Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
84 - 243
اربعین میں ہے :
مسئلہ ۳۲:  درتعزیت میّت رفتن وہردودست برداشتہ سورہ فاتحہ خواند جائزاست یا نہ؟ 

جواب: رفتن برائے تعزیت میّت جائز است و دعائے مغفرت برائے اونمودن مستحب است وہمچنین دعائے خیر  برئے اہل میّت اما دست برداشتن برائے دعا وقت تعزیت ظاہراً جواز است زیرا کہ درحدیث شریف رفع یدین در دعا مطلقاً ثابت شدہ پس دریں وقت ہم مضائقہ نہ دار دلیکن تخصیص آں برائے دعا وقت تعزیت ماثور نیست ۱؎ انتہی ملخصا۔
مسئلہ ۳۲: میّت کی تعزیت میں جانا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : میّت کی تعزیت کے لئے جانا جائز ہے اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا مستحب ہے اسی طرح  اہل میّت کے لئے دعائے خیر کرنابھی مستحب ہے۔ رہا تعزیت کے وقت کی دعامیں ہاتھ اٹھانا، تو ظاہر یہ ہے کہ جائز ہے ، اس لئے کہ حدیث شریف کے اندر دعامیں ہاتھ اٹھانا مطلقاً ثابت ہے تو اس وقت بھی مضائقہ نہیں مگر خاص وقت تعزیت کی دعا میں ہاتھ اٹھا نا حدیث میں منقول نہیں ہے۔ انتہی ملخصاً (ت)
 (۱؎ اربعین میاں اسحاق دہلوی    )
اور تعزیت بعد دفن کے اولٰی ہے :
فی الجوھرۃ ثم ردالمحتار ھی بعد الدفن افضل منھاقبلہ ۲؎ الخ وبمثلہ ذکر الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح ۔
جوہرہ پھر ردالمحتار میں ہے: قبل دفن تعزیت سے بہتر بعد دفن تعزیت ہے الخ اسی کے مثل سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ذکر کیا ہے ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   باب صلٰوۃ الجنائز    ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۶۰۴)
اور قبر کے پاس مکروہ ہے ،
فی الدرالمختار وتکرہ التعزیۃ ثانیا و عندالقبر ۳؎ ۔
درمختار میں ہے : دوسری بار تعزیت کرنا یوں ہی قبر کے پاس تعزیت کرنا مکروہ ہے ۔(ت)
 (۳؎ درمختار      باب صلٰوۃ الجنائز         مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۶)
حلیہ میں ہے :
یشھدلہ ما اخرج ابن شاھین عن ابراھیم التعزیۃ عندالقبر بدعۃ  ۱؎انتھی۔
اس پر شاہد اثر ہے جو  ابن شاہین نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا کہ قبر کے پاس تعزیت بدعت ہے انتہی (ت)
 (۱؎ ردالمحتار بحوالہ حلیہ    باب صلٰوۃ الجنائز        ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۶۰۴)
مدخل ابن الحاج میں ہے :
موضع التعزیۃ علٰی تمام الادب اذارجع ولی المیّت الٰی بیتہ  ۲؎ ۔
کمال ادب کے طور  پر تعزیت کا موقع  اس وقت ہے جب ولیِ میّت گھر  واپس آجائے ۔(ت)
 (۲؎ المدخل لابن الحاج    صفۃ القبر      دارالکتاب العربی بیروت    ۳/ ۲۷۷)
اور  پہلے دن ہونا بہتر و افضل ہے ،
فی الدرلمختار اولھا افضلھا  ۳؎ الخ  یعنی ایام تعزیت۔
درمختا ر میں ہے: ایّامِ تعزیت میں پہلا دن افضل ہے الخ (ت)
 (۳؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۶)
اور تعزیت کے لئے اولیائے میّت کے مکان  پرجانا بھی سنت سے ثابت ،
روی ابوداؤ والنسائی فی حدیث قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لسیدتنا البتول الزھراء رضی اﷲ تعالٰی عنہا ما خرجک من بیتک یا فاطمۃ قال اتیت  اھل ھذا  المیّت فترحمت الیھم وعز یتھم بمیّتھم ۴؎۔
ابوداؤد اور نسائی نے ایک حدیث میں روایت کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدہ بتول زہراء رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے فرمایا : فاطمہ تم اپنے گھر سے باہر کس لئے گئی تھیں ؟ عرض کی : اس میّت والوں کے یہاں گئی تھی ان کے لئے رحمت کی دعا اور میّت کی مصیبت پر تعزیت کی ۔
 (۴؎  سنن ابی داؤد     باب التعزیۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۸۹)

(  سنن النسائی     کتاب الجنائز باب النہی    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/ ۲۶۵)
وفی السنن الصحاح لابن سکن عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اوذون بجنازۃ فاتی اھلھا فعزاھم کتب اﷲ لہ قیراطا  ۵؎
اور  ابن سکن کی سنن صحاح میں حضرت ابوہریرہ کی روایت نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے: جسے کس جنازہ کی خبر ملے وہ اہل میّت کے پاس جاکر ان کی تعزیت کرے اﷲ تعالٰی اس کے لئے ایک قیراط ثواب لکھے
 (۵؎ السنن الصحاح، امام ابن سکن)
الحدیث وللنسائی عن معٰویۃ بن قرۃ عن ابیہ کان نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس یجلس الیہ نفر من اصحابہ فیھم رجل لہ ابن صغیر ففقدہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال مالی لا راٰی فلا نا قالو  یا رسول اﷲ بنیہ الذی  رأیتہ ھلک فلقیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فسألہ عن بنیہ فاخبرہ انہ ھلک فعزاہ علیہ۱؎ الحدیث اھ ملخصا ۔
الحدیث نسائی نے معاویہ بن قرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب تشریف فرما ہوتے تو  ان کے  پاس ان کے صحابہ میں سے چند حضرات بیٹھتے، ان میں ایک صاحب تھے جن کا نام ایک کم سن فرزند تھا ایک روز مجلس میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، ارشاد فرمایا: کیا بات ہے فلاں نظر نہیں آرہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس کا چھوٹا سا لڑکا جسے حضور نے دیکھا تھا فوت ہوگیا تو ا س سے بنی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ملاقات کرکے اس کے فرزند کے بارے میں پوچھا، اس نے موت کی خبر سنائی، حضور نے اس پر اس کی تعزیت فرمائی، الحدیث ، اھ بتلخیص (ت)
 (۱؎ سنن النسائی    کتاب الجنائز باب فی التعزیۃ    نور محمد کار خانہ تجارب کتب کراچی    ۱/ ۲۹۶)
اور مولوی اسحٰق کا قول پہلے مذکور ہوا کہ رفتن برائے تعزیت میّت جائز ست ( تعزیت میّت کے لئے جانا جائز ہے ۔ت) اور تین روز تک اولیائے میّت کو بھی رخصت  واجازت ہے کہ بے ارتکاب مکتات واتباع رسوم کفار  اپنے مکان میں تعزیت کے لئے بیٹھیں تا کہ لوگ ان کے  پاس آئیں اور  رسمِ تعزیت بجالائیں،
فی الدرالمختار لا بأسع  بتعزیۃ اھلہ و ترغیبھم فی الصبر  وباتخاذ طعام لھم و بالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلثۃ ایام  و اولھا افضلھا  ۲؎ الخ
درمختار میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ اہل میّت کو تعزیت کریں اور صبر کی ترغیب دیں اور ان کے لئے کھانا پکوائیں اور تعزیت کے لئے اگر  اہل میّت مسجد کے علاوہ کسی جگہ بیٹھیں تو ا س میں بھی حرج نہیں، اور  ایام تعزیت میں پہلا دن افضل ہے الخ (ت)
(۲؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۶)
حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح میں ہے :
قال فی شرح السیدو لا باس بالجلوس لھا الٰی ثلثۃ ایام من غیرا رتکاب محظور من فرش البسط والاطعمۃ من اھل المیّت۱ ؎ انتھی ۔
شرح سیّد میں ہے: تین دن تک تعزیت کے لئے بیٹھنے میں حرج نہیں مگر کسی ممنوع کام کا ارتکاب نہ ہو جیسے مکلف فرس بچھانا، اہل میّت کی جانب سے کھانے کا اہتمام ہونا ۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح    فصل فی حملھا ودفنہا    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۳۹)
نہر الفائق میں تجنیس سے منقول :
لاباس بالجلوس لھا ثلثۃ ایام وکونہ علی باب الدارمع فرش بسط علٰی قوارع الطریق من اقبح القبائح  ۲؎ انتھی۔
تین دن تک تعزیت کے لئے بیٹھنے میں حرج نہیں، مگر گھر کے دروازے پر عام  راستوں میں فرش فروش بچھا کر یہ کام ہو تو بہت بُرا ہے  انتہی (ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح   بحوالہ النہر الغائق   نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ص ۳۳۹)
عالمگیریہ میں ظہیریہ سے نقل کیا ہے:
لاباس لاھل المصیبۃ ان یجلسوا فی البیت اوفی مسجد ثلثۃ ایام والناس یاتونھم ویعزونھم  ۳؎ الخ
اس میں حرج نہیں کہ اہل میّت گھر میں یا مسجد میں تین دن بیٹھیں اور لوگ ان کے پاس آتے اور تعزیت کرتے رہیں الخ 

(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ        وممایتصل بذالک مسائل التعزیۃ    نورائی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۱۶۷)
بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ زید و جعفر و ابن رواحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی خبر شہادت سن کر مغموم ومحزورن مسجد میں تشریف رکھی، صحابہ حاضر ہوتے اور تعزیت کرتے جاتے  ۴؂
کما ذکرہ العلامۃ زین فی البحرا لرائق
 ( جیسا کہ علامہ زین بن بجیم نے اسے بحرالرائق میں ذکر کیا ہے ۔ت)  اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں اس امر سے منع  نہ فرمایا ،
واخرج الشیخان عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما لماجاء النبی صلی اﷲ تعالٰی عیہ وسلم قتل ابن حارثۃ وجعفر وابن رواحہ لما جلس یعرف فیہ الحزن  ۵؎ الحدیث
بخاری ومسلم نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے جب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو زید بن حارثہ ، جعفر اور عبدا ﷲ بن رواحہ کی شہادت کی اطلاع ہوئی جب تشریف رکھی سرکار  پر غم کا  اثرنمایا تھا،  الحدیث (ت)
 (۴؎ بحرالرائق        کتاب الجنائز        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۱۹۲)

 (۵؎ صحیح البخاری        باب من جلس عند المصیبۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۷۳)
Flag Counter