اقول ای فقد کفاناالمؤنۃ بقولہ ھذامحتمل ثمّ اقول قد یومی لہ ما اخرج احمد وابن ماجۃ عن حذیفۃ بن اسید رضی اﷲتعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خرج بھم فقال صلواعلی اخ لکم مات بغیر ارضکم قالوامن ھوقال النجاشی۳؎ ثم رأیتہ عہ فی مسند ابی داؤد الطیالسی
اقول یعنی یہ احتمال مان کر ہمارا بوجھ انہوں نے خود ہی اتار دیا ثمّ اقول اس کاکچھ اشارہ اس سے ملتا ہے جوامام احمد اورابن ماجہ نے حذیفہ بن اُسید رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لوگوں کولے کر باہر آئے پھر فرمایا :اپنے ایک بھائی کی۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی النجاشی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۱)
عہ : ثم رأیت الشوکانی ذکرہ عن شیخ مذھبہ الفاسد ابن تیمیۃ انہ اختار التفصیل بجواز الصلٰوۃ علی الغائب ان لم یصل علیہ حیث مات والا لا قال واستدل لہ بما اخرجہ الطیالسی واحمد وابن ماجۃ وابن قانع والطبرانی والضیاء۴ فذکر الحدیث اقول اما الاستئناس فنعم واماکونہ دلیلا علیہ حجۃ فیہ فلاکما لایخفی۱۲منہ(م)
پھرمیں نے دیکھا کہ شوکانی نے اپنے فاسد مذہب کے پیشوا ابن تیمیہ سے متعلق ذکر کیا اس نے یہ تفصیل اختیار کی ہے کہ غائب کی نماز جائز ہے اگر وہاں اس کی نماز نہ ہوئی ہو جہاں انتقال کیا ورنہ جائز نہیں۔ اور کہا کہ اس پر دلیل میں وُہ حدیث پیش کی ہے جوطیالسی،امام احمد، ابن ماجہ، ابن قانع ،طبرانی اور ضیاء نے روایت کی پھر حدیث بالاذکر کی اقول اس حدیث سے رائے مذکور پر استیناس تو ہورہا ہے مگر یہ کہ اس پر یہ دلیل اور اس بارے میں حجت ہو توایسا نہیں جیسا کہ واضح ہے،۱۲منہ(ت)
(۴؎ نیل الاوطار للشوکانی الصلٰوۃ علی الغائب بالنیۃ مصطفی البابی مصر ۴ /۵۷)
قال حدثنا المثنی بن سعید عن قتادۃ عن ابی طفیل عن حذیفۃ بن اسیدان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتاہ موت النجاشی فقال ان اخاکم مات بغیرارضکم فقوموافصلوا علیہ ۱؎ فھذا یقوی الاستئناس لمکان الفاء فی فقوموا ۔
نماز ادا کرو جو تمھاری سرزمین کے علاوہ میں فوت ہوا۔ لوگوں نے عرض کیا : وہ کون؟فرمایا : نجاشی،پھر میں نے اسے مسند ابوداؤد طیاسی میں دیکھا، انھوں نے کہا ہم سے مثنی بن سعید نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ سے وہ ابوالطفیل سے وہ حذیفہ بن اُسید سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی وفات کی خبر آئی تو فرمایا: تمھارا بھائی تمھاری سرزمین کے علاوہ میں انتقال کر گیا ،تواٹہواس کی نماز پڑہویہ روایت استیناس کوقوت دے رہی ھے اس لیے کہ اس کے اندرفقوموا(تو اٹھو) میں فا (تو) ہے ۔(ت)
ولہذا خود امام شافعی المذہب ابوسلیمان خطابی نے یہ مسلک لیا کہ غائب پرنمازجائز نہیں سوا اس صورت خاص کے کہ اس کا انتقال ایسی جگہ ہوا ہوجہاں کسی نے اس کی نماز نہ پڑھی ہو۔ اقول اب بھی خصوصیت نجاشی ماننے سے چارہ نہ ہوگا، جبکہ اورموتیں بھی ایسی ہوئیں اور نماز غائب کسی پر نہ پڑھی گئی۔
رابعا بعض (عہ)کو ان کے اسلام میں شبہ تھا یہاں تک کہ بعض نے کہا : حبشہ کے ایک کافر پر نماز پڑھی ۲؎ ۔
رواہ ابن ابی حاتم فی التفسیر عن ثابت و الدار قطنی فی الافراد والبزار عن حمید معاً عن انس ولہ شاھد فی کبیر الطبرانی عن وحشی واوسطہ عن ابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
اسے ابن ابی حاتم نے تفسیر میں ثابت سے، دارقطنی نے افراد میں اور بزار نے مسند میں حمید سے، دونوں حضرات نے حضرت انس سے روایت کیا ، اور اس حدیث کی ایک شاہد طبرانی کبیر میں حضرت وحشی سے اور معجم اوسط میں حضرت ابوسعید سے ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم (ت)
عہ: روایتِ طبرانی میں ہے اس کا قائل ایک منافق تھا ۴؎ ۱۲ منہ (م)
(۲؎ فتح الباری بحوالہ ابن ابی حاتم والدار قطنی والبزار باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۱)
(۴؎ فتح الباری بحوالہ طبرانی اوسط باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۱)
س نماز سے مقصود اُن کی اشاعتِ اسلام تھی. اقول یعنی بیان بالفعل اقوی ہے ولہذا مصلّٰی میں تشریف لے گئے کہ جماعت کثیر ہو ۳؎
(۳؎ فتح الباری بحوالہ ابن بزیزہ والدار قطنی والبزار باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۱)
قالہ ابن بزیزۃ وغیرہ من الشافعیۃ القائلین بجواز صلٰوۃ الجنازۃ فی المسجد معتلین لعدم صلوۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی المسجد مع انہ حین نعاہ کان فیہ ھذا ولا یذھب عنک ان الطراز المعلم ھما الاولان۔
یہ ابن بزیزہ وغیرہ شافعیہ نے کہا جواس کے قائل ہیں کہ مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے، اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جب رحلتِ نجاشی کی اطلاع دی تو اس وقت مسجد ہی میں تشریف فرماتھے مگر جنازہ کیلئے باہر تشریف لے گئے اس کی علت ان حضرات نے یہ بتائی کہ اس سے مقصود تکثیر جماعت کے ذریعہ ان کے اسلام کا اعلان کرنا تھا۔ ( اس واقعہ پر ہم نے چار کلام کئے مگر) خیال رہے کہ نقش زرنگار کی حیثیت صرف پہلے دو کو حاصل ہے ۔(ت)
تنبیہ : غيرمقلدوں کے بھوپالی امام نے عون الباری میں حدیث نجاشی کی نسبت کہا، اس سے ثابت ہوا کہ غائب پر نمازجائزہے اگر چہ جنازہ غیر جہت قبلہ میں ہواور نماز قبلہ رُو۔
اقول یہ اس مدعی اجتہاد کی کورانہ تقلید اور اس کے ادعاپر مثبت جہل شدید ہے،نجاشی کا جنازہ حبشہ میں تھا اور حبشہ مدینہ طیبہ سے جانب جنوب ہے اور مدینہ طیبہ کا قبلہ جنوب ہی کو ہے تو جنازہ غیر جہتِ قبلہ کو کب تھا۔
لاجرم لما نقل الحافظ فی الفتح قول ابن حبان انہ انما یجوز ذلک لمن فی جھۃ القبلہ، قال حجتہ الجمود علی قصۃ النجاشی ۱؎اھ
جب حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں ابن حبان کا یہ قول نقل کیا کہ صرف اسی غائب کی نماز جنازہ ہوسکتی ہے جو سمتِ قبلہ میں تو اس پر کہا کہ : ان کی دلیل واقعہ نجاشی پر جمود ہے اھ (ت)
(۱؎ فتح الباری بحوالہ ابن بزیزہ باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۱)
تو ان مجتہد صاحب کا جہل قابل تماشاہے جن کو سمتِ قبلہ تک معلوم نہیں۔ پھر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ان کے جنازہ پر نماز ان کی غیر سمت پڑھنے کا ادعا دوسرا جہل ہے۔ حدیث میں تصریح ہے کہ حضور نے جانبِ حبشہ نماز پڑھی ۲؎
رواہ الطبرانی عن حذیفة بن اسید رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے طبرانی نے حذیفہ بن اُسید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۲؎ معجم کبیر مروی از حذیفہ بن اُسید حدیث ۳۰۴۸ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳/ ۱۷۹)