ثالثاً : جائز یا فرض و واجب نمازیں جن میں حنفی حسب شرائط مذکور بحرالرائق وغیرہ۔ اہلسنت کے کسی دوسرے مذہب والے مثلاً شافعی وغیرہ کی اقتداء کرے۔ اس میں ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ جو امور ہمارے مذہب میں اصل سے محض ناجائز ہیں، ان میں اس کی پیروی نہ کرے اگر چہ اس کے مذہب میں جائز ہوں۔ مثلاً صبح کی نماز میں وہ قنوت پڑھے تو یہ نہ پڑھے۔ نماز جنازہ میں امام پانچویں تکبیر کہے تویہ نہ کہے عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
انما یتبعہ فی المشروع دون غیرہ ۱؎ ۔
اس کی پیروی صرف مشروع میں کرے گا غیر میں نہیں ۔(ت)
(۱ ؎ العنایۃ علٰی ھامش فتح القدیر باب صلٰوۃ الوتر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸۰)
تنویر میں ہے :
یاتی الماموم بقنوت الوتر لا الفجر بل یقف ساکتا ۲؎ ۔
مقتدی قنوتَ وتر پڑھے فجر نہ پڑھے بلکہ خاموش کھڑا رہے ۔(ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴)
جب بعد اقتداء یہ حکم ہے تو قبل اقتداء امر ناجائز ونامشروع میں اقتداء کی اجازت کیونکر ممکن ۔ غرض مذہب مہذب حنفی کا حکم تویہ ہے ۔ باقی جو کوئی غیر مقلد بننا چاہے تو آج کل آزادی و بے لگامی کی ہوا چل رہی ہے ہر شخص کو شتر بے مہارہونے کا اختیار ہے اور اس کے رَد میں بحمد اﷲ تعالٰی ہمارے رسائل النہی الاکید وغیرہ کافی۔
واﷲ المستعان علی اھل طغیان ، واٰخردعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العلمین و افضل الصلٰوۃ واکمل السلام علی سیدالمرسلین محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم۔
سرکشی والوں کے خلاف خداہی سے مدد طلبی ہے، اور ہماری آخر ی پکار یہ ہے کہ تمام حمد خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور بہتردورد۔ کامل تر سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد پر اور ان کی آل واصحاب سب پر۔ الہٰی! قبول فرما۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔(ت)
مسئلہ ۸۸: مرسلہ عبدالغفار بن عثمان سرش والہ مقام احمد آباد گجرات محلہ کالو پور خشکلاکی بول جامع علوم مولٰنا مولوی احمد رضاخاں صاحب بعد از سلام نیاز اینکہ یہاں میرے اور ایک شخص کے درمیان تقریر ہوئی کہ مقولہ میرا یہ ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین خدیجۃ الکبرٰی کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی، اگر پڑھی گئی ہے تو پیش امام کون تھا؟
بنظرِ عنایت جواب باصواب مع حوالہ کتبِ معتبرہ ارقام فرمائیں کہ یہاں کے علماء سے تشفّی نہیں ہوئی۔
الجواب
فی لواقع کتب سِیَر میں علماء نے یہی لکھا ہے کہ ام المومنین خدیجۃ الکبرٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے جنازہ مبارکہ کی نماز نہیں ہوئی کہ اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اس کا حکم ہوا ہے۔ زرقانی علی المواہب میں ہے:
فی رمضان بعد البعث بعشرسنین ماتت الصدیقۃ الطاھرۃ خدیجۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ودفنت بالحجون ونزل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حفر تھا ولم تکن یومئذ الصلٰوۃ علی الجنازۃ ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
صدیقہ طاہرہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے بعثت کے دس سال بعد ماہِ رمضان میں وفات پائی او رمقام ِ حجون میں دفن کی گئیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کی قبر میں اُترے اس وقت نماز جنازہ نہ تھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ شرح الز قانی علی المواہب وفاتِ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۹۶)
مسئلہ ۸۹: از شہر بریلی، مدرسہ اہلسنت وجماعت، مسئولہ مولوی رجب الدین یکے از طلبائے مدرسہ مذکور ۴ ذی الحجہ ۱۳۲۱ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ،
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ قبر شق اکثر ملک میں جو اہل اسلام بناتے ہیں ، خلاف اور ناجائز طریقے سے بناتے ہی جس کا نقشہ یہ ہے۔
9_1.jpg
بلکہ قبر شق کی صور ت میں وہ یہ بتاتاہے کہ نقشہ مذکورہ کے درمیان اورایک بہت چھوٹی سی مثل نہر کے شق بناکر۔ اُ س نہر صغیر میں نقش قبلہ رُخ دائیں کروٹ پر رکھیں۔ اور شق اسی کو کہتے ہیں ۔ نقشہ یہ ہے:
9_2.jpg
آیا یہ صورت ثانی جو شخص مذکورہ نے ایجاد کی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں، اور شق سے یہی مراد ہے؟ اور عبارت علمگیری میں ہے:
ان تحفر حفیرۃ کالنھر وسط القبر ۱؎
( قبر کے درمیان میں نہر کی طرح ایک گڑھا کھود ا جائے ۔ت) اس حفیرہ سے یہی صورت ثانیہ مراد ہے یا اول اُ س کا یہ قول جو اکثر ملکوں میں مروج ہے یہ حفیرہ ہے یعنی قبر اور بعد کھود نے قبر کے نہر صغیر بنا کر مُردہ کواس میں رکھے اسی کو شق کہتے ہیں جو کہ نہر کے نیچے آدھ گز سے بھی کم ہوگی۔ پس حضرات مفیتانِ عظام وعلمائے کرام کثرہم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں غور فرماکر موافق مذہب حنفی بحوالہ کتب فتوٰی دیں عند اﷲ اجرِ عظیم پائیں۔
(۱ ؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبر و الدفن الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۶)
الجواب
شق کی معنی یہ ہے کہ اول ایک مستطیل زیادہ عریض وطویل کھودیں پھر اس کے وسط میں دوسرا مستطیل اُس سے چھوٹا اور طویل میں قامت میّت سے کچھ زائد اور عریض میں نصف قامت کے برابر اور عمق میں سینہ تک یا قدآدم کھودیں۔ اس دوسرے مستطیل میں میّت کو قبلہ رُو رکھیں اور اس کے اوپر مستطیل اول کے اندر تختوں وغیرہ سے بند کرکے مستطیل اول کی جگہ مٹی سے بھردیں اور سطح زمین سے پاؤ گز بلند مٹی رکھیں۔ یہی طریقہ شق کا ہے او ریہی ہندوستان میں معمول ہے۔ اوریہی عبارتِ علمگیریہ کا مفہوم ہے۔ پہلی صورت کہ صرف ایک مستطیل کھودیں او راس میں میّت کو رکھ کر مٹی بھردیں یا تختے رُوئے زمیں پر رکھ کر اُن میں مٹی ڈال دیں، نہ شق ہے نہ ہندوستان خواہ کسی ملک میں رائج ہے۔ عالمگیریہ میں ہے :
شق کی صورت یہ ہے کہ قبر کے بیچ میں نہرکی طرح مسطیل ایک گڑھا کھودا جائے جس کے دونوں کنارے کچّی اینٹوں یا کسی اور چیز سے بنادیں او راس میں میّت کو رکھ کر اُوپر سے چھت کی طرح بند کردیں۔ا یسا ہی معراج الدرایۃمیں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
( ۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبر و الدفن الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۶)