Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
80 - 243
مسئلہ ۹۸: از دلیر گنج پرگنہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہٰی بخش ۱۸ رجب ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ یا شبِ جمعہ کے سوا کسی اور دن میں مسلمان کا اتنقال ہو تو اس کو جمعہ کے سپرد کرنا یعنی جمعہ تک قبر پر بیٹھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب

بعد دفن اتنی دیر بیٹھنا کہ ایک اونٹ ذبح کیا جائے، مسنون ہے۔ صحیح مسلم شریف میں اس بارے میں حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث وارد ہے ۲؎  اور زیادہ دیر یا دنوں تک بیٹھنا بھی ممنوع نہیں، بلکہ وہاں لغو وبیہودہ باتیں کرنے، ہنسنے وغیرہ غفلت وقسوت کی حرکات سے بچیں، اور تلاوت و درود خوانی اور اعمال حسنہ میں مشغول رہیں کہ یہ امور موجب نزولِ رحمت ہوتے ہیں، اور احیاء کے پاس ہونے سے مردے کا دل بہلتا ہے
کما بیناہ فی "حیاۃ الموات"
 ( جیسا کہ اسے ' حیات الموات' میں بیان کیاہے ۔ ت) جمعہ تک بیٹھنے کا منشاء غالباً وہ روایت ہے
 (۲؎ صحیح مسلم   کتاب الایمان   نور محمد اصح المطابع کراچی  ۱ /۶ ۷ )
جوامام نسفی نے بحرالکلام میں ذکر فرمائی کہ مسلمان پر معاذاﷲ عذابِ قبر اگر ہو تا ہے تو صرف جمعہ تک ہوتا ہے شبِ جمعہ آتے ہی اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر عود نہیں کرتا۔ امام سیوطی و علامہ علی قاری کو اگر چہ اس روایت میں توقف ہے مگر عقلاً وشرعاً امر نافع محض کو صرف احتمال کا فی ہوتا ہے۔ اگر یہ روایت مطابق واقع ہے تو جب تک معاذاﷲ اندیشہ تھا۔ ایصالِ ثواب واستنزالِ برکات ذکر وقران سے اس کی مدد کی گئی، جب جمعہ آگیا خود رحمتِ الہٰی اس کی متکفل ہولی۔ اور اگر نا مطابق ہے تو اتنے دنوں آخر مسلمان محتاج کی مدد و نفع رسانی ہی ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ(ف) فلینفعہ ۱؎ ۔ رواہ مسلم عن جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
تم میں جو اپنے بھائی مسلمان کو نفع پہنچاسکے پہنچائے، اسے مسلم نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے ۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم    باب استحباب الرقیۃ الخ    نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲/ ۲۲۴)
بہر حال یہ کام خیر سے خالی نہیں جبکہ نیۃً یا عملاً اس کے ساتھ کوئی محذورِ شرعی نہ ہو۔ شرح الصدور شریف میںہے:
عمم النسفی فی بحرالکلام فقال ان الکافر یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا وجمیع شھر رمضان، قال واما المسلم العاصی فانہ یعذب فی قبرہ لکن یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا ثم لایعود الیہ الٰی یوم القٰیمۃ وان مات یوم الجمعۃ اولیلۃ الجمعۃ یکون لہ العذاب ساعۃ واحدۃ وضغطۃ القبر کذلک ثم ینقطع عنہ العذاب ولایعود الیہ الٰی یوم القیمۃ انتھی وھذا یدل علٰی ان عصاۃ المسلمین لا یعذبون سوی جمعۃ واحدۃ وحدۃ اودونھا وانھم اذا وصلوا الٰی یوم الجمعۃ انقطع ثم لایعود وھو یحتاج الٰی دلیل۱؎ اتنھی۔
امام نسفی نے بحرالکلام میں عام لگاتے ہوئے کہا کہ روز شب جمعہ اور پورے ماہ رمضان میں کافر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے او رگنہگار مسلمان کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے،مگر اس سے روز اور شب جمعہ اٹھا لیا جاتا ہے  پھر قیامت تک دوبارہ عذاب نہیں ہوتا، اور اگرروزِ جمعہ یا شب جمعہ کو انتقال کیا ہے تو صرف ایک ساعت عذاب ہوتا ہے۔ قبر کے دبانے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ پھر اس سے عذاب بند ہوجاتا ہے اور قیامت تک پھر نہیں لوٹتا۔ انتہی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ گنہگار مسلمانوں کو ایک جمعہ تک یا ا س سے بھی کم عذاب ہو گا اور جب جمعہ کادن آجائے گا تو بند ہوجائے گا پھر دوبارہ نہ ہوگا۔ اس بارے میں دلیل کی ضرورت ہے انتہی ۔(ت)اسی طرح منح الروض الازہر میں ہے۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎شرح الصدر بشرح حال الموتٰی والقبور    باب عذاب القبر    خلافت اکیڈ می منگورہ سوات    ص۷۶)
مسئلہ ۹۹ تا  ۱۰۲: کیا فرماتے ہین علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :

(۱) میّت کا دفن بلا اجازت کسی شخص کی اراضی میں کوئی قابل مواخذہ فعل ہے ؟

(۲) کیا ایسا کرنے والے گنہگارنہ ہوں گے؟

(۳) کیا میّت کے حق میں یہ فعل اَولٰی ہے؟

(۴) اگر میّت وصیت اس کے متعلق کرے توکیا پسماندہ گانِ میّت اس پر اس طور سے عمل کریں کہ بلااجازت مالک زمین کے میّت کو دفن کردیں تو کیا عندالشرع ی فعل میّت یا پسماندگان کے واسطے موجبِ ثواب ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب

بے اجازت مالک اس کی زمین میں دفن کرنا حرام ہے۔ ایسا کرنے والے گنہگار ہیں، میّت اگر اس کی وصیّت یُوں کر گیا کہ چاہئے مالک اجازت دے یا نہ دے مجھے وہیں دفن کرنا تو وہ بھی سخت گنہگار ہے۔ میّت یا پسماندگان کے لئے ثواب کیسا! اس میں استحقاقِ عذاب ہے، مالک کو اختیار ہے کہ میّت کی نعش نکال دے اور اپنی زمین خالی کرلے یا نعش رہنے دے اور قبر برابر کرکے اس پر جو چاہے بنائے، چلے پھرے، تصرف کرے کہ قبر کی جو حدیثیں ہیں ایسی ناجائز قبرکے لیے نہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس لعرق ظالم حق ۲؎
 ( کسی ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں ۔ ت)
 (سنن ابی داؤد    باب احیاء الموات    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۸۱)
درمختار میں ہے:
لا یخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ ویخیر المالک بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۳؎ ۔
مٹی ڈالنے کے بعد میّت کو قبر سے نہ نکالا جا ئے گا مگر کسی آدمی کے حق کے باعث مثلاً یہ کہ زمین غضب کی ہوئی ہو اور مالک کو اختیار ہوگا کہ مُردہ کو باہر نکالے یا قبر زمین کے برابر کردے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب صلٰوۃ الجنازہ    مطبع مجتبائی دہلی        ۳/ ۱۲۶)
یہ اصل حکم فقہی ہے، مگر مسلمان نرم دل اور دوسرے مسلمان خصوصاً میّت پر رحم دل ہوتا ہے،
قال اﷲتعالٰی رحماء بینھم ۱؎
 ( اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: وہ آپس میں رحم دل ہیں ۔ت) اگر وہ در گزر کرے گا اللہ عزوجل ا سکی خطاؤں سے درگزر فرمائے گا
الاتحبون ان یغفر اﷲ لکم ۲؎
 ( کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ خدا تمھیں بخشے ؟۔ ت)
(۱؎ القرآن        ۴۹/ ۲۹)

(۲؎ القرآن     ۲۴/ ۲۲)
اگر وہ اپنے مردہ بھائی پر احسان کرے گا اللہ اس پر احسان کرئے گا
کما تدین تدان ۳؎
 ( جیساتم کروگے ویسا ہی تمھارے ساتھ کیا جائے گا ۔ت)اگر وہ اپنے مردہ بھائی کا پردہ فاش نہ کر ےگا اﷲ اس کی پردہ پوشی کرےگا
من ستر سترہ اﷲ ۴؎
 ( جو کسی کی پردہ پوشی کرے خدا اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔ت) اگر وہ اپنے مردہ بھائی کی قبر کا احترام کرے گا اﷲ اس کی زندگی وموت میں اسے احترام بخشے گا۔
اﷲ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ ۵؎
 ( اللہ بندے کی مدد فرماتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
  (۳؎ الاسرارالمعرفوعۃ    حرف الجیم حدیث ۳۹۴     دارالکتب العلمیّتہ بیروت    ص ۱۰۳)

 (۴؎ مشکٰوۃ المصابیح    باب الشفقۃ علی الخلق        مطبع مجتبائی دہلی    ص۴۲۲)

(۵؎ صحیح مسلم        باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن    نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲ /۳۴۵)
مسئلہ ۱۰۳: از حیدر آباد دکن شہر سکندر آباد محلہ نلاگٹہ مکان سید محمد اکبر صاحب ماسٹر ریلوے مرسلہ سید غلام غوث صاحب ۶ صفر ۱۳۱۷ھ

زمین جو دوامی پٹہ کی ہو اس میں دفن جائزہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دفن کے لیے ملکی زمین چاہئے، پھر اس بناء پر تو جاگیرات میں دفن جائز نہ ہوگا ۔بینوا توجروا
الجواب

بلاشبہ جائز ہے جبکہ بااجازت مستاجر ہو۔ ملکِ غیر ہونا منافیِ جوازِ دفن نہیں، غایت یہ کہ مالک کو ازالہ قبر کا اختیار ہوگا۔ مگر جب اس کا اجارہ دوامی ہو تو مالک کی طرف سے یہ اندیشہ بھی نہیں یہاں تک کہ علماء نے دوامی اجارہ کی زمین میں مسجد بنانے کی اجازت دی او راس میں وقف صحیح مانا اسی بنا پر کہ وہ ہمیشہ رہے گی تو تائید حاصل ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی اسعاف وذکر فی اوقاف الخصاف ان وقف حوانیت الاسواق یجوزان کانت الارض باجارۃ فی ایدی الذین بنوھا لایخرجھم السلطان عنھا' من قبل انا رأیناھا فی ایدی اصحاب البناء توارثوھا وتقسم بینھم لایتعرض لھم السلطان فیھا ولایز عجھم وانمالہ غلۃ یا خذھا منھم وتداولھا خلف عن سلف ومضی علیھا الدھو روھی فی ایدیھم یتبا یعونھا ویوجرونھا وتجوزفیھا وصایا ھم ویہدمون بنائھا ویعیدونہ ویبنون غیرہ فذلک الوقف فیھا جائز انتہی واقرہ فی الفتح وقد علمت وجھہ وھو بقاء التابید ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اسعاف میں ہے کہ اوقاف خصاف میں مذکور ہے کہ دکانوں کاوقف جائزہے اگر زمین اجارہ کے ذریعہ ان لوگوں کے قبضے میں ہو کہ سلطان ان کو اس سے نہ نکالے، اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعمیر کرنے والوں کے ہاتھ میں رہتی ہیں ان کے درمیان ان میں وراثت اور تقسیم جاری ہوتی ہے سلطان ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ نہ ہی ان کو پریشا ن کرتا ہے بس اس کے لیے کچھ مقررہ آمدنی ہوتی ہے جو ان سے وصول کرتا ہے۔ یہ دستور پشت ہا پشت سے چلا آرہا ہے اور یہ ان کے ہاتھ میں اُس طرح ہیں کہ یہ ان کی خرید وفروخت اور اجارہ پر دینے کا تصرف کرتے رہتے ہیں، ان کی وصیتیں ان میں نافذ ہوتی ہیں ، عمارت گراتے بناتے رہتے ہیں،تو اسی طرح ان کا وقف بھی جائز ہوگا۔ ( عبارت ختم ہوئی) اسے فتح القدیر میں بھی برقرار رکھا ہے۔ اور اس کی وجہ ، جیسا کہ معلوم ہوا وہ بقائے تابید ہے____ او ر خدائے  برتر خوب جاننے  والا ہے ۔ ت )
 (۱؎ ردالمحتار    کتا ب الوقت    ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۳/ ۳۹۱)
Flag Counter