Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
71 - 243
اقول ھذافی فتح الباری ثم المواھب ثم شرحھا وکذلک فی عمدۃ القاری وغیرھا من الکتب و وقع فی نصب الرایۃ فی روایۃ ابن حبان وھم لایظنون ان جنازتہ بین یدیہ باسقاط الافاحتاج المحقق علی الاطلاق الی التقریب بان قال فھذااللفظ یشیرالی ان الواقع خلاف ظنھم لانہ ھو فائدۃ المعتھد بھا فاما ان یکون سمعہ منہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اوکشف لہ۱؎اھ وتبعہ فی الغنیۃ والمرقاۃ وھوکما تری کلامہ نفیس لکن لاحاجۃ الیہ بعد ثبوت الافی الکتابین الصحیحین فانہ ح اظھر و ازھر وﷲالحمد وبالجملۃ اندفع بہ ماقال الشیخ تقی الدین ان ھذا یحتاج الٰی نقل یثبتہ ولایکتفی فیہ بمجرد الاحتمال۲؎۔
اقول ابوعوانہ و ابن حبان کے حوالے سےفتح الباری پھر مواہب پھر شرح مواہب میں یہی الفاظ مذکورہ آئے اورایسے ہی عمدۃ القاری وغیرہ کتابوں میں نقل ہے--نصب الرایہ کے اندر روایتِ ابنِ حبان میں وھم لایظنون ان جنازتہ بین یدیہ(اور لوگ نہیں سمجھ رہے تھے کہ ان کا جنازہ حضور کے آگے رکھا ہُوا ہے الّا(مگر) کے اسقاط کے ساتھ واقع ہُواتو محقق علی الاطلاق نے حدیث کو مدعا کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت محسوس کی اور فرمایا:اس لفظ سے یہ اشارہ ہورہا ہے کہ واقع میں ان حضرات کے گمان کے برخلاف تھا کیونکہ اس جملے کا قابلِ شمار  ولحاظ فائدہ یہی ہے (تو معنی یہ ہوا کہ وُہ ایسا نہیں سمجھ رہے تھے مگر واقع میں جنازہ حضور کے آگے موجود تھا )اب یہ ان کو حضور سے سن کر معلوم ہوا ہو یا ان پر انکشاف ہواہو،اھ---اس کلام میں حضرت محقق کا اتباع صاحبِ غنیـہ وصاحبِ مرقات نے بھی کیا ہے۔ اور واقعی یہ نفیس کلام ہے مگر دونوں صحیح کتابوں(صحیح ابن حبان و صحیح ابی عوانہ)میں لفظ الّا ثابت ہوجانے کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ جو الّاکے ساتھ ہے وہ  زیادہ ظاہر اور روشن ہے۔اور خدا ہی کے لئے ساری حمد ہے۔

الحاصل اس سے وہ اعتراض دفع ہو گیا جوشیخ تقی الدین نے لکھا کہ اس پر کوئی دلیل لانے کی ضرورت ہے محض احتمال کافی نہیں۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     فصل فی الصلٰوۃ علی المیت        نوریہ رضویہ سکھر        ۲ /۸۰)

(۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ تقی الدین    احادیث الصلٰوۃ علی الغائب    المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض الشیخ    ۲ /۲۸۳)
یہ دونوں روایت صحیح عاضد قوی ہیں اس حدیث مرسل اصولی کی کہ امام واحدی نے اسبابِ نزولِ قرآن میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲعنہما سے ذکر کی کہ فرمایا:
کشف النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم عن سریرالنجاشی حتی راہ وصلّی علیہ۱؎۔
نجاشی کا جنازہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے لئے ظاہر کردیا گیا تھا حضور نے اسے دیکھا اُس پر نماز پڑھی۔
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب     بحوالہ واحدی النوع الرابع فی صلوٰتہ الخ    دارالمعرفۃ بیروت        ۱ /۸۷)
ثانیاًبلکہ جب تم مستدل ہو ہمیں احتمال کافی، نہ کہ جب خود باسانید صحیحہ ثابت ہے۔یہ جواب خود ایک شافعی امام قسطلانی نے مواہب شریفہ میں نقل کیا اور مقرررکھا۔
اقول ای لماتقررمن کفہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فالظاہر معناہ الاحتمال عن دلیل ثم من العجب قول الکرمانی کان غائباً عن الصحابۃ ۲؎ وارتضاہ فی الفتح قائلا سبقہ الٰی ذلک ابوحامد ۳؎الخ وکذا استحسنہ الرؤیانی واربعتھم شافعیہ عہ وھذا لمانص علیہ الحنفیۃ والمالکیۃ من الاتفاق علی جواز الصلٰوۃ علٰی غائب عن القوم والامام یراہ ۔
اقول یعنی جب حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا غائبوں کی نماز سے بازرہنا ثابت ہے تو حضرت اصحمہ نجاشی کی نمازجنازہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جنازہ سامنے تھا، تو ظاہر یہ ہے کہ احتمال سے مراد احتمال بدلیل ہے۔ پھر عجیب بات ہے کہ کرمانی نے لکھا :نجاشی کاجنازہ صرف نظرِ صحابہ سے غائب تھا، اس کو فتح الباری میں پسند کیایہ کہتے ہوئے کہ اس سے پہلے ابو حامد یہ فرما چکے ہیں۔اس طرح رویانی نے اسے عمدہ چیز سمجھا، یہ چاروں حضرات شافعی ہیں۔تعجب کی چیز یہ ہے کہ اس پر حنفیہ ومالکیہ کا بھی اتفاق ہے کہ ایسے کی نمازِ جنازہ جائز ہے جولوگوں سے غائب ہو اورامام اسے دیکھ رہاہو۔
عہ: قلدھم فیہ تقلید اجامداً مجتھد الوھابیۃ الشوکانی فی نیل الاوطار والبوفالی فی عون الباری غافