مسئلہ ۱۱۳: از خیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میانسرائے قدیم مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی سید فخر الحسن صاحب ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو طفل زنا سے متولد ہو کر چارپانچ سال کی عمر میں فوت ہوجائیں او ر ا س کی مادر بخوف پابندی حکمِ شریعت اس سانحہ پر صبر اختیار کرے تو طفلِ متوفی مادر صابر کا فرط ہوگا یا نہیں؟ ا ور اس کے دلائل کیا کیا ہیں؟ اور اگر پدر زا نی کے قلب پر بھی اس سانحہ کا صدمہ زیادہ ہوا ہو اور وہ بھی بلحاظ امر شریعت صبر کو ملحوظ رکھے تو وہ بھی مستحق ہوگا کہ طفلِ متوفی اس کے لئے فرط ہو یا مستحق نہ ہوگا، امید کہ مفصل جواب بحوالہ عبارت کتب تحریر فرمایا جائیگا تاکہ کسی کو سُن کر بمقابلہ دلائل نقلیہ انکار کا موقع نہ ملے اور شخص مقر کو اطمینان کامل حاصل ہوجائے ۔فقط
الجواب
ولد الزنا کے لئے شرعا کوئی باپ نہیں، شرع مطہر نے زانی سے اس کا نسب قطع فرمادیا ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تو وہ اس کا فرط کیونکر ہوسکتا ہے۔ رہا ماں کے لئے فرط ہونا، یہ ا س پر موقوف ہے کہ والد الزنا کو منصب شفاعت دیا جائے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ احادیث سے تویہ ظاہر ہو تا ہے کہ وہ مطبوع علی الشر ہوتاہے۔ رسول اﷲ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ولد الزنا شر الثلثۃ ۲؎
( ولدِ زنا تین میں سب سے بُرا ہے ۔ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب العتق باب فی عتق والدالزنا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹۶)
دوسری حدیث میں ہے :
لایدخل الجنۃ ولد زانیۃ ۳؎ اھ ای مع السابقین کما فی نظائرہ۔
زانیہ کا بچہ جنت میں نہ جائے گا اھ یعنی سابقین کے ساتھ ،جیسے ا س طرح کی دیگر حدیثوں میں یہ تاویل ہے ۔ (ت)
لاینبغی علی الناس الاولد بغی والابن فیہ عرق منہ ۴؎ ۔
لوگوں پر ظلم نہ کرے مگر زنا کی اولاد اور وہ جس میں اس کی کوئی رگ ہو ۔(ت)
(۴؎ کنز العمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی رضی اﷲ عنہ حدیث ۱۳۰۹۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۳۳۳)
چوتھی حدیث میں ہے :
من لم یعرف حق عترتی والاٰنصار والعرب فھو لاحدی ثلاث امامنافق وامالزنیۃ واما امرء حملت بہ امہ لغیر طھر ۵؎۔ رواہ الدیلمی ورواہ البیھقی من حدیث زید بن جبیر عن داؤد بن حصین عن ابن رافع عن ابیہ عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولفظہ اما منافق واما ولد مزنیۃ واما لغیر طہور ۱ ۔
جو میری اولادا ورانصار او رعرب کا حق نہ پہنانے وہ تین میں سے ایک ہے۔ منافق ہے یا زانیہ کا بچہ یا ایسا شخص جسے اس کی ماں نے بحالت حیض حمل میں لیا۔ اسے دیلمی نے روایت کیا اور اسے بہیقی نے زید بن جبیر کی حدیث میں داؤد بن حصین سے، انھوں نے ابو رافع سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اس کے الفاظ یہ ہیں : یاتومنافق ہے یا مزنیہ کا بچہ یا بے طہارت کا (ت)
(۵؎ الفردوس بماثور الخطا ب حدیث ۵۹۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۶۲۶)
(۱؎ شعب الایمان باب فی تعظیم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم حدیث ۱۶۱۴ دارالکتب العلمیہ بیر وت۲ /۲۳۲ )
بایں ہمہ اللہ عزوجل پر حکم نہیں کرسکتے
یفعل من یشاء ۲؎ ان ا یحکم مایرید ۳؎
( اﷲ جو چاہے کرتا ہے بیشک خدا جوچاہے حکم فرماتا ہے ۔ت) ہا ں صبر بجائے خود ایک حسنہ جمیلہ ہے
واﷲ لا یضیع اجر المحسنین ۴؎
( اور اﷲ تعالٰی نیکی کرنے والوں کا اجر رائیگاں نہیں کرتا ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲القرآن ۱۴/ ۲۷) (۳؎ القرآن ۵ /۱) (۴؎ القرآن ۹/ ۱۲۰)
مسئلہ ۱۱۴: از شہر محلہ کٹر ہ چاند خاں مسئولہ جمال احمد ۱۶ شعبان ۱۳۳۶ھ
سائل کے بڑے لڑکے کی اہلیہ نے جو عرصہ سے بعارضہ دق علیل تھی او راس کے والدین اسے اپنے گھر لے گئے تھے وہیں انتقال کیا ، سائل مع پسر خبر انتقال سن کر مع چند دیگراشخاص وجملہ سامانِ تجہیز وتکفین لے کر پہنچے انھوں نے ہمیں نہایت ترش روئی سے شریک میّت نہ ہونے دیا اور مٹی تک نہ دینے دی، یہ فعل کیسا ہے؟
الجواب
