رابعاً خود اسی روایت میں صاف تصریح ہے کہ پردے اُٹھا دئے گئے تھے ، معرکہ حضرتِ اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیش نظرتھا ۔
اقول لکن موتۃ بالشام علی مرحلتین من بیت المقدس وغز وتھا سنۃ ثمان وقد حولت القبلۃ قبلھا(عہ) بزمان فکیف یکفی الرؤیۃ مع اشتراط کونھا امام المصلی الاان یقال انما ارید الرد علی الاحتجاج لصلٰوۃ الغیب وقدتم واذا ثبت فیھا قولنا ثبت ذلک الشرط لنا لان الرویۃ مع الاستدبار لاتمکننا۔
اقول لیکن مقام موتہ سرزمین شام میں بیت المقدس سے دو منزلہ پر واقع ہے( تو مدینہ سے سمتِ قبلہ میں نہیں بلکہ قبلہ سمت مخالف شما ل میں ہوا، مترجم) اور غزوہ موتہ ۸ ہجری میں ہوا جس سے بہت پہلے تحویل قبلہ ہوچکی تھی پھر یہ روایت کیسے کافی ہوگی جبکہ جنازہ کا مصلی کے آگے ہونا شرط ہے۔ جواباً کہا جاسکتا ہے کہ غائبانہ نما ز پر استدلال کا رَد کرنا مقصود تھا وہ پورا ہوگیا، اوراس بارے میں جب ہمارا قول ثابت ہوجائیگا تو وہ شرط بھی ہمارے حق میں ثابت ہوگی اس لئے کہ پشت کی جانب جنازہ ہوتے ہوئے دیکھ لینا ہمارے لیے ناممکن ہے ۔ ت)
عہ: لان تحویلھا فی السّنۃ الثانیۃ ۱۲ منہ (م)
اس لئے کہ تحویلِ قبلہ ۲ھ میں ہوئی ہے۔ (ت)
خامساً، اقول کیا دلیل ہے کہ یہاں صلٰوۃ بمعنی نماز معہود ہے بلکہ درود ہے اور دعالہ عطفِ تفسیری نہیں بلکہ تعمیم بعد تخصیص ہے اور سوق روایت اسی میں ظاہر کہ حضور پرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اس وقت منبر اطہر پر تشریف فرماہونا مذکور اور منبر انور دیوار قبلہ کے پاس تھا او رمعتاد یہی ہے کہ مبنر پر رُوبحاضرین وپشت بہ قبلہ جلوس ہو۔ اور اس روایت میں نماز کے لئے منبر پر سے اترنے پھر تشریف لے جانے کاکہیں ذکر نہیں، نیز برخلاف روایت نجاشی اس میں نماز صحابہ بھی نہیں، نہ یہ کہ حضور نے ان کو نماز کے لئے فرمایا۔ اگر یہ نماز تھی تو صحابہ کو شریک نہ فرمانے کی کیاوجہ۔ نیز اسی معرکہ میں تیسری شہادت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ عنہ کی ہے ان پر صلٰوۃ کا ذکر نہیں، اگر نماز ہوتی تو ان پر بھی ہوتی، ہاں درود کی ان دو کے لئے تخصیص وجہ وجیہ رکھتی ہے اگر چہ وجہ کی حاجت بھی نہیں کہ وہ احکام عامہ سے نہیں، وجہ اس حدیث سے ظاہر ہوگی کہ جس میں ان دو کرام کا حضرت ابن رواحہ سے فرق ارشاد ہوا ہے اور یہ کہ ان کو جنت میں منہ پھیرے ہوئے پایا کہ معرکہ میں قدرے اعراض واقع ہوکر اقبال ہوا تھا۔
وھو فی اخر ھذین المرسلین رواہ البیھقی عن طریق الواقدی بسندیہ والیہ اشارفی حدیث ابن سعد عن ابی عامر الصحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرفوعا رأیت فی بعضھم اعراضا کانہ کرہ السّیف ۱؎ ۔
وہ بات ان ہی دونوں مرسل کے آخر میں ہے اسے بیہقی نے بطریق واقدی اس کی دونوں سندوں سے روایت کیا ہے، اور اسی کی طرف طبقات ابن سعد کی حدیث میں اشارہ ہے جو حضرت ابو عامر صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ سرکار نے فرمایا ان میں سے ایک کے اندر میں نے کچھ اعراض دیکھا گویا شمشیر سے اسے ناگواری ہوئی۔ (ت)
(۱؎ الطبقات الکبرٰی بیان سریۂ موتہ دارصادر بیروت ۲ /۱۳۰)
اور سب سے زائد یہ کہ وہ شہید معرکہ ہیں، نماز غائب جائز ماننے والے شہید معرکہ پر نماز نہیں مانتے،تو باجماع فریقین یہاں صلٰوۃ بمعنی دُعا ہونالازم، جس طرح خود امام نووی شافعی ،امام قسطلانی شافعی، امام سیوطی شافعی رحمہم اﷲ تعالٰی نےصلٰوۃ علٰی قبور شہداء اُحد میں ذکر فرمایا کہ یہاں صلٰوۃ بمعنٰی دعاہونے پر اجماع ہے
کما اثرناہ فی النھی الحاجز
( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الحاجز میں نقل کیا ہے۔ت) حالانکہ وہاں
صلّی علٰی اھل احد صلٰوتہ علی المیّت۲؎
( اہل اُحدس پر ویسے ہی صلٰوۃ پڑھی جیسے میّت پر صلٰوۃہوتی ہے۔ ت) ہے ، یہاں اس قدر بھی نہیں، وہابیہ کے بعض جاہلان بیخرد مثل شوکانی صاحب نیل الاوطار ایسی جگہ اپنی اُصول دانی یوں کھولتے ہیں کہ صلٰوۃ بمعنی نماز حقیقت شرعیہ ہے اور بلادلیل حقیقت سے عدول ناجائز۔
اقول ،اولا ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقت شرعیہ صلوة بمعنی ارکان مخصوصہ ہےیہ معنی خود نماز جنازہ میں کہاں کہ اس میں نہ رکوع ھے نہ سجود نہ قراءت نہ قعود.
الثالث عندنا والبواقی اجماعا
(قراءت ہمارے نزدیک اور باقی تینوں بالاجماع کسی کے یہاں نہیں۔ت) ولہذا علماء تشریح فرماتے ھیں کہ نماز جنازہ صلوة مطلقا نہیں اور تحقیق یہ کہ وہ دعائے مطلق و صلوة مطلقہ میں برزخ ہے
کما اشارالیہ البخاری فی صحیحہ واطال فیہ
( جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے او راس بارے میں طویل کلام کیا ہے ۔ت) محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نماز جنازہ پر اطلاقِ صلٰوة مجاز ہے۔ صحیح بخاری میں ہے :
سماھا صلٰوۃ لیس فیھا رکوع ولاسجود ۱؎
(اس کا نام رکھا ایسی نماز جس میں رکوع وسجود نہیں، ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب سنۃ الصلٰوۃ علی الجنازۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۶)
لیکن تسمیہ بطور حقیقت نہیں، نہ بطور اشتراک بلکہ بطریق مجاز ہے ۔(ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب سنۃ الصلٰوۃ علی الجنازۃ ادارۃ الطباعۃ المنیر یۃ بیروت ۸ /۱۲۲)
ثانیاً :صلٰوۃ کے ساتھ جب علٰی فلان مذکور ہو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد نہیں ہوتی ، نہ ہوسکتی ہے ،
قال اﷲ تعالٰی
یاایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما ۳؎ ۔
اللّٰھم صلّ وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہ کماتحب وترضٰی وقال
وصلّ علیھم ان صلوتک سکن لھم ۴؎۔
وقال صلی اﷲ علیہ وسلم اللھم صلِّ علٰی اٰلِ ابی اوفٰی ۵؎ ۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: اے ایمان والو ! ان پر صلٰوۃ بھیجو او خوب سلام بھیجو ۔ اے اﷲ! اُن پر اور ان کی آل پررحمت وسلامتی وبرکت نازل فرما جیسی تجھے محبوب وپسندیدہ ہے۔ اور ارشاد باری ہے : ان پر صلٰوۃ بھیج بیشک تیری صلٰوۃ ان کے لئے سکون ہے۔ اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اے اﷲ! آلِ ابی اوفی پر صلٰوۃ فرما۔ (ت)
( ۳؎ القرآن ۳۳/ ۵۶) (۴ ؎ القرآن ۹ / ۱۰۳)
( ۵؎ صحیح البخاری باب ھل یصلی علٰی غیر النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۴۱)
کیا اس کے یہ معنٰی ہیں کہ الہٰی ! تو آلِ ابی اوفی پر نماز یا ان کا جنازہ پڑھ؟ کیا صلٰوۃ علیہ شرع میں بمعنی دورد نہیں؟
ولکن الوھابیۃ قول یجھلون
( لیکن وہابیہ نادان قوم ہے ۔ت)
تنبیہ: بعض حنفی بننے والے یہاں یہ عذر بے معنی پیش کرتے ہیں کہ مدارج النبوۃ میں ہے:
والاٰن درحرمین شریفین معتارف ست کہ چوں خبر می رسد کہ فلان مرد صالح دربلدے از بلادِ اسلام فوت کردہ است شافعیہ نماز بروے میکنند وبعضے حنفیہ با ایشاں شریک می شونداز قاضی علی بن جار اﷲ کہ شیخ حدیث فقیر بود پرسیدہ شد کہ حنفیہ چوں شریک می شوند درگزار دن ایں نماز، گفت دُعائے است کہ میکنند فلاباس بہ ۱؎ ۔
اور اس وقت حرمین شریفین میں متعارف ہے کہ جب اطلاع ملتی ہے کہ فلاں مرد صالح بلاد اسلام میں سے کسی شہر میں فوت ہوگیا تو شافعیہ اس کی نماز پڑھتے ہیں اور کچھ حنفی بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں ۔ قاضی علی بن جار اﷲ سے جو فقیر کے شیخِ حدیث تھے پوچھا گیا کہ حنفیہ اس نماز کی ادائیگی میں کیسے شریک ہوتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک دعا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔(ت)
تمام نصوص صریحہ کتب معتمدہ واجماع جمیع ائمہ مذہب کے مقابل گیا رھویں صدی کے ایک فاضل قاضی کی حکایت پیش کرتے ہوئے شرم چاہئے تھی۔
(۱) امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین ابن الہمام رحمہ اﷲ تعالٰی
کہ متاخرین تو متاخرین خود ان کے معاصرین ان کے لئے مرتبہ اجتہاد کی شہادت دیتے، ان امام جلیل کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی مسئلہ مذہب پر بحث کرنا چاہیں تو ڈرتے ڈرتے یوں فرماتے ہیں:
لوکان الّی شیئ لقلت کذا ۲؎
مجھے کچھ اختیارہوتا تو یوں کہتا۔( دیکھوفتح القدیر مسئلہ آمین وکتاب الحج باب الجنایات مسئلہ حلق وغیرہما)
(۲؎ فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ وباب الجنایات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۵۷ و ۲ /۴۴۸)