Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
79 - 243
مسئلہ ۹۷: از موضع شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب مسئولہ مولوی غلام ربانی صاحب ۱۱جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین، خصوصاً حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدّد مائۃ حاضرہ زید مجدہم اس مسئلہ میں کہ ضلع کیمل پور کے پچاس ساٹھ موضع میں اور ایسا پشاور کے ضلع میں دس بیس موضع میں گاہے گاہےامام مسجد بعد دفن میّت کے آلات کندیدنی گور قبر کے سر سے لے کر قبرکی پاؤں کی طرف کو ڈلواتا ہے اور اس کو موجب امن گور جانتا ہے اور یہ حدیث پیش کرتا ہے:
من رش الماء علی القبر  و القی اٰلتہ التی حفربھا القبر امن من عذاب القبر اھ
جس نے قبر پر پانی چھڑکا اور جس سامان سے قبر کھودی گئی تھی اسے ڈال دیا تو عذابِ قبر سے مامون ہو ا ۔(ت)
کسی کتاب کے اندر سے یہ مسئلہ نہیں دکھاسکتے، فقط کسی کتاب کے وقایہ پرلکھا ، یا دکھاتے ہیں جوکہ خود انھوں نے یا  ان کے باپ دادا نے لکھا ہوگا، منیۃ المریدین او رخزانۃ الروایات کا حوالہ دیتے ہیں مگروہ بھی غلط ہے کیو نکہ عرصہ تین سال سے چند کتب خانے تلاش کرچکے، نہ وہ کتابیں ان کو ملیں، نہ اور کسی کتاب سے اس کا شاہد پایا ، کسی اپنے باپ دادا اور کسی مولوی اخوندزادہ کا قول و فعل ثابت کرتے ہیں او ریہ رواج بھی ابھی پچاس ساٹھ سال کا ہے او رعلمائے کرام پنچاب وافغانستان کہ جو اس فعل کے مانع ہیں وہ کہتے ہیں کہ اول جملہ اس عبارت کا تو بیشک منصوص ہے مگر جملہ القائے الات کا مخترعہ ہے، ابتداء یوں ہوئی ہوگی کہ بعد دفن میّت کے آلات قبر کو بطور شمار کرنے کے سرہانے والے نے پاؤں والے کی طرف کو ( جوکہ عادۃً بعد دفن کھڑے ہوکر جانا چاہتے ہیں تو اس وقت بیلچہ گرووں معول شمار کرکے اپنا اپنا لے جاتے ہیں) دینے یا شمار کرنے کے لئے پھینک دیا ہوگا، کسی نے نادانی سے اس کا اس صورت سے ڈالنا ہی  سمجھ لیا ہوگا۔ بعد کو جب نزاع ہوا ہوگا تو مروج نے عزت بچانے کے لئے یہ عبارت بنا کر حدیث کی عبارت سے مناسبت دیکھ کر ملالی ہوگی۔ اور  واقعی ایسا بہت جگہ ہوا ہے کہ پہلے زمانے کے بعض کم علموں نے اپنی کسی بات کی تحقیق وتاکید کے لئے قلمی کتابوں میں جو جو مضمون بڑھایا یا کم کیا اب وہ چھاپے ہوجانے کے بعد ان کا پتا چل رہا ہے ۔ مانعین کہتے ہیں کہ اس کام کو ثواب سے کیا علاقہ ہے، ایک مولوی اس فعل بے اصل کے فاعل نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ جیساکہ ان آلات کو میّت کی قبر کھودنے میں تکلیف ہوئی ہے اب مناسب ہے کہ یہ آلات بھی میّت کے اوپر سے گزریں تاکہ بدلہ ہوجائے اس کا جواب بھی ترکی بہ ترکی دیا گیا کہ چاہئے کہ گورکن لوگ بھی میّت یا اس کی قبر سے کُود کر پاؤں کی طرف کو چلے جایا کریں، عجیب جہالت ہے۔ بعدہ علمائے مانعین نے اشتہار دے دیا کہ فعل بدعت سیئہ معلوم ہوتا ہے۔ ہزاروں کتابیں تلاش کی گئیں پتا نہ ملا اور مجوزین بھی نہیں دکھا سکتے۔ لہذا ترک کرنا چاہئے۔ زید امام مسجد کہتا ہے کہ عدم ذکر فی الکتب کے ساتھ دلیلِ عدم  جواز اس فعل پر لانا درست نہیں۔عبارت اس کے مکتوب کی یہ ہے :
 (۱) عدم وجود المسئلۃ فی کتب الفقہ واصول الفقہ والتفسیر والحدیث وغیرھا نفی الذکر  و الذکر فی الکتب من الدلیل فالتمسک بنفی الذکر بلادلیل والتمسک بلادلیل من الوجود الفاسدۃ التی لاعبرۃ بھا عند الحنفیۃ کما ذکرہ صاحب غایۃ التحقیق شرح الحسامی وصاحب نور الانوار شرح المنار و (۲) ایضاان الحرمۃ و الکراھۃ حکمان شرعیان لابدلھما من الدلیل کما ھو مصرح فی ردالمحتار فی قولہ و النتن الذی الخ  و الاصل فی الاشیاء الاباحۃ الاصلیۃ کما ھو مسطور فی الاشباہ وھھنا لادلیل علیھا فبقی امر الالقاء المذکور فی الافتاء علی الاباحۃ الاصلیۃ مع انضمام تعامل العلماء من المواضع المتعددۃ الذی ھو قسم من الاجماع کما ھو مذکور فی فصول الحواشی لاصول الشاشی و(۳) ایضا ان البدعۃ السیئۃ ماتکون رافعۃ لسنۃ مثلھا کما مصرح فی مشکٰوۃ المصابیح واذا لم یثبت سنیۃ عدم الالقاء بالدلیل المعتبر فکیف یتفوہ  ببدعۃ الالقاء و(۴) ایضا الذکر المنفی فی الکتب المعتبرۃ اعم من الایجاب والسلب فکیف رجح المانع السلب علی الایجاب و(۵) ایضا ان الکتب ساکتۃ من منع الالقاء وفعلہ ولاحکم فی الساکت کما ذکرہ فی عدۃ من کتب اصول الفقۃ فی تعلیق ومن لم یستطع منکم طولا ۔ الخ
 (۱) مسئلہ کا فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث وغیرہ کی کتابوں میں موجود نہ ہو نا نفی ذکر ہے۔اور دلیل کتابوں میں مذکور ہونا ہے، تو نفی ذکر سے تمسک بلا دلیل ہےاور تمسّک بلادلیل ان وجوہ فاسدہ سے ہے جن کا حنفیہ کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں، جسا کہ صاحب غایۃ التحقیق شرح حسامی اور صاحبِ نورالانوار شرح منار نے ذکر کیاہے۔

(۲) حرمت او رکراہت ایسے حکم شرعی ہیں جن کے لئے دلیل ضروری ہے جیسا کہ ردالمحتار کی عبارت والنتن الذی الخ میں اس کی صراحت ہے، اور اشیاء میں اصل اباحت اصلیہ ہے،جیسا کہ اشباہ میں لکھا ہوا ہے، اور یہاں ان دونوں پر کوئی دلیل نہیں تو فتوے کی رُو سے القائے مذکور کا حکم اباحتِ اصلیہ پر باقی رہا۔ اس کے ساتھ متعدد مقامات کے علماء کا تعامل بھی شامل ہے جوایک قسمِ اجماع ہے جیسا کہ فصول الحواشی لاصول الشاشی میں مذکور ہے۔

(۳) بدعتِ سیئہ وہ ہے جو ویسی ہی سنت کو ختم کرنے والی ہو جیسا کہ مشکٰوۃ المصابیح میں صراحت ہے۔اور جب معتبر دلیل سے عدمِ القاء کا مسنون ہونا ثا بت نہیں تو لقاء کو بدعت کیسے کہا جارہا ہے! 

(۴) کتب معتبرہ کا سکوت (ذکر منفی) ایجاب وسلب سے اعم ہے تو مانع سلب کو ایجاب پر ترجیح کیسے دے دی گئی !

(۵) کتابیں القاء کے منع وفعل سے ساکت ہیں' او رساکت کا کوئی حکم نہیں ہوتا جیسا کہ متعدد کتب اصول فقہ میں ارشاد باری تعالٰی ومن لم یستطع منکم طولا الخ کی تعلیق کے تحت مذکور ہے ۔(ت)

تمام ہوئی مولوی مجوز کی جس رسم خط سے کہ اس نے لکھی تھی۔ عرضیہ نیاز فقیر خادمِ دربار محمد غلام ر بانی
الجواب

بیشک فعل مذکور بروجہ مذبوربدعت سیسہ شنیعہ واجب الترک ہے۔ فی نفسہٖ  وہ ایک فعل عبث تھا جس میں عقلاً ونقلاً کوئی فائدہ نہیں اوراس کی وجہ کہ مجوز نے بیان کی محض مضحکہ ہے۔ آلات کو تکلیف ہونا کیا معنی ! اور ہوبھی تو اس گزار دینے میں ان کو کیا ٓارام ، یہ بھی حرکت ہے کہ باعث تکلف ہے اور میّت پر کیا تکلیف کہ بدلہ ہو، اور ہو بھی تو میّت کا کیا قصور! تکلیف حفاروں نے دی یاحفر کرانے والوں نے ، تو ان پر سے آلات گزارے جائیں، اور بالفرض میّت مجرم ہے کہ اس کے سبب تکلیف ہوئی تو احیاء بدرجہ اولٰی، تو عمارت بنوانے والا اگر چہ بادشاہ کہ قلعہ بنوائے روز شام کو تمام آلات معماران ومزدوران اس پر سے گزارے جائیں۔ نہیں نہیں، یہ خود اس پر سے اتریں کہ حقیقۃًتکلیف تو انہی کو ہوئی۔ اور میّت پر سے چارپائی کیوں نہیں اتاری جاتی جو اس نے راستے بھر توڑی، آلات اس کا شکر نہیں کرتے کہ ان سے اقامت فرض کی' الٹے شاکی ہوتے ہیں، اور فرض میں جب یہ بدلہ ہے تو خطیب کہ محض ادائے سنت کےلئے منبر پر  بوجھ ڈالتا ہے وہاں تو سر سے منبر اتا ر دینا کافی بھی نہ ہوگا بلکہ بعد خطبہ خطیب کے سر پر منبر لاد دینا چاہئے، غرض جہل عجیب چیز ہے اس کے رد میں اطاعت سے زیادہ وقت عزیز ہے، ہاں اس سے اس کا عبث ہونا زیادہ واضح ہوگیا کہ اس کے حامی بھی کوئی فائدہ نہ بتاسکے، ناچار مضحکہ تراشا، اور عبث بجائے خود بیہودہ ہے نہ کہ قبرو میّت کے ساتھ کہ محل تذکر واعتبار ہیں ، نہ کہ جائے لغویات بیکار، ایسی ہی جگہ کے لئے ارشاد ہدایہ و درر و غنیہ وتقریر کفایہ وعنایہ و فتح القدیر ہے :
العبث خارج الصلٰوۃ حرام فما ظنک فی الصلٰوۃ ۱؎ ۔
عبث نمازکے باہر ہو تو حرام ہے پھر نماز کے اندر ہو تو کیساہوگا ۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    فصل ویکرہ للمصلی الخ    المکتبۃ العربیہ کراچی     ۱/ ۱۱۸ )
پھرا س عبث مبغوض کو دین میں نافع اور میّت سے عذاب کا دافع سمجھ کر کرتے ہیں، یہ قطعاً شرع میں زیادت و اختراع وشنیع ابتداع ہے، اور حدیث کے نام سے جو عبارت پیش کی ساختہ کذاب و ضاع ہے، جاہل کو عبارت بنانی بھی نہ آئی، یا اجہلوں نے اپنی جہالت بڑھائی
القی اٰلتہ التی حفربھا القبر
سے یہ مضمون کیونکر ادا ہوا کہ قبر پر سے اتاریں، خصوصاً یوں کہ سرہانے سے پائنتی پھینکیں اور من کی جزا میں امن من عذاب القبر تو اس کا مفید کہ ایسا کرنے والا عذاب قبر سے محفوظ رہے گا، نہ کہ میّت۔ بالجملہ اس بدعت عبث عند القبر بلکہ عبث مع القبر نے سنیتِ تذکرو اعتبار کا رفع کیا اور اس ادعائے
امن من عذاب القبر نے سنت ولا تقف مالیس لک بہ علم
 ( اس کے پیچھے نہ پڑجس کا تجھے علم نہیں ۔ت) رفع کرکے اس کی جگہ کبیرہ
تقولون علی اﷲ ما لا تعلمون
 ( خدا پرتم و ہ بولتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں ۔ت) رکھ دیاا س کے بدعت شنیعہ قبیحہ ہونے میں کیا شک رہا۔دلائل منع  یہ ہیں، نہ یہ کہ سکوت کتب ولادلیل سے استدال کیا ہو،وہ مدعی نفع نہ دفع عذاب پر رَد کوتھا کہ
تلک کلمۃ ھو تجا ھلھا، ما انزل اﷲ بھا سلطان
( وہ ایسی بات ہے جس سے وہ نادان بنا خدا نے اس کی کوئی سند نہ اتاری ۔ت) اور یہ ردقطعاً صحیح ہے۔ بلاشبہ دعوٰی بے دلیل ۔ قطعاً باطل وذلیل۔ فواتح الرحموت میں جس صفحہ میں لا دلیل سےفسادِ استدلا ل کا ذکر ہے اس میں چند سطرکے بعد ذکرِ استصحاب میں ہے:
ا لحکم بلا دلیل باطل ۱؎
 ( حکم بلادلیل باطل ہے ۔ت)
 (۱؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفی        ۲/ ۳۵۹)
خصوصا یہاں کہ ایسا ہوتا ضرور امر تعبدی غیر معقول المعنٰی ہوتا جس کے لئے خاص نصِ شارع درکار۔ اور وہ قطعاً مقصود، تو ادعائے مخالف یقینا مردود ۔ اور محدود مواضع کے محدود اشخاص کا پچاس ساٹھ برس سے کوئی فعل تراش لینا اسے تعامل وقسمِ اجماع قرارد ینا کس درجہ علم سے بعید و مطرود۔
وقد فرغنا من ابانتہ فی کتابنا شمائم العنبر فی ادب النداء امام المنبر، ھذا وقد اند فعت بما ذکرنا قعا قع المجوزین بامرہ۱۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ہم اسے اپنی کتاب '' شمائم العنبر فی ادب النداء امام المنبر'' میں بیان کرچکے ہیں، یہ ذہن نشین رہے، اور ہمارے بیان سے اس کام کو جائز کہنے والوں کی بے معنی آوازیں دفع ہوگئیں، اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔(ت)
Flag Counter