Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
76 - 243
پھر جو بحث وہ کرتے ہیں علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں مسموع نہ ہوگی، اس پر عمل جائز نہیں، مذہب ہی کاا تباع کیا جائے گا۔ ردالمحتار نواقض مسح الخف میں ہے :
قد قال العلامۃ قاسم لا عبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الھمام اذا خالف المنقول ۳؎ ۔
علامہ قاسم نے فرمایا: ہمارے استاد امام ابن الہمام کی بحثوں کا کچھ اعتبار نہیں جب وہ مسئلہ منقولہ مذہب کے خلاف ہوں۔
(۳؎ ردالمحتار        باب المسح علی المخفین        ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱/ ۱۸۴)
اسی طرح جنایات الحج میں ہے۔ نکاح الرقیق میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے ہے:
الکمال بلغ الاجتھاد وان کان البحث لایقضی علی المذھب ۴؎ ۔
امام ابن الہمام رتبہ اجتہاد تک پہنچے ہوئے ہیں اگر چہ بحثِ مذہب پر غالب نہیں آسکتے۔
(۴؎ ردالمحتار        باب نکاح الرقیق        ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر      ۲/ ۳۷۸)
پھر جسے ادنٰی لیاقتِ اجتہاد بھی نہیں جمیع ائمہ مذہب کے خلاف اس کی بات کیا قابل التفات! 

طحطاوی باب العدت میں ہے :
النص ھو المتبع فلا یعول علی البحث معہ ۱؎ ۔
نقل ہی کا اتباع ہے تو مسئلہ منقول ہوتے ہوئے بحث کا اعتبار نہ ہوگا۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب العدّۃ فصل فی ثبوت النسب    دارالمعرفۃ بیروت        ۲/ ۲۴۱)
 (۲) تصریح ہے کہ خلاف مذہب بعض مشائخ مذہب کے قول پر بھی عمل نہیں، ہم نے العطایا النبویہ میں اس کی بہت نقول ذکر کیں،حلبی علی الدرباب صلٰوۃ الخوف میں ہے :
لا یعمل بہ لانہ قول البعض۲؎ ۔
اس پر عمل نہ کیا جائے کہ یہ بعض کا قول ہے۔تو جوا یک کا بھی قول نہ ہو اس پر کیونکر عمل ہوسکتا ہے۔
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ حلبی        باب صلٰوہ الخوف        ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۵۶۸)
 (۳) نصوص جلیہ ہیں کہ متون کے مقابل شروح، شروح کے مقابل فتاوٰی پر عمل نہیں۔ ہم نے ان کی نقول متوافرہ اپنی کتاب
فصل القضا فی رسم الافتاء
میں روشن کیں اور علامہ ابراہیم حلبی محشی در کے قول میں مذکور ہے :
لایعمل بہ لمخالفتہ لاطلاق سائر المتون ۳؎ ۔
اس پر عمل نہیں کہ اطلاق جملہ متون کے خلاف ہے۔
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ حلبی        باب صلٰوہ الخوف        ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱/ ۵۶۸)
جب نہ متون بلکہ صرف اطلاق عبارات متون کا مخالف ناقابل عمل تو جو متون وشروع وفتاوٰی سب کے خلاف ہے اس پر عمل کیونکرمحتمل!
 (۴) پھر وہ بحث کچھ ہستی بھی رکھتی ہو، نماز جنازہ مجرد دعا کے مثل زنہار نہیں۔ دعا میں طہارت بدن، طہارت جامہ، طہارت مکان، استقبال قبلہ، تکبیر تحریمہ، قیام تحلیل، استقرار علی الارض کچھ بھی ضرور نہیں، اور نما زجنازہ میں یہ اور ان سے زائد اور بہت باتیں سب فرض ہیں، کیا اگر کچھ لوگ اسی وقت پیشاب کرکے، بے استنجا، بے وضو، بے تیمم جنازہ کے پاس آئیں اور ان میں ایک شخص قبلہ کو پشت کرکے جنازہ کی پٹی سے پیٹھ لگا کر بیٹھے اور باقی کچھ اس کے آگے برابر لیٹے بیٹھے، کچھ گھوڑو ں پر چڑھے اور اُترّ، دکھّن، پورب مختلف جہتوں خلاف قبلہ کو منہ کئے ہوں وہ پشتوں میں کہے: الہٰی! اس میّت کو بخش دے اور یہ سب انگریزی وغیرہ میں آمین کہیں، تو کوئی عاقل کہہ سکتاہے کہ نماز جنازہ ادا ہوئی او راس طرح کی نماز میں حرج نہیں،
دعائےست کہ می کنند فلا باس بہ
 ( ایک دعاہے جو یہ لوگ کرتے ہیں تواس میں کوئی حرج نہیں ۔ت) اجماع ائمہ مذہب کے خلاف ایسی بے معنی استناد کیسی جہالتِ شدیدہ ہے۔ شک نہیں کہ قاضی ممدوح گیارھویں صدی کے ایک عالم تھے مگر عالم، سے لغزش بھی ہوتی ہے، پھر اس کی لغزش سے بچنے کا حکم ہے نہ کہ اتباع کا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتقوا ز لۃ العالم وانتظر وافَیْنئَتَہ، ۱؎ ۔ رواہ الحسن بن علی الحلوانی استاذ مسلم و ابن عدی والبیھقی والعسکری فی الامثال عن عمر وبن عوف المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
عالم کی لغزش سے بچو او راس کے رجوع کا اتنظار رکھو۔ اسے استاذِ امام مسلم حسن بن علی حلوانی ، ابن عدی، بیہقی او رامثال میں عسکری نے حضرت عمروبن عوف مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۱ ؎ السنن الکبرٰی للبیہقی        کتاب الشہادات    دارصادر بیروت    ۱۰/ ۲۱۱)
عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: عالم سے لغزش ہوتی ہے تو وہ اس سے رجوع کرلیتاہے اور اس کی خبر شہروں شہروں پہنچ کر لغزش اس سے منقول رہ جاتی ہے ۲؎
ذکرہ المناوی فی فیض القدیر
 ( اسے علامہ مناوی نے فیض القدیر میں لکھا ۔ ت)
(۲ ؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر    حدیث۱۴۷۴۷   اتقو ا الخ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۴۰)
خدارا نصاف ! ذرایوں فرض دیکھئے کہ کتبِ مذہب میں جواز نمازغائب وتکرار جنازہ کی عام تصریحات ہوتیں، اورایک قاضی ممدوح نہیں ان جیسے دوسو قاضی اسے ناجائز بتاتے اور کوئی شخص کتب مذہب  کے مقابل ان دوسو سے سند لاتا تو دیکھیے یہ حضرات کس قدر غل مچاتے، اُچھل اُچھل پڑتے کہ دیکھو کتب مذہب میں تو جواز کی صاف تصریح ہے اور یہ شخص ان سب کے خلاف گیارھویں صدی کے دوسو قاضیوں کی سنددیتا ہم ان کی مانیں یا کتب مذہب کو حق جانیں، اور اب جو اپنی باری ہے تو تمام ائمہ مذہب کا اجماع ، تمام کتب مذہب کا اتفاق سب بالائے طاق، اور تنہا قاضی ممدوح کو تقلید کااستحقاق، اس ظلم صریح وجہل قبیح کی کوئی حد ہے، مگریہ ہے کہ جب کہیں کچھ نہ پایا الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتا سِوار ( تنکا ) پکڑتا ہے وباﷲ العصمۃ۔
مدراج النبوۃ نہ کوئی فقہ کی کتاب ہے نہ اس میں یہ حکایت بغرض استناد، نہ شیخ کو اس پرتعویل واعتماد، وہ حنفی ہیں اور مذہب حنفی خود اسی کتاب میں اسی عبارت سے اوپر بتارہے ہیں، مذہب امام ا بو حنیفہ و مالکیہ رحمہم اﷲ تعالٰی آنست کہ جائز نیست۱؎ (امام ابو حنیفہ و مالکیہ رحمہم اﷲ تعالٰی کا مذہب یہ ہے کہ جائز نہیں ہے ۔ت)
(۱؎ مدرارج النبوۃ    انتقال شاہِ حبشہ نجاشی    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۳۷۷)
پھر اس پر دلیل بتاکر مخالفین کے جواب دیئے ہیں، نیز اس حکایت کے متصل ہی حضور پُر نور سید نا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہر روز بہ نیت جملہ اموات مسلمین نماز غائب پڑھنے کی وصیّت نقل کرکے اس پر سکوت نہ کیا کہ کہاں قاضی علی بن ظہرہ اور کہا حضور پُر نور غوثیت مآب۔ مبادا غلامانِ حضور اس سے حنفیہ کے لئے جواز خیال کریں لہذا معاً اس پر تنبیہ کو فرمادیا کہ
ایشاں حنبلی اندونز دامام احمد بن حنبل جائز است
 (وہ حنبلی ہیں اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک جائز ہے ۔ت) اگر شیخ کو اس حکایت سے استناد مقصود ہوتا تو یہاں استدراک و دفع وہم نہ فرماتے بلکہ اسے اس کا مؤید ٹھہراتے
کما لا یخفی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم
 ( جیساکہ پوشیدہ نہیں، اور خدائے پاک وبر تر خوب جاننے والا ہے ۔ ت)
جواب سوالِ سوم: اولاً جبکہ آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ نماز غائب وتکرارِ نماز جنازہ پر دونوں ہمارے مذہب میں ناجائز ہیں اور ہرناجائز گناہ ہے اور گناہ میں کسی کا اتباع نہیں۔ تو امام کا شافعی المذہب ہونا اس ناجائز کو ہمارے لیے کیونکر جائز کرسکتا ہے ! رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۲؎۔ رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد والنسائی عن امیر المؤمنین علی ونحوہ احمد والحاکم بسند صحیح عن عمر ان بن حصین وعن عمر وبن الحکم الغفاری رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
ناجائز بات میں کسی کی اطاعت نہیں۔ اسے بخاری، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے امیرالمومنین علی سے اور اسی کے ہم معنی امام احمد او رحاکم نے بسند صحیح عمران بن حصین سے اور عمر بن حکم غفاری سے روایت کیا۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم (ت)
(۲؎ صحیح البخاری    کتاب الاحکام        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۵۸۔۱۰۵۷)

(صحیح مسلم        کتاب السلام        نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲/ ۱۲۵)

(مسند احمد بن حنبل    مروی از عمران بن حصین    دارالفکر بیروت        ۵/ ۶۷و ۶۲ )
ثانیاً : یہاں اطاعتِ امام کا حیلہ عجیب پادر ہوا ہے۔ بھائیو! وہ تمھارا امام تو جب ہو کہ تم اس کی اقتداء کرو۔ پیش ازا قتداء اس کی اطاعت تم پر کیوں ہو، اور جب تمھارے مذہب میں وہ گناہ و ناجائز ہے تو تمھیں ایسے امر میں اس کی اقتداء ہی کب روا ہے۱ یہ وہی مثل ہے کہ کسی کو دن نے کچھ اشعار قبیح وشنیع اغلاط پر مشتمل لکھ کر کسی شاعر کو سنائے۔ اس نے کہا یہ الفاظ غلط باندھے ہیں، کہا بضرورتشعری، کہا باباشعر گفتن چہ ضرور۔
Flag Counter