امام نووی نے خلاصہ میں فرمایا: اس کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔ امام بخاری وابن عدی وابو حاتم نے کہا: وہ منکر الحدیث ہے۔ ابو حاتم و دارقطنی نے کہا : متروک الحدیث ہے،۔ امام علی بن مدینی استاد امام بخاری نے کہا: وہ حدیثیں دل سے گھڑتا تھا، ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بھی اسی کی گھڑی ہوئی ہے، اسی سے چرا کر ایک شامی نے بقیہ سے روایت کی ۳؎ ۔
ابوالولیدطیالسی نے کہا: علامہ کذاب تھا، عقیلی نے کہا:
العلاء بن یزید ثقفی لایتابعہ احد علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ ۴؎
علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علاء ہی جیسے ہیں یااس سے بھی بدتر،
ذکرہ فی العلل المتناھیۃ
( ابن الجوزی نے اسے علل متناہیہ میں ذکر کیا ۔ ت) ابو عمر بن عبد البر نے کہا: اس حدیث کی سب سندیں ضعیف ہیں اور دربارہ احکام اصلاً حجت نہیں، صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں ۵؎ ۔
قالہ فی الاستیعاب ونقلہ فی الاصابۃ
(ابن عبد البر نے یہ استیعاب میں کہا اور حافظ نے اسے اصابہ میں نقل کیا ۔ت)
یونہی ابن حبان نے کہا کہ مجھے (عہ) اس نام کے کوئی صاحب صحابہ میں یاد نہیں ۱؎
اثرہ فی المیزان
( اسے ذہبی نے میزان میں نقل کیا ۔ ت)
عہ: وہابیہ کے امام شوکا نی نے نیل الاوطارمیں یہاں عجیب تماشہ کیاہے، اوّلا استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے معٰویہ بن معٰویہ لیثی پر نماز پڑھی ۔ پھر کہا استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابوامامہ سے روایت کیا۔ پھر کہا نیزاس کا مثل انس سے ترجمہ معاویہ بھی معاویہ مزنی میں روایت کیا ۲؎ ۔ اس میں یہ وہم لاتاہے کہ گویا تین صحابی جدا جدا ہیں جن پرنمازغائب مروی ہے، حالانکہ یہ محض جہل یاتجاہل ہے وہ ایک صحابی ہیں معاویہ نام جن کے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا، کسی نے مزنی کہا، کسی نے لیثی، کسی نے معاویہ بن معاویہ، کسی نے معاویہ بن مقرن، ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم نہیں اور حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح دی اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی خطا بتایا اور معاویہ بن مقرن کو ایک اورصحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں بہر حال صاحب قصہ شخص واحد ہیں، اور شوکانی کا ایہام تثلیث محض باطل۔ ابن الاثیرنے اسدالغابہ میں فرمایا:
معاویہ بن معاویہ المزنی ویقال اللیثی ویقال معاویۃ بن مقرن المزنی قال ابوعمر وھو اولی بالصواب ۳؎ الخ
یعنی معاویہ بن معاویہ مزنی، اور کوئی کہتا ہے معاویہ بن مقرن مزنی، ابو عمرو نے کہا یہی صواب سے نزدیک تر ہے۔ پھر حدیث انس کے طریق اول سے پہلے طور پر نام ذ کر کیا اور طریق دوم سے دوسرے طور پر اور حدیث ابوامامہ سے تیسرے طور پر ۔ ۱۲ منہ
ثانیاً فرض کیجئے کہ یہ حدیث اپنے طُرق سے ضعیف نہ رہے
کما اختارہ الحافظ فی الفتح
( جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اسے فتح الباری میں اختیار کیا ہے ۔ت) یا بفرض غلط لذاته صحیح سہی پھراس میں کیا ہے خود اسی میں تصریح ہے کہ جنازہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیش نظرانور کردیا گیا تھا تو نماز جنازہ حاضرپر ہوئی نہ کہ غائب پر حدیث ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ طبرانی کے یہاں یہ ہیں: جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حاضرہو کر عرض کی : یا رسول اﷲ !معاويہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا۔
اتحب ان اطوی لک الارض، فتصلی علیہ قال نعم، فضرب بجناحہ علی الارض فرفع لہ سریرہ فصلی علیہ، وخلفہ صفان من الملائکۃ کل صف سبعون الف ملک ۱؎۔
کیا حضور چاہتے ہیں کہ حضور کےلئے زمین لپٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں، فرمایا: ہاں ۔ جبریل نے اپنا پر زمین پر مارا جنازہ حضور کے سامنے ہوگیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی، اور فرشتوں کی دو(۲) صفیں حضور کے پیچھے تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے۔
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ الطبرانی باب المشی بالجنازۃ الخ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴/ ۴۶)
(فتح القدیر بحوالہ الطبرانی فصل فی الصلٰوۃ علی المیّت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۸۱)
ابو احمد حاکم کے یہاں یوں ہے :
وضع جناحہ الایمن علی الجبال ، فتواضعت ووضعت جناحہ الایسر علی الارضین فتواضعت حتی نظرنا الٰی مکۃ والمدینۃ فصلی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وجبریل والملئکۃ ۲؎ ۔
جبریل نے اپنا داہنا پَر پہاڑوں پر رکھا وہ جھک گئے بایاں زمینوں پر رکھا وہ پست ہوگئیں یہاںتک کہ مکہ ومدینہ ہم کو نظر آنے لگے، اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور جبریل وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام نے ان پر نماز پڑھی۔
(۲؎مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب الصلوة علی الغائب دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۳۸)
حدیث انس بطریق محبوب کے لفظ یہ ہیں: جبریل، نے عرض کی کیا حضور اس پر نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ فرمایا : ہاں۔
فضرب بجناحہ الارض فلم تبق شجرۃ ولا اکمۃ الا تضعضعت ورفع لہ سریرہ حتی نظر الیہ فصلی علیہ ۳؎۔
پس جبریل نے زمین پر اپنا پَر مارا کوئی پیڑ اور ٹیلہ نہ رہا جو پست نہ ہوگیا اور ان کا جنازہ حضور کے سامنے بلند کیا گیا یہاں تک کہ پیش نظر اقدس ہوگیا، اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی۔
(۳ الاصابہ فی تمییز الصحابہ ترجمہ ۸۰۸۰ معاویہ بن معاویہ دار صادر بیروت ۳/ ۴۳۶)
بطریق علاء کے لفظ یوں ہیں:
ھل لک ان تصلی علیہ فاقبض لک الارض قال نعم فصلی علیہ ۴؎ ۔
جبریل نے عرض کی حضور ان پر نماز پڑھنی چاہیں تو میں زمین سمیٹ دوں، فرمایا: ہاں۔ جبریل نے ایسا ہی کیا، اُس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی۔
(۴ الاصابہ فی تمییز الصحابہ ترجمہ ۸۰۸۰ معاویہ بن معاویہ دار صادر بیروت ۳/ ۴۳۷)
اقول بلکہ طرزکلام مشیر ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی، جب تو جبریل نے عرض کی کہ حضور نماز پڑھنی چاہیں تو میں زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور نماز پڑھیں ۔فافہم
واقعہ سوم: واقدی نے مغازی میں عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداﷲ بن ابی بکر سے روایت کی:
لما التقی الناس بموتۃ،جلس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام ،فھو ینظر الٰی معرکتھم، فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخذ الروایۃ زید بن حارثۃ، فمضی حتی استشھد ، وصلی علیہ ودعالہ وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ وھو یسعٰی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضٰی حتی استشھد فصلی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ودعا وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ فھو یطیر فیھابجنا حین حیث شاء ۱؎۔ (ملخصاً)
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے اور اﷲ عزوجل نے حضور کے لئے پردے اٹھا دئیے کہ ملک شام او ر وه معرکہ حضور دیکھ رہے تھے، اتنے میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا، حضور نے انھیں اپنی صلٰوۃ ودعا سے مشرف فرمایااور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو بیشک وہ دوڑتا ہوا جنت میں داخل ہوا۔ حضور نے فرمایا پھر جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا حضور نے ان کو اپنی صلٰوۃ ودعا سے شرف بخشا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتاپھرتا ہے۔
(۱؎ کتاب المغازی بیان غزوہ موتۃ موسسۃ العلمی بیروت ۲/ ۷۶۲)
اوّلا یہ دونوں طریق سے مرسل ہے اقول عاصم بن عمر او ساط تابعین سے ہیں، قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ صحابی کے پوتے اور یہ عبداﷲ بن ابی بکر عبد اﷲ بن ابی بکر محمد بن عمرو بن حزم ہیں، صغار تابعین سے عمرو بن حزم صحابی رضی اﷲ عنہ کے پر پوتے۔
ثانیاً خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں، یہاں تک کہ ذہبی نے ان کے متروک ہونے پر اجماع کا ادعا کیا ۲؎
(۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۷۹۹۳ محمد بن عمر واقدی دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۶۶۶)
اقول ( میں کہتا ہوں) یہ نقد ، پہلے نقد کی روش پر میں نے بڑھا دیا ہے اور دونوں اعتراض الزامی ہیں ورنہ ہمارے نزدیک حدیث مرسل مقبول ہے اور واقدی ثقہ ہیں ۔(ت)