Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
83 - 243
مسئلہ ۱۰۸: از موضع سنیأ ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر دیکھا گیا مرا ہوا بچہ کسی کے پیدا ہوتا ہے اس کو ہانڈی میں رکھ کر گورستان سے علیحدہ دفن کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ پکاّ مسان ہے، اس سے اہل ہنود کی طرح بچتے ہیں، یہ کیونکر ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

یہ شیطانی خیال ہے اسے مسلمانوں کے گورستان ہی میں دفن کریں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۹: از مونگیر، محلہ دلاور پور مکان شیخ رحمت علی صاحب مرسلہ مولوی سید عطاء الحق صاحب ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافر کے مُردہ کو جس کا کوئی وراث نہیں، کیا کیا جائے ؟ بیّنوا توجروا
الجواب

اس کے مذہب وملت والوں کو دے دیا جائے کہ جو چاہیں کریں، او راگر کفار میں بھی کوئی نہ ملے تو جیفہ سگ کی طرح  دفعِ عفونت کے لیے کسی گڑھے میں دبادیں۔ تفصیل مسئلہ یہ ہے کہ کافر دو قسم ہے : اصلی ومرتد۔ اصلی وہ  کہ ابتداء سے کافر ہو  اور مرتد وہ کہ بعد اسلام کافر ہوا یا  با وصف  دعوی اسلام عقائد کفر رکھے :  جیسے آج کل نیچری مرتد کے لیے تو اصلاً نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مرادار کتے کی طرح دبادینا ہے، اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریک نہ ہو بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہے کریں، او ر وہ بھی نہ ہوں تو علاج مثل علاج مرتد ہے، اور اگر مسلمان کو اس سے قرابت قریبہ ہے تاہم جب کوئی قریب کا فر موجود ہو بہتر  یہی ہے کہ اس کی تجہیز میں شرکت نہ کرے، ہاں ادائے حقِ قرابت کے لئے اگر ا سکے جنازہ کے ساتھ جنازہ سے دور دور چلاجائے تو مضائقہ نہیں، اور  اگر مسلمان ہی قریب ہے کوئی کافر قرابت دار نہیں جب بھی مسلمان پر اس کی تجہیز و تکفین ضروری نہیں، اگر اس کے ہم مذہب کافروں کو دے دے یا بے غسل وکفن کسی گڑھے میں پھنکوادے ، جائز ہے۔ او ر اگر بلحاظ قرابت غسل و کفن ودفن کرے تو بھی اجازت ہے مگر کسی کام میں رعایت طریقہ مسنونہ نہ کرے، نجاست دھونے کی طرح پانی بہادے، کسی چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبادے۔
رب انی اعوذبک من الکفر والکافرین
( اے رب ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اور کافروں سے ۔ت )
درمختار میں ہے :
 ( یغسل المسلم ویکفن  ویدفن قریبہ) کخالہ ( الکافر الاصلی) اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب ( عند الاحتیاج) فلولہ قریب فالا ولی ترکہ لھم من غیر مراعاۃ السنۃ) فیغسلہ غسل الثواب النجس ویلفہ فی خرقہ ویلقیہ فی حفرۃ ۱؎ اھ اقول ولفظ البحر حفیرۃ ۲؎ اھ
 (مسلمان اپنے قرابت دار) جیسے ماموں (کافر اصلی کو) غسل وکفن دفن کرے،رہا مرتد تو اسے کسی گڑھے میں کتے کی طرح دبادے ( ضرورت کے وقت) تو  اگر  اس کا کوئی اور قرابت دار ہے توبہتر یہ ہے کہ انھیں دے دے (بغیر رعایت سنت کے غسل اور کفن دفن کرے) توکسی ناپاک کپڑے کی طرح دھوئے او رکسی چیتھڑے میں لپیٹ کر کسی گھڑے میں ڈال دے اھ
 (۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۳)

(۲؎ بحرالرائق    کتاب الجنائز    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۱۹۳)
اقول و لفظ البحر حفيرة اھ قال الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی ای بدون لحد ولا توسعۃ ۱؎ اھ وفی الایضاح ومراقی الفلاح فی خرفۃ ، والقاہ فی حفرۃ من غیر وضع کالجیفۃ مراعاۃ لحق القرابۃ  او دفع القریب الی اھل ملتہ، ویتبع جنازتہ من بعید، وفیہ اشارۃ الی ان المرتد لایمکن منہ احد لغسلہ لان لاملۃ لہ فیلقی کجیفۃ کلب فی حفرۃ ۲؎ اھ
اقول بحر کی عبارت میں حفیرۃ ( تنگ کڑھا) ہے۔ طحطاوی نے حاشیہ مراق الفلاح میں کہا یعنی لحداور کشادگی کے بغیر اھ ایضاح اور مراقی الفلاح میں ہے اسے کسی ناپاک کپڑے کی طرح دھوئے اور کسی معمولی کپڑے میں کفن دے کر کسی گڑھے میں مردارکی طرح ڈال دے تاکہ حق قرابت کی رعایت ہوجائے یا قرابت دار  اس کے اہل مذہب کو دے دے اور خود دور سے جنازے، کے  پیچھے چلا جائے، او راس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مرتد کو غسل کے لئے کسی کو نہ دے اس لئے کہ اس سے کوئی رشتہ وتعلق نہیں تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دے گا اھ
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  فصل السلطان احق بصلٰوۃ  نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۳۰)

(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    فصل السلطان احق بصلٰوۃ    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ص ۳۳۰)
مختصرا وفی  ردالمحتار قولہ یغسل المسلم ای جواز لا ن من شروط وجوب الغسل کون المیّت مسلما  ۳؎ الخ۔
مختصراً___ردالمحتار میں ہے مسلمان کا کافر اصلی قرابت دار کو غسل دینا صرف جوازاً  ہے اس لئے کہ وجوب غسل کی شرطوں میں یہ ہے کہ میّت مسلم ہو الخ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار   باب صلٰوۃ الجنائز     ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱/ ۵۹۷)
کشف الغطاء میں جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :
اگر قریب نباشد دفع کردہ شود باہل دین او تاہر چہ خواہند بوے کنند ۴؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اگر کوئی مسلمان قرابت دار نہ ہو تو اس کے اہل مذہب کو دے دیا جائے گا کہ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔  واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۴؎ کشف الغطاء     فصل دفنِ میّت     مطبع احمدی دہلی    ص ۴۷)
مسئلہ ۱۱۰: لوگوں میں رسل ہے کہ میّت کو دفن کرکے اس کے مکان میں آتے ہیں او رکہتے ہیں فاتحہ پڑھ لو، پھر کچھ پڑھتے ہیں او ر ہاتھ اٹھاتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے ؟ بینو توجروا
  الجواب 

اصل اس فعل میں کوئی   حرج  نہیں کہ ایصال ثواب سے اموات کی اعانت اور ان کےلئے دعائے مغفرت اور  پسماندوں کو تسکین وتعزیت سب باتیں شرعاً محمود و روا۔
فقد روی الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن عزی مصابا فلہ مثل الجرہ ۱؎ و ایضا
ترمذی کی روایت نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے تو  اسے بھی اسی کی طرح اجر ملے۔
(۱؂جامع الترمذی    ابواب الجنائز      کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۱/ ۱۲۷)
عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من عزی ثکلے کسی بردا فی الجنۃ  ۲؎
امام ترمذی ہی کی دوسری روایت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ ہے: جو مرگِ فرزندکی مصیبت زدہ کسی عورت کو تعزیت کرے اسے جنت میں عمدہ چادر  پہنائی جائے،
 (۲ جامع الترمذی    ابواب الجنائز     کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۱/ ۱۲۷)
وابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن مومن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اﷲ تعالٰی من حلل الکرامۃ یوم القٰیمۃ ۳ ؎ ۔
ابن ماجہ او ربہیقی نے بسند حسن روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو مومن بھی کسی مصیبت پر اپنے بھائی کی تعزیت کرے خدا تعالٰی اسے قیامت کے دن عزت  و کرامت کا لباس پہنائے گا (ت)
 (۳؎ سنن ابن ماجہ    باب ماجاء فی ثواب من عزی مصاباً    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۱۱۶)
علامہ ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
التعزیۃ مستحب قد ندب الیہ الشارع فی غیرماحدیث ومن ذلک ماروی ابن ماجۃ  والبیھقی باسناد حسن الٰی ان قال وحسن ان یقرن مع الدعاء لہ بجزیل الثواب علی مصابہ لمیّتہ بالرحمۃ والمغفرۃ و قد نبھنا الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ھذا المقصود فی غیرما حدیث  ۴؎ الخ اھ ملخصا۔
تعزیت مستحب ہے شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں اس کی ترغیب دی ہے، ان میں سے ایک حدیث ہو ہے جسے ابن ماجہ  وبہیقی نے بسندِ حسن روایت کیا (حدیث مذکور پیش کرنے کے بعد فرمایا) او ر اچھا یہ ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے عظیم ثواب کی دعا کرنے کے ساتھ اس کے مردے کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا بھی کرے۔ اس خاص مقصد پر بھی شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں ہمیں متنبہ اور خبردار کیا ہے الخ اھ تلخیص (ت)
 (۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی    )
اور میاں اسحٰق صاحب دہلوی کو تسلیم ہے کہ ہاتھ اٹھانا مطلقاً دعا کے آداب سے ہے۔ توا س وقت بھی کچھ مضائقہ نہیں رکھتا ۔
Flag Counter