واقعہ دوم: معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مدینہ طیبہ میں انتقال کیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تبوک میں ان پر نماز پڑھی۔
اوّلاً ائمہ حدیث عقیلی وابن حبان وبیهقی و ابوعمران بن عبدالبر وا بن الجوزی و نووی و ذہبی و ابن الہمام وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف بتایا، اسے طبرانی نے معجم اوسط و مسند الشامیین میں ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی سے روایت کیا
بطریق نوح بن عمرو السکسکی ثنابقیہ بن الولید عن محمد بن زیاد الالھانی عن ابی امامۃ
اس کی سند اس طرح ہے :نوح بن عمروسکسکی نے __ کہا ہم سے حديث بیان کی بقیہ بن ولید نے __ عن محمد بن زیاد الالہانی ___ عن ابی امامه رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
قلت ومن ھذا الطریق رواہ ابو احمد الحاکم فی فوائده والخلاّ لی فی فوائد سورۃ الاخلاص وابن عبدالبرفی الاستیعاب وابن حبان فی الضعفاء و اشار الیہ ابن مندۃ۔
قلت( میں کہتا ہوں) اسی طریق سے اس کوا بواحمد حاکم نے فوائد میں، خلاّل نے فوائد سورہ اخلاص میں، ابن عبدالبر نے استیعاب میں، اور ابن حبان نے ضعفاء میں روایت کیا،اور اسی کی طرف ابنِ مندہ نے اشارہ کیا ۔(ت)
اس کی سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہے اور اس نے عنعنہ کیا یعنی محمد بن زیاد سے اپنا سُننا نہ بیان کیا، بلکہ کہا کہ ابن زیاد سے روایت ہے معلوم نہیں راوی کون ہے!
بہ اعلہ المحقق فی الفتح اقول لکن سند ابی احمدالحاکم ھکذااخبرنا ابوالحسن احمد بن عمیر بد مشق ثنا نوح بن عمروبن حری ثنا بقیۃ ثنا محمد بن زیاد عن ابی امامۃ فذکرہ۔
حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسی سے اس کو معلول ٹھہرایا۔ اقول مگر ابواحمد حاکم کی سند اس طرح ہے : ہمیں خبر دی ابوالحسن احمد بن عمیر نے د مشق میں ، انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی نوح بن عمروبن حری نے، کہا ہم سے حدیث بیان کی محمد بن زیاد نے ، وہ ابوامامہ سے راوی ہيں، اس کے بعد حدیث ذکر کی ۔(ت)
ذہبی نے کہا کہ حدیث منکر ہے نیزاس کی سند میں نوح ابن عمرو ہے۔ ابن حبان نے اسے حدیث کا چوربتایا، یعنی ایک سخت ضعیف شخص اسے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتاتھا، اس نے اس سے چُرا کر بقیہ کے سراباندھی،
قال الذھبی فی ترجمۃ نوح قال ابن حبان یقال انہ سرق ھذا الحدیث ۱؎ اھ
ذہبی نے نوح کے حالات میں لکھا: ابن حبان نے بیان کیا کہ '' کہا جاتا ہے اس نے یہ حدیث چُرالی اھ
اقول لفظ الحافظ في الاصابۃ قال ابن حبان فی ترجمۃ العلاء الثقفی من الضعفاء بعد ان ذکر لی ھذا الحدیث سرقہ شیخ من اھل الشام، فرواہ عن بقیۃ فذ کرہ ۱؎ اھ ولیس فیہ یقال وقدنقل عنہ ھکذا الذھبی فی العلاء
اقول اصابہ میں حافظ ابنِ حجر کے الفاظ یہ ہيں: ابن حبان نے علاء ثقفی ضعیف کے ترجمہ میں اس کی یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا: اسے شام کے ایک شیخ نے چُرا کر اسے بقیہ سے روایت کردیا، پھر حدیث ذکر کی اھ ___ اصابہ کی اس عبارت میں ابن حبان کے حوالہ میں لفظِ یقال(کہا جاتا ہے) نہیں ہے___ اور خود ذہبی نے علاء کے بارے میں ابن حبان سے اسی طرح نقل کیا ہے___
فاقول ظاھران نوحا ھوالشیخ الشامی الذی رواہ عن بقیۃ ولا مشار للشک حتی یثبت شامی اخریرویہ عنہ لاجرم ان جزم الذھبی بانہ عنی بہ نوحا۔
فاقول ( تو میں کہتا ہوں) ظاہر ہے کہ نوح وہ شامی شیخ ہے جس نے یہ حدیث بقیہ سے روایت کی ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی اور شامی شیخ اس سے روایت کرنے والا ہے، لامحالہ ذہبی نے جزم کیا کہ ابن حبان نے اس سے نوح ہی کومراد لیا ہے۔ (ت)
انس (عہ) رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت طبقات ابن سعد میں دوطریق سے ہے: ایک طریق محبوب بن ہلال مزني ہے.
عہ تنبیہ: لم یرد الحدیث عن صحابی غیر انس وابی امامۃ اماما وقع فی نسختی فتح القدیر والمطبوعتین بمصر والھند من قولہ بعدذکر قصہ النجاشی فان قيل بل قد صلی علی غیرہ من الغیب وھو معاویۃ بن معاویۃ المزنی، ویقال الیثی رواہ الطبرانی من حدیث ابی امامۃ وابن سعد من حدیث انس وعلی وزید وجعفر لما استشھد بموتہ علی مافی مغازی الواقدی ۲؎
تصحیف وصوابہ وابن سعد من حدیث انس وعلی زید و جعفر ای وصلی علیھما فقد اخذ کلام الفتح ھذا برّمتہ الحبلی فی الغنیۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وکذ اصلی علٰی زید و جعفر ۳؎ وکذا اخذہ بتمامہ القاری فی المرقاۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وصلی علٰی زید وجعفر ۴؎ وقد جمع الحافظ طرق الحدیث فی الاصابۃ فلم یذ کرہ عن علی ولا عن غیرہ من الصحابۃ سوی انس و ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ (م)
تنبیہ: یہ حضرت انس اور ابوا مامہ کے علاوہ کسی اور صحابی سے وارد نہیں___ رہی فتح القدیر کی یہ عبارت جواس کے مصر اور ہند کے طبع شدہ دونوں نسخوںمیں ہے کہ '' واقعہ نجاشی ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: اگر اعتراض ہو کہ حضور نے نجاشی کے علاوہ دوسرے پر بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے۔ وہ معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ '' لیثی'' ___ اسے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے روایت کیا ہے اور ابن سعد نے حضرت انس اور علی سے، اور زید و جعفر پر بھی نماز پڑھی، جب یہ دونوں حضرات موتہ میں شہید ہوئے جیسا کہ مغازی واقدی میں ہے ___ تواس عبارت( من حدیث انس و علی وزید و جعفر ) میں تصحیف ( کتابت کی غلطی) ہے۔ صحیح عبارت اس طرح ہے ( وابن سعد من حدیث انس و علی زید وجعفر) یعنی اور اسے ابن سعد نے حضرت انس سے روایت کیا، اور حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی بھی غائبانہ نماز جنا پڑھی۔ اس خطائے کتابت کی دلیل یہ ہے کہ فتح القدیر کا پورا کلام لے کر علامہ حلبی نے غنیہ میں یوں لکھا: وابن سعد من حدیث انس ، وکذا صـلی علی زید و جعفر( اور ابن سعد نے اسے حضرت انس سے روایت کیا، اور اسی طرح حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی نماز پڑھی) یوں ہی علامہ علی قاری نے اسے مکمل اخذ کرکے مرقات میں یوں لکھا: وابن سعد من حدیث انس ، وصلی علی زید و جعفر (ا ور ابن سعد نے حضرت انس کی حدیث میں اسے روایت کیا اور حضور نے حضرات زید و جعفر کی نماز پڑھی___ اور حافظ ابن حجر نے اصابہ میں اس حدیث کے تمام طُرُق جمع کئے ہیں مگرا ن میں حضرت علی یا کسی اور صحابی سے روایت کا ذ کر نہیں، صرف حضرت انس وابوامامہ کا ذکر ہے۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم (ت)
(۲؎ فتح القدیر ۲ /۸۱) (۳؎ غنیہ المستملی ص ۵۴۴) (۴؎ مرقات المفاتیح ۴/ ۱۴۰)
قلت ومن ھذا الوجہ اخرجہ الطبرانی وابن الضریس وسمویۃ فی فوائدہ وابن مندۃ والبھیقی فی الدلائل ۱؎ ۔
قلت ( میں کہتاہوں) اسی طریق سے اُسے طبرانی ، ابن ضریس، فوائد میںسمویہ، ابن مندہ، اور دلائل میں بہیقی نے روایت کیا ۔ (ت)
(۱؎ الاصابۃ ترجمہ ۸۰۸۰ ۳/ ۳۳۶)
ذہبی نے یہ کہا یہ شخص مجہول ہے اور اس کی یہ حدیث منکر ۱؎ ۔
قلت ومن ھذا الطریق اخرجہ ابن ابی الدنیا ومن طریقہ ابن الجوزی فی العلل المتناھیۃ والعقیلی وابن سنجر فی مسندہ وابن الاعرابی وابن عبدالبرو حاجب الطوسی فی فوائدہ ۲؎ ۔
قلت ( میں کہتا ہوں) اسی طریق سے اس کو ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے اور اسی کے طریق سے ابن الجوزی نے العلل المتناہیہ میں،ا ور عقیلی اور ابن سنجر نے اپنی مسند میں اور ابن الاعرابی، ابن عبدالبر نے اور فوائد میں حاجب طوسی نے روایت کیا ہے ۔(ت)