Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
85 - 243
شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں:
جلس نشست آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی وعلیہ 

وسلم یعنی در مسجد برائے عزائے ایشاں ۱ ؎
 ( یعنی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مسجد میں ان حضرات کی تعزیت لینے کے لئے تشریف فرما ہوئے ۔ت)
 (۱؎ اشعۃ المعات شرح مشکوٰۃ        کتاب الجنائز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۷۰۹)
پس اب فعل مذکور  فی السوال میں کوئی امر ایسا نہ رہا جس کا ثبوت حدیث و فقہ سے نہ ہو ، صرف اتنی بات باقی ہے کہ بعد دفن کے پلٹ کر سیدھے اس مکان پر جاتے ہیں اور بعد فاتحہ اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں، اس کے لئے کسی ثبوتِ خاص کی حاجت نہیں کہ جب تعزیت و ایصال ثواب  و دعا محمود ٹھہری اور افضل یہ قرار  پایا کہ دفن کے بعد ہو اور پہلے دن ہو اور قبر سے پلٹ کر ہو ، اور اس کے مکانِ میّت پر جانا بھی جائز ہو، تو ا سی وقت جاکر ادائے تعزیت میں کیا مضائقہ ہے۔ ہاں اگر سرے سے اس کے مکان پر جانا ہی روا نہ ہوتا تو  بیشک محلِ منع ہوتا۔ اور جب ایسانہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے اپنے گھر جاکر پھر وہاں جائیں، کوئی دلیل شرعی اس  پر قائم نہیں بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کہ جب ایک صحابی کو دفن کر کے  پلٹے اور صحابہ کرام حاضر  رکابِ سعادت تھے میّت مرحوم  کی زوجہ مطہرہ کا بھیجا ہوا  آدمی ملا،  حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے مکان پر تشریف لے گئے ،
فقد اخرج الامام احمد بسند صحیح  و ابوداؤد عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن رجل من الانصار قال خرجنا مع  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی جنازۃ فلما رجع استقبلہ داعی امرأتہ فجاء وجیء بالطعام  ۲؎ الحدیث ملخصا۔
امام احمد نے بسند صحیح اور ابوداؤد نے عاصم بن کلیب سے انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے ایک انصاری صحابی سے روایت کی وہ فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے جب سرکار واپس ہوئے تو مرنے والے کی عورت کا داعی سامنے ایا حضور اس کے گھر تشریف لے گئے اور کھانا حاضر کیا گیا۔ الحدیث بہ تلخیص (ت)اگر دفن سے پلٹ کر مکانِ میّت پر جانا منع  ہوتا  تو حضور کیوں قبول فرماتے، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل        حدیث رجل من انصار    دارالفکربیروت    ۵/ ۲۹۳)
یہ تو اصل فعل کا حکم تھا، مگر ہو ا یہ کہ جُہّال نے اس رسمِ شرعی میں بہت رسوم جاہلیت واختراعات بیہودہ کو دخل دیا، مثلاً گانے، باجے شمعیں، قندیلیں، عمدہ عمدہ فرش، طرح طرح کے کھانے، ریا وناموری کے اسباب، میّت کی تعریف میں حد سے غلو، تعزیت کے وقت اُلٹی وہ باتیں جو غم والم کو زیادہ کریں اور میّت کو بھولی ہوئی باتیں یا د دلائیں ،
کما یشکوبعد ذلک العلامۃ الشامی حیث یقول یحصل عند ذلک غالباً من المنکرات الکثیرۃ کایقاد الشموع والقنادیل التی لاتوجد فی الافراح وکدق الطبول و الغناء بالاصوات الحسان واجتماع النساء والمردان واخذ الاجرۃ علی الذکر و قراۃ القراٰن  وغیر ذلک مما ھو مشاھد فی ھذا الزمان وماکان کذٰلک فلا شک فی حرمتہ ۱؎ ۔
جیسا کہ اس کے بعد علامہ شامی یُوں شکایت فرماتے ہیں: زیادہ تر اس وقت بہت سی بُری باتیں ہوتی ہیں جیسے  بیش قیمت شمعیں او رقندیلیں روشن کرنا جو شادیوں میں بھی نہیں ملتیں، ایسے ہی طبل بجانا، خوش آوازی سے گیت سنانا، عورتوں امردوں کاجمع ہونا، ذکر اور تلاوتِ قرآن پر اُجرت لینا، اور  ان کے علاوہ ساری باتیں جو اس زمانے میں دیکھنے میں آتی ہیں، جس کام کا یہ حال ہو اس کے حرام ہونے میں کیا شک ہے ! (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب صلٰوۃ الجنائز        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۰۳)
معہذا خاص اس قصد سے یعنی تعزیت لینے کے لیے بیٹھنا بھی اگر چہ رخصت ہے مگر افضل نہ کرنا ہے
کما فی الھندیۃ من معراج الدرایۃ عن خزانۃ الفتاوٰی الجلوس للمصیبت ثلاثٹ  ایام رخصۃ و ترکہ احسن  ۲؎ ۔
جیسا کہ ہندیہ میں معراج الدرایہ سے، اس میں خزانۃ الفتاوٰی سے منقول ہے موت کے سبب تین دن بیٹھنے کی اجازت ہے اور  اس کا ترک بہتر ہے ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    ومایتصل بذلک مسائل التعزیۃ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۶۷)
لہذا بہت علمائے متاخرین نے میّت کے گھر اس ہجوم واجتماع کو پسند نہ فرمایا اور یہی مناسب جانا کہ لوگ دفن کر کے متفرق ہوجائیں اولیائے میّت اپنے کام میں مشغول ہوں اور لو گ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ،
کما فی مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلالی قال کثیر من متاخری ائمتنا رحمہم اﷲ تعالٰی یکرہ الاجتماع عند صاحب المصبیۃ حتی یاتی الیہ من یعزی بل اذا رجح الناس من الدفن فلیتفرقو اویشتغلوا بامورھم وصاحب المیّت بامرہ ۱؎ ۔
جیساکہ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ ہمارے بہت سے ائمہ متاخرین رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ میّت والے کے یہاں اس مقصد سے اجتماع کہ اس کے یہاں تعزیہت کرنے والے آئیں مکروہ ہے۔ لوگ جب دفن سے واپس ہوں تو متفرق ہوجائیں ، لوگ اپنے اپنے کام میں مشغول ہوں اہل میّت اپنے کام میں مصروف ہوں ۔(ت)
 (۱؎ مراقی الفلاح علی ہامش حاشیۃ الطحطاوی  فصل فی حملہا ودفنہا نور محمدکار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۳۸)
بالجملہ قولِ فیصل جس سے اختلاف زائل، اور توفیق حاصل ہو یہ ہے کہ نفس تعزیت و دعا و ایصال ثواب بیشک محمود ومندوب اور وقتِ دُعاہاتھ اٹھانا بھی جائز ، اوراگر کوئی شخص اولیائے میّت کے مکان پر جاکر تعزیت کر آئے تو بھی قطعاً روا۔

مگر اولیاء کا خاص اس قصد سے بیٹھنا اور لوگوں کا ان کے پاس ہجوم ومجمع کرنا خواہ قبل دفن ہو یا بعد اُسی وقت اگر ہو  یا کبھی مکان میّت پر ہو یا کہیں اور، بہر طور جائز و مباح ہے جبکہ متکرات شرعیہ سے خالی ہو، مگر اس کا نہ کرنا افضل ہے، نہ یہ کہ قطعاً حرام اور گناہ اور فاعل مبتدع وگمراہ ٹھہرے۔
سبحانک ھذا بھتان عظیم قلت وبہذا تتفق الکلمات من قول قوم لاباس بہ وقوم اٰخرین انہ یکرہ ویکون ماثبت بالحدیث المذکور بیانا للجواز فاتقن ھذا التحریر الفرید فانہ ان شاء اﷲ التحقیق الوسیط وان خالف زعم الفریقین من اھل الافراط و التفریط، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجح والماٰب ۔
تجھے  پاکی ہے۔ یہ بڑا  بہتان ہے۔ قلت( میں کہتا ہوں) اور اس تفصیل سے کلماتِ عالماء میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اورت دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے___ اور حدیث مذکور سے جو ثابت ہوا ہو بیانِ جواز کے لئے ہوگا___ تو اس منفرد تنقیح کو اچھی طرح محفوظ کرلو کہ ان شاء اﷲ یہ درمیانہ تحقیق ہے اگر چہ دونو ں فریق کے افراط و تفریط والوں کے برخلاف ہو___ ا ور خدائے  پاک وبرتر درستی کو خوب جاننے والاہے اور اسی کی جانب رجوع ومآب ہے ۔(ت)
مسئلہ ۱۱۱: ۲۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کی تعزیت بعد دفن ہی چاہئے یا پیش از دفن بھی جائز ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب

افضل یہ ہے کہ بعد دفن قبرسے پلٹ کر ہو
کما فی الجواھرۃ وغیرھا
  ( جیسا کہ جوھرۃ وغیرہ ہا میں ہے ۔ت) اور قبل دفن بھی بلاکراہت جائز ہے ،

ۤ
فی صحیح الامام ابن السکن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اوذن بجنازۃ فاتی اھلھا فعزاھم کتب اﷲ تعالٰی قیراطا فان تبعھا کتب اﷲ لہ قیراطین فان صلی علیھا کتب اﷲ لہ ثلثۃ قراریط فان شہد دفنھا کتب اﷲ لہ اربعۃ قراریط القیراط مثل احد  ۱؎ ۔
صحیح امام ابن سکن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے (ت) جسے کسی جنازہ کی خبرملے و ہ اہل میّت کے پاس جاکر ان کی تعزیت کرے اﷲ تعالٰی اس کے لئے ایک قیراط ثواب لکھے، پھر اگر جنازہ کے ساتھ جائے تواﷲ تعالٰی دو قیراط اجر لکھے، پھر اس پر نماز پرھے تو تین قیراط، پھر دفن میں حاضر ہو تو چار، اور ہر قیراط کوہ  احد کے برابر ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ صحیح امام ابن سکن)
مسئلہ ۱۱۲: از شہر  بھڑونچ، لال بازار، چنارواڑ، مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت مکان میں موجود ہے اس کو دفن نہیں کیا، اس کے پہلے اہل میّت کے لوگوں کو کھانا درست ہے یا نہیں؟ احمد سعید کا کہنا ہے کہ درست ہے اور کوئی بُرا نہیں۔ فقہ کی کتاب منافع میں تولکھا ہے کہ دفن کرنے کے پہلے کھانا حرام ہے، بلکہ ہمسایہ کے چالیس مکان تک حرام ہے۔ اب حق کون ہے وہ بیان کریں۔
الجواب

کھانا حرام نہیں، غفلت حرام ہے۔ اور چالیس گھر تک حرام ہونا بے اصل محض ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter