مسئلہ ۱۰۴: از گور کھپور ۱۲ شوال۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میونسپلٹی مسلمانوں سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر کوئی امر مانع ہو تو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لئے میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مُردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہیں ہوسکتی ایک فیس مقررہ لے گی، او رخام وپختہ میں فرق ہوگا۔ اور زمین خریدنے کا قاعدہ یہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو، بیچنا نہ چاہتا ہو، یہ کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کی جائے گی نہ وہ راضی کیا جائیگا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت ا س کو دے دی جائے گی او ر اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے اس طرح زمین کا معاوضہ جبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعاً ناجائز و غصب ہے یا نہیں اور اس میں مسلمان مُردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کرکے جائز ہے یا نا جائز ؟ مکروہ ہے یا حرام ؟ اور مُردے دفن کرنے والا مسلمان داخلِ معصیت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
چونگی کا روپیہ درکنار، اگر کوئی مسلمان ہی اپنے خاص مملوک بملک حلال وطیب سے زمین اس طریقہ جبر پر خریدے وہ قطعاً حرام ہوگی اور زمین حکماً مغصوب، او راس میں بروجہ مذکور مُردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت، یہاں تک کہ بعد دفن مُردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
لاینبغی اخراج المیّت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ۔ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم
بعد دفن میّت کو قبر سے نکالنا چاہئے مگر جب زمیں غصب کی ہوئی یا حقِ شفعہ سے دوسرے نے لے لی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبروالدفن نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷)
مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۹ : از فتحپور ہسورہ محلہ جری ٹولہ مرسلہ محمود علی صاحب اہلمد کلکٹری ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱) قبرستان باشندگانِ قر ب وجوار کے لئے مضر صحت ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(۲) تبدیلی قبرستان بلاعذرِ شرعی جائز ہے یا نہیں؟
(۳) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس میں پہلے غلیظ دفن ہورہا ہے جاری کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۴) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس کے قرب میں اب غلیظ دفن ہورہا ہے جائز ہے یا نہیں؟
(۵) مُردہ کو کس طرح قبر میں دفن کرنا چاہئے؟ جواب بحوالہ کتب معتبرہ مرحمت ہو۔
الجواب
(۱) شریعتِ مطہرہ نے قبر کا گہرا ہونا اسی واسط رکھا ہے کہ احیاء کی صحت کر ضرر نہ پہنچے درمختار میں ہے:
حفر قبرہ مقدار نصف قامۃ فان زاد فحسن ۲ ؎ ۔
میّت کی قبر نصف قد کے برابر کھودی جائے ، اگر زیادہ ہو تو اچھا ہے ۔(ت)
(۲درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۴)
ردالمحتار میں ہے:
وان زاد الی مقدار قامۃ فھو احسن کما فی الذخیرۃ وھذا احدالعمق والمقصود منہ المبالغۃ فی منع الرائحۃ ونبش السباع ۲؎ ۔
اگر قد برابر زیادہ کیا تو زیادہ اچھا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اور یہ گہرائی کی حد ہے، اس کا مقصد بُو روکنے اور درندوں کے اکھاڑنے سے بچانے میں مبالغہ ہے ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۴)
بلکہ ہزاروں لاکھوں آدمی مقابر کے قریب بستے ہیں بلکہ ہزاروں وہ ہیں جن کا پیشہ ہی تکیہ داری یا قبور کی مجاورت ہے ان کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں آتا، جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) تبدیلی سے اگر یہ قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو یہ قطعی حرام اور بوجوہ حرام کہ وقف میں تصرف بیجا ہے اور وقف نہ بھی ہو تو قبور مسلمین کی توہین وبیحرمتی ہے۔ قبر پر چلنا پھرنا، پاؤں رکھنا حرام ہے چہ جائکہ انھیں پامالی کے لیے مقرر کرلینا ____ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ
اھلاک الوھابین فی توھین قبور المسلمین
میں ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لا یجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ ۲؎ ۔
وقف کی ہیأت بدلنا جائز نہیں ۔(ت)
(۲ ؎فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الوقف الباب العاشرفی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)
بہت زیادہ بُرا یہ ہے کہ ا س میں ایک سال مردے دفن ہوں اور ایک سال کھیتی ہو ۔(ت)
(۳؎ الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۱۸)
ردالمحتار میں ہے :
انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام ۴؎ ۔
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نَوپیدا راستے میں چلنا حرام ہے ۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ العربیۃ مصر ۱ / ۲۲۹)
اسی طرح طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ مقبرہ بدستور رکھا جائیے گام اس میںکوئی تصرف نہ کیا جائے گا۔ مگراس میںدفن کرنا روک دیا جائے گا اور اس کے عوض دوسری زمین میں دفن کرنے لگیں، تو یہ اگریوں ہے کہ پرانا مقبرہ بالکل بھرگیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی توبے شک مناسب ہے اگر دوسری جگہ معقول وقابل قبور مسلمین مل سکے اور اگریہ بھی نہیں بلکہ قبور کے لئے جگہ موجود ہے اور پھر منع کیاجائے تو دو صورتیں ہیں اگر وہ جگہ جہاں اموات دفن ہو تے تھے کسی شخص خاص کی ملک ہے کہ اس کی اجازت سے دفن ہوتے تھے تو بلاشبہ اسے اختیار ہے کہ میّت کو نکلوادے۔ درمختار میں ہے :
مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے، مثلاً زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالک کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر زمین کے برابر کردے (ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۶)
اگر وہ کسی کا مملوک نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملک ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تک نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے :
یکرہ بول وغائط فی المقابر ۲ ؎
( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ت)
(۲درمختار فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷)
طحطاوی و ردالمحتار میں ہے:
الظاھر انھا تحریمۃ ۳؎
( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۲۲۹)
(۴) اس سے بھی شرعاً منع کیا جائے گا، جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی، جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی، او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تک وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المیّت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ۴ ؎ ۔
جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔
(۴ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر۱/ ۲۲۹)
علامہ طحطاوی و علامہ شامی نے اسی مسئلہ کی دلیل میں کہ مقابر میں پیشاب کرنا ممنوع ہے، فرمایا:
لان المیّت یتأذی بہ الحی ۱؎
( جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ /۲۲۹)
(۵) صالحین کے قریب دفن کرنا چاہئے کہ ان کے قرب کی برکت اسے شامل ہوتی ہے۔ اگر معاذاﷲ مسحقِ عذاب بھی ہوجاتا ہے تو وہ شفاعت کرتے ہیں ، وہ رحمت کہ ان پر نازل ہوتی ہے اسے بھی گھیر لیتی ہے،
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ادفنو اموتاکم وسط قوم صالحین ۲؎ ۔
اپنے اموات کوا چھے لوگوکے درمیان دفن کرو ۔
(۲؎ الموضوعات لابن جوزی باب دفن المیّت فی جوار الصالحین دارالفکر بیروت ۳ /۲۳۷)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم ۳؎
ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔
(۳؎ المدخل لا بن الحاج صفۃ القبور دارالکتاب العربیہ بیروت ۳/ ۲۶۹)
اور اگر صالحین کا قرب میسر نہ ہو تواس کے عزیزوں قریبوں کے قریب دفن کریں کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں ا ۤدمی اپنے اعزّا کے قرب سے خوش ہوتا ہے اور ان کی جدائی سے ملول، اسی طرح بعد موت بھی۔ ہم ابھی حدیث وفقہ کو ذکر کر آئے کہ مردے کو ہر اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندہ کو۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل
( اور ہمیں اﷲ کافی ہے او روہ کیاہی اچھا کرساز ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