بہت بُرا کیا، اگر بلاوجہ شرعی صحیح معتبر تھا کہ مسلمان کو ناحق ایزادی ، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذاٰی مسلماً فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ ۵؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی ا س نے مجھے ایذادی او رجس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ تعالٰی کو ایذادی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۵؎ کنز العمال بحوالہ طن عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۴۳۷۰۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۱۰)
مسئلہ ۱۱۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قدیم قبراگر کسی وجہ سے کھل جائے یعنی اس کی مـٹی الگ ہو جائے اور مردہ کی ہڈیاں وغیرہ ظاہر ہونے لگیں تو اس صورت میں قبر کو مٹی دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس صورت سے دینا چاہئے ؟ بینوا توجروا بالدلیل
الجواب
اس صورت میں اُسے مٹی دینا فقط جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے کہ سترِ مسلم لازم ہے۔
وقد انکشفت قدم لما انہدم جدر الحجرۃ الشریفۃ فی زمان الولید ففزع الناس وظنوا انھا قدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما وجدوا احد یعلم ذٰلک حتی قال لھم عروۃ لا واﷲ ماھی قدم البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماھی الا قدم عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۱؎ کما فی صحیح البخاری عن ھشام عن ابیہ واخراج ابن زبالۃ وغیرہ ان قال عمربن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ لمن امرہ ببناء الحائط ان غط مارأیت ففعلہ۔
ولید کے زمانے میں جب روضہ پاک کی دیوار منہدم ہوئی تو ایک قدم کھل گیا جس سے لوگ گھبرا ا ٹھے، انھیں گمان ہوا کہ یہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کسی ایسے آدمی کو تلاش کیاجو اس سے آگاہ ہو یہاں تک کہ حضرت عروہ نے کہا بخدا یہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قدم نہیں، یہ تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہی قدم ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہشام بن عروہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے راوی ہیں اور ابن زبالہ وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جس کو دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اس سے فرمایا جو تم نے دیکھا اُسے چھپادو ، اس نے تعمیل کی ۔(ت)اور اس بارے میں کوئی صورت بیان میں نہ آئی ستر لازم ہے اور کشف ممنوع، ا س طرح چھپائیں کہ زیادہ نہ کھولنا پڑے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۶)
مسئلہ۱۱۶: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ نمبر ۲۲ مسئولہ مولوی عبدالحق ومولوی کریم صاحبان بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ۲۶ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک پیر نے اپنے مرض الموت میں اپنے وطن سے دُور ایک مرید سعید ورشید کے شہر میں اپنے دفن کی خواہش کی، بعد وصیت اور اسی مرض الموت میںوہاں پہنچ گئے اور بعد انتقال وہیں دفن ہوئے، اب چار برس چند ماہ کے بعد اس پیر کا فرزند جس کے سامنے اس کے باپ نے اپنے مرید کو وصیت کی تھی کہ ہم تمھارے شہر میں دفن ہوں، بسبب نزاع کے اس مرید سے چاہتا ہے کہ نعش کو اس حجرے سے اکھاڑ کر وطنِ شیخ یا اسی شہر میں جہاں اب مزار ہے دوسری جگہ لے جاکر دفن کرے، آیا یہ امر ممکن ہے کہ نبش مسلم کیا جائے جس سے سراسر توہین میّت متصور ہے اور وصیت متوفی کو جو اس اہتمام کے ساتھ کی ، توڑدیا جائے۔
جواب از لکھنؤ: ھوالمصوب ، مالکِ زمین وحجرہ نے اپنی خوشی واجازت سے نعشِ شیخ کو دفن کیا، پس اب نبش قبر کا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے، جیساکہ شامی میں مصرح ہے۔
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔ حررہ محمد عبدالمجید۔
الجواب
صورتِ مذکورہ میں نبش حرام، حرام ، سخت حرام، اور میّت کی اشد توہین وہتک سرّ رب العٰلمین ہے اور جو بیٹا باپ کے ساتھ ایسا چاہے عاق وناخلف ہے۔ اگر چہ وصیت دربارہ دفن واجب العمل نہیں، نہ یہاں دفن بے رضائے مالک کے مسئلہ کو کچھ دخل تھا کہ رضا پر تفریع حکم ہو، بالفرض اگر وقت دفن رضائے مالک نہ ہوتی تو اختیار نبش اُسے ہوتا نہ کہ اجنبی کو جس کا زمین میں کوئی حق نہیں۔ التجنیس والمزید میں ہے :
اگر دوسرے کی زمین اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دفن کردیا جائے تو مالک کو اختیار ہے اگر چاہے میّت کو نکلوادے اور اگر چاہے تو زمین کے برابرکر دے اور اس میں کھیتی کرے ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم