مسئلہ ۱۰۶: از گیا محلہ مرادپور مرسلہ تیغ علی صاحب ۲۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
جس گورستان کی بوجہ کمیِ زمین وکثرت دفنِ مردگان سے یہ حالت ہوگئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں اور بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو کہ ان سب شکایتوں سے پاک وصاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال مدفن ہونے آباء واجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مردوں کی ہڈیان اُکھاڑ کر مردا دفن کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
صورتِ مذکورہ محض ناجائز و حرام ہے
صرح بہ علماؤ نا قاطبۃ فی غیر ماکتاب
( ہمارے علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۷: از گیا محلہ مراد پور مرسلہ تیغ علی صاحب ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
جناب مولانا قبلہ ہادی صراط مستقیم دام افضالکم، بعدسلام مسنون ملتمس خدمت ہے کہ حضور نے بجواب
استفتائے ہذا ارشاد فرمایا ہے کہ صورتِ مذکورہ بالا محض ناجائز وحرام ہے اور مدرسہ دیوبند کا فتوٰی بجنسہٖ ارسال خدمت کرکے امیدوار کہ کس پر عمل کرنے کا حضور والا سے ارشاد ہوتا ہے اور جناب مولانہ سجاد حسین صاحب بہاری مدرس اول وناظم مدرسہ انورالعلوم کا فتوٰی بموجب اقوالِ فقہاء حضور کی مطابقت میں ہے۔
سوال : جس گورستان میں بوجہ کمیِ زمین وکثرت دفنِ مردہ گان یہ حالت ہوگئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو ان سب شکایتون سے پاک اور صاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال ہونے جائے مدفن آباء واجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مُردے کی ہڈیاں اکھاڑ کر مردہا دفن کرنا شرعاً جائز و درست ہے یا نہیں؟ راقم استفتاء ھذا بندہ عاصی تیغ علی عفاعنہ الباری ساکن مراد پور گیا۔
الجواب: دفن کرنا اس گورستان میں درست ہے اگر ہڈیاں ظاہر ہوں، ان کو ا یک طرف کردیا جائے لیکن اگر دوسری جگہ صاف اور خالی ہو تو وہاں دفن کرنا اولٰی ہے۔ فقہاء نے اس بارے میں یہ تفصیل کی ہے کہ کہنہ قبور میں دوسرے میّت کو دفن کرنا درست ہے اور قبر جدید کھود کر اس میں دوسری میّت کو دفن کرنا درست نہیں ہے ۔ شامی میں ہے :
اگر میّت بوسدہ ہو کر مٹی ہوجائے تو اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا، وہاں کھیتی باڑی کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز ہے الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱/ ۵۹۹)
اس کے بعد تاتار خانیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ باوجود دوسری جگہ خالی ملنے کے ایسا کرنا بلا ضرورت اچھانہیں، پس مدار ضرورت وعدم ضرورت پر ہے۔ اگر ضرورت ہو پُرانی قبر میں میّت کو دفن کرنا بلاکراہت درست ہے اور اگر ضرورت کچھ نہ ہو بلکہ دوسری جگہ صاف وخالی ہو تو اگر چہ پھر بھی درست ہے مگر غیر اولٰی مکروہ تنزیہی۔
الجواب
حکمِ شریعتِ مطہرہ وہی ہے کہ فقیر نے فتوٰی سابقہ لکھا بحالت یعنی بحالتِ مذکورہ اس قبرستان میں دفن کرنا محض ناجائز و حرام ہے۔ فتوٰی دیوبند صریح باطل و مردود ہے اور خیانت وتحریف وافترا و تناقض و سفاہت سے مملو ۔ مسئلہ بہت ظاہر و واضح ہے لہذا ہم نے کسی خاص کتاب کا حوالہ نہ دیا بلکہ اتنا لکھ دیاکہ ہمارے علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی۔ اب اوہام جہال مدعیان علم وکمال کے ازالہ کو چند نصوص ذکر کریں، امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہام رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینھما حاجز من تراب ۱؎۔
یعنی بلامجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت، مگر جبکہ پہلا بالکل خاک ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تک نہ رہی، ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایک طرف جمع کرکے انھیں اور اس میّت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۰۲)
تارتار خانیہ و امدادالفتاح میں ہے :
اذا صار المیّت ترابانی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ وان جمعوا عظامہ فی ناحیۃ ثم دفن غیرہ فیہ تبرکان بالجیران الصالحین ویوجد موضع فارغ یکرہ ذلک ۲ ؎ ۔
یعنی اگر میّت بالکل خاک ہوجائے جب بھی اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا ممنوع ہے کہ حرمت اب بھی باقی ہے، اور اگر مزاراتِ صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے میّت کی ہڈیاں ایک کنارے جمع کردیں تو اب بھی ممنوع ہے جبکہ فارغ جگہ دفن کو مل سکتی ہے ۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی تاتار خانیۃ الجنائز، القبر والدفن ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲/ ۱۷۲)
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی حلیہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلتہ اغبیاء من الحفارین وغیر فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من بنش القبور التی لم یبل اربابھا وادخال اجانب علیھم، فھو من المنکر الظاھر الذی ینبغی لکل واقف علیہ انکار ذلک علی متعاطیہ بحسب الاستطاعۃ فان کف والا دفع الٰی اولیاء الامور وفقھم اﷲ تعالٰی لیقا بلوہ بالتادیب، ومن المعلوم ان لیس من الضرورۃ المبیحۃ جمع میّتین ابتداء فی قبر واحد لقصد دفن الرجل مع قریبہ او ضیق محل الدفن فی تلک المقبرۃ مع وجود وغیرہا وان کانت تلک المقبرۃ مما یتبرک بالدفن فیھا البعض من بھا من الموتٰی فضلا عن کون ھذہ الامور و ما جری مجرھا مبیحۃ للنبش وادخال البعض علی البعض قبل البلی مع مایحصل فی ضمن ذلک من ھتک حرمۃ المیّت الاول وتفریق اجزائہ فالحذر من ذلک ۱ ؎ ۔
یعنی بلا مجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تَہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصاً جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو ابھی خاک نہ ہوا او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیر وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خال نہ ہو کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے، او راس کے روکے نہ رُکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں، اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیز یا تبرک کے لئے کسی مزار کے پاس دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایک قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو، نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا، او ر ایک کے خاک ہونے سے پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا، یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی ہتک حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے بچو۔
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ حلیہ ملخصاً باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۵۹۸ )
ان نفیس عبارات کے بعد زیادہ کی حاجت نہیں۔ طرفہ یہ کہ دیوبندی نے جہاں سے شامی کی عبارت نقل کی ہے وہیں وہ فتح القدیر کا کلام منقول تھا اسے چھوڑدیا، یہ خیانت ہے، وہیں حلیہ کا یہ قاہر کلام ملخصاً مذکور تھا اسے بھی اُڑادیا، یہ دوسری بھاری خیانت ہے۔ وہیں تاتار خانیہ کی وہ عبارت مسطور تھی جس کا ترجمہ یہ کیا کہ ''بلاضرورت ایساکرنا اچھا نہیں '' جس کا حاصل خودیہ نکلا کہ ''غیر اولٰی یعنی مکروہ تنزیہی'' حالانکہ تارتار خانیہ میں دوجگہ یُکْرَہُ فرمایا جس کا اطلاق مفید کراہت تحریم ہے اور اس کی دلیل فرمائی تھی کہ حرمت اب بھی باقی ہے جس سے صاف ممانعت روشن تھی ، کیا مسلمان میّت کی بیحرمتی درست ہے، صرف غیر اولٰی ہے۔ اس تعلیل کو اُڑاجانا تیسری خیانت ہے۔ یہیں شامی نے اس پر اپنی بحث میں کہا تھا کہ مگر اس میں بہت مشقت ہے تو اولٰی یہ ہے کہ جواز کا مدار میّت کے خاک ہونے پر رکھیں' جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ تار تارخانیہ میں خاک ہونے کے بعد بھی ناجائز فرمایا ہے نہ کہ صرف غیر اولٰی۔ یہ دیکھ کر وہ معنی بنانا تحریف ہے۔ وہیں عبارات امام محمد حلبی میں یہ دیکھنا کہ اپنے عزیز یا کسی مزار کے قریب میں دفن کا قصد وہ ضرورت نہیں جس کے باعث ابتداء ایک قبر میں دو کا دفن مباح ہوجائے، صاف ثابت ہوا کہ ایسا کرنا حلال نہیں، پھر اسے غیر اولٰی پر ڈھالنا دوسری تحریف نیز اسی عبارت میں ارشاد ہو ا تھا کہ پھر ان وجوہ سے اگلی قبر کھودکر دوسری کادفن کرنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ اس سے آنکھ بند کرکے وہ گھڑت تیسری تحریف ہے۔پھر وہیں یہ دیکھنا کہ اس میں مسلمان میّت کی بیحرمتی ہے اور اس پر وہ تراش چوتھی تحریف ہے۔ وہیں یہ دیکھنا کہ اس میں مسلمان میّت کی ہڈی علیحدہ کرنا ہے اور اس پر وہ اختراع پانچویں تحریف ہے ۔ پھر اپنے اس معنی تراشیدہ کو فقہا ء کی طرف نسبت کرنا صریح افترا ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ عبارتِ شامی نقل کی جس میں امام زیلعی سے ہے کہ میّت خاک ہوجائے تو اس کے بعد دوسرے کو اس کی قبر میں دفن کردینا جائز ہے، صاف ثابت ہوا کہ قبل اس کے ناجائز ہے، پھر اس اپنے رَد کو اپنی سند بنانا کیسی کھلی سفاہت ہے۔ فقہائے کرام سے نقل کیا کہ کہنہ قبور میں دوسرے میّت کو دفن کرنا درست ہے جدید کھود کر اُس میں دوسرے کو دفن کرنا درست نہیں، پھر کہنہ وجدید ایجاد بندہ ہے جس کے معنی یہ ٹھہرا سکے کہ دوچار مہینے یاسال دوسال گزر سکے تو اب جدید قبر ہی نہ رہی، مسلمان کی ہڈیاں کھودنا حلال ہوگیا، حالانکہ خودا س کی عبارت نقل کردہ میں ارشاد فقہاء یہ ہے کہ میّت خاک ہوجائے تو جائز ہے ورنہ نہیں، اب کہنہ وجدید کے یہ معنی متعین ہوگئے اس پر اسے گورستان کی نسبت جسے سائل نے صاف لکھا تھا کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مُردوں کی ہڈیا نکلتی ہیں اور اس پر گورستان صاف وپاک اس کے متصل موجود ہے یہ حکم لگا نہ کہ دفن کرنا دوسرے گورستان میں درست ہے ، صریح تنا قض، فقہا ئے کرام نے بحال ضرورت اجازت دی خود اسی فتوٰی میں کہا مدار ضرورت اور عدمِ ضرورت پر ہے۔ پھر بلا ضرورت صرف غیر اولٰی رکھنا کیسی شدید سفاہت ہے، غیر اولٰی کی اجازت کو ضرورت کیا درکار، وہ بلاضرورت بھی جائز ہوتا ہے، ہاں ناجائز بات کی اجازت کو ضرورت کی ضرورت ہوتی ہے کہ
الضرورات تبیح المحظورات
( ضرورتیں منع کردہ چیزوں کو جائز کردیتی ہیں ۔ت) اس فتوے کے کاتب کے قلم سے چھوٹی آٹھ سطریں ہیں ان میں یہ بارہ (۱۲) کمالات بنگاہِ اولیں حاضر ہیں، تحریفیں، خیانتیں، افتراء، تناقض، سفاہتیں، معاذاﷲ کہ شرع ایسوں کو قابل افتا ٹھہرائے، یہ سب درکنار علمائے حرمین شریفین نے دیوبند کے پیشواؤں پر نام بنام حکمِ ارتداد دیا اور فرمایا:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱ ؎ ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کرا ن کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔
(۱؎ دُرمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
پھر ان لوگوں کو عالمِ دین سمجھنا یا ان سے کوئی شرعی فتوٰی طلب کرنا کیسے حلال ہوسکتا ہے، حرام حرام سخت حرام ہے، اس مسئلہ کی تحقیق میں کلام طویل ہے۔ ہمارے رسالہ اھلاک الوھابیین سے ثابت ہے کہ میّت اگر چہ خاک ہوگیا ہو بلاضرورت شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا جائز نہیں جیسا کہ تارتاخانیہ وغیرہا میں فرمایا، مگر کسی کی مملوک زمین ہے خاک ہوجانے کے بعد وہ اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے، عبارتِ تبیین کا یہی محل ہے، بہر حال خاک ہوجانے سے پہلے بلا مجبوری کسی کی نزدیک جائز نہیں، رہی بحث شامی کی مشقت عظیمہ اقوال مدفوع ہے کہ محلِ ضرورت مستثنٰی ہے، مگر صورت سوال کہ نئی قبریں کھودنے سے بکثرت ہڈیا نکلتی ہیں اور دوسرا صاف قبرستان اس کے متصل موجود ہے ۔ اس میں تو وہابیہ کے سوا جن کی نگاہ میں امواتِ مسلمین کی اصلاً عزت نہیں، کوئی مسلمان قائلِ جواز نہیں ہوسکتا، شامی کا علاوہ بھی اس کی طرف ناظر نہیں ہوسکتا۔
فانہ فی المنع من الحفر ان لایبقی عظم اصلا لافی ھذا' علٰی انہ بحث فیہ علٰی خلاف المنصوص اقول وقد یکون عظم امرأۃ فکیف یحل للاجانب النظر الیہ ومسہ کشعرھا المقطوع کمانصوا علیہ فافھم۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اس لئے کہ کھودنے سے ممانعت کے بارے میں ہے مگر یہ کہ اصلا کوئی ہڈی باقی نہ رہ جائے ____ اس کے بارے میں نہیں___ علاوہ ازیں وہ نص کے خلاف ا ن کی بحث ہے ___اقول ایسا بھی ہوگا کہ ہڈی کسی عورت کی ہو تو نامحرموں کا اسے دیکھنا چھونا حلال نہیں، علمائے کرام نے ا س کی تصریح فرمائی ہے __ تواسے سمجھو ____ او ر خدائے بزرگ وبرتر خوب جاننے والا ہے ۔ت)