لیے کچھ حق نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ علیہ وسلم لعرق ظالم حق ۱؎
کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب احیار الموات آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱)
علماء اجازت دیتے ہیں کہ چاہے میّت کو نکلوادے' چاہے یونہی زمین اپنے تصرف میں لائے ۔درمختار میں ہے:
یخیر المالک بین اخراجہ ومسا واتہ بالارض ۱؎ ۔
مالک کو اختیار ہے کہ اسے نکال دے یا زمین کے برابر کردے ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۶)
صفوفِ نماز کی شرعاً کس قدر حرمت وتعظیم ہے، مگر جو صفیں قبل تمامی صف اول کرلی جائیں، حدیث وفقہ حکم فرماتے ہیں کہ ان صفوں کو چیرتے ہوئے جاکر صفِ اوّل پوری کریں کہ خلاف شرع قائم ہونے کے سبب ان کی حرمت نہیں، یہ حق اﷲ میں ہے ۔ حق العبد تو اشد ہے۔ پھر بھی اگر صاحبِ حق اس کا لحاظ کرکے اپنے حق سے درگزر کرے کہ مردہ بدست زندہ اس نے خود قصور نہ کیا۔ توا مید ہے کہ حق سبحٰنہ وتعالٰی اُسے اجر عظیم فرمائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم