Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
78 - 243
مسئلہ ۹۰: از قصبہ مؤناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۱۱صفر۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مُردہ کو قبر کے پچھم جانب سے گور میں ڈالنا چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ دکھن جانب سے ڈالے۔
الجواب

ہمارے نزدیک مستحب یہی ہے کہ میّت کو قبلہ کی طرف سے قبر میں لے جائیں۔ دُرمختار میں ہے:
ویستحب ان یدخل من قبل القبلۃ بان یوضع من جہتھا ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مستحب یہ ہے کہ میّت کو قبلہ کی طرف سے داخل کریں اس طرح کہ اسی سمت سے اتاریں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۴)
مسئلہ ۹۱: از اپربر ہما ضلع کتھا پوسٹ لین مسئولہ امیر خان دکاندار ۹شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کتب فقہیہ میں لکھتے ہیں کہ میّت کا منہ قبلہ کی طرف کیا جائے، اس سے کیا مراد ہے، اس میں پانچ صورتیں ہیں:پہلی صورت تویہ ہے کہ میّت کو صندوقی قبر میں اس طرح سے داہنی کروٹ پر لٹائیں کہ تمام بدن کا بوجھ داہنی کروٹ پر اور داہنی کروٹ کا تمام بوجھ داہنے بازو پر گرے اور میّت کی پیشانی، ناک، گھٹنا صندوق کی داہنی طرف کی دیوار سے لگا کر پشت کی طرف پتھر اور ڈھیلے رکھ دئے جائیں۔ او ردوسری صورت یہ ہے کہ میّت کے بائیں پہلوکو اٹھا کر اس کے نیچے ڈھیلے دے کر میّت کو بائیں پہلو بل رکھیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میّت کو چِت لٹایا جائے اور فقط منہ ہی قبلہ کی طرف پھیر دی جائے۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ قبر کھودتے وقت قبر کی داہنی طرف تھوڑا نیچا اور بائیں طرف تھوڑا اونچا کر کے کھودی جائے۔ لاش رکھنے کے بعد داہنے پہلو پر ہو کر قبلہ رُخ ہوجاتی ہے۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ میّت کا پاؤں قبلہ کی طرف او رمنہ پورب کی طرف کیاجائے جیسا کہ حالتِ نزع میں ہے۔ کتبِ فقہ میں ان صورتوں میں کون صورت مراد ہے اور اگر سب جائز ہیں تو اعلٰی و افضل کون ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

پانچویں صُورت محض ناجائز ہے کہ سنت متواترہ مسلمین کے محض خلاف ہے اور افضل طریقہ یہ ہے کہ میّت کو دہنی کروٹ پر لٹائیں۔ اس کے پیچھے نرم مٹی یا ریتے کا تکیہ سابنادیں اور ہاتھ کروٹ سے الگ رکھیں، بدن کا بوجھ ہاتھ پر نہ ہو  اس سے میّت کو ایذا ہوگی۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المیّت یتاذی ممایتاذی بہ الحی ۱؎ ۔
بے شک مُردے کو اس سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندے کو ایذا ہوتی ہے ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء        ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱/ ۲۲۹)
اور اینٹ پتھر کا تکیہ نہ چاہئے کہ بدن میں چبھیں گے اور ایذا ہوگی ا ورناک وغیرہ اعضاء دیوار قبر سے ملادینے کی اجازت نہیں، نہ اس کی کوئی وجہ۔ اور جہاں اس میں وقت ہوتو چِت لٹا کر منہ قبلہ کو کردیں، اب اکثر یہی معمول ہے او راگر معاذاﷲ معاذاﷲ منہ غیر قبلہ کی طرف رہا اور ایسا سخت ہو گیا کہ پھر نہیں سکتا تو چھوڑدیں اورزیادہ تکلیف نہ دیں۔ چھوتی صورت بھی بالکل خلافِ سنت ہے اور اس میں بھی میّت کے لیے اذیت ہے کہ بیٹھنے میں دقت ہوگی۔ ملائکہ کہ سوال کے لئے آتے ہیں ، میّت کو بٹھاتے ہیں، ایسی ڈھلوان جگہ پر بیٹھنا بہت دشوار ہوگا۔ اور دوسری صورت بھی ناقص ہے، بہتر پہلی صورت ہے، مگر ان اصلاحوں کے بعد جو ہم نے لکھیں۔ دُرمختار میں ہے:
ویوجہ الیھا وجوباً وینبغی کونہ علی شقہ الایمن ۲؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
واجب ہے کہ اسے قبلہ رو کیا جائے اور اسے داہنی کروٹ پر ہونا چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲ ؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۵)
مسئلہ ۹۲ تا ۹۳: (۱) قبر میں سے جس قدر مٹی نکلی وہ سب اس پر ڈال دینا چاہئے یا صرف بالشت یا سوابالشت قبر کو اونچا کرنا چاہئے؟

(۲) میّت کو دفن کرتے ہی آدمیوں کو منتشر ہوجانا چاہئے یا گھر پر آن کر فاتحہ پڑھ کر پھر منتشر ہونا چاہئے جیسا کہ آج کل رواج ہے؟
الجواب

(۱)صرف بالشت بھر۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) بہتر یہ ہے کہ منتشر ہوجائیں، پھر میّت کے گھر جانے کو لازم نہ سمجھیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴: از شاہجہان پور ، محلہ رنگی چوپال مسئولہ سلامت اﷲ رضوی ۲۴ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ پُرانی قبر ہویا جدید (جدید سے مراد جسے بنے ہوئے تھوڑا زمانہ گزرا ہو مگر اس یوم عاشورہ سے پہلے کی ہو) اس خاص کر عاشورہ کے دن پانی چھڑکنا بہتر ہے، یہ قول زید کیسا ہے؟ اور عمرو کا سوال یہ ہے کہ یوم عاشورہ سے علاوہ دنوں میں قبروں پر پانی چھڑکنا کیا حکم رکھتا ہے اور بعد دفن میّت کے قبر پر پانی چھڑکنا کیا حکم رکھتا ہے؟ مفصل مدلل بحوالہ کتب جواب باصواب مرحمت فرمایا جائے۔ بینوا توجروا۔
الجواب

بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرورِ زمان سے اس کی خاک منتشر ہوگئی ہوا ور نئی ڈالي گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے
بہ علل فی الدر وغیرہ ان لایذھب الاثر فیمتھن
 ( درمختا وغیرہ میں یہ علّت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو ۔ت) اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہوسکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں ، اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل وبے معنی ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵: از شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد صاحب سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

ہندہ کو قبر میں اتارنے اور تختے لگانے کے بعد مٹی کچھ ہی دی گئی کہ بارانِ رحمت شروع ہوگئی ہندہ کی قبر پر بارش کے پانی کے علاوہ اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہ ہوئی۔کچھ اشخاص کہتے ہیں جس مُردہ کی قبر پر بجائے پانی دنیا کے بارانِ رحمت ہو وہ مُردہ جنتی ہے، اس کی کچھ اصلیّت شرع میں ہے یا نہیں؟ فقط
الجواب

بارش رحمت فالِ حسن ہے خصوصاً اگر خلافِ عادت ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۶: از شہر کہنہ ۱۱جمادی الاخرٰی ۱۳۱۷ ھ

چہ می فرمایند علمائے دین کہ بعد  مُردنِ میّت تادفنِ میّت از کدام چل سوال از میّت می پر سند۔ بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ میّت کے مرنے کے بعد سے دفن ہونے تک کون سے چالیس سوال میّت سے ہوتے ہیں؟ بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب

سوال از میّت بعد دفن ست پیش ازاں ہیچ سوالے درحدیث نیامدہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم
میّت سے سوال دفن کے بعد ہوتا ہے اس سے پہلے کوئی سوال حدیث میں نہ آیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
Flag Counter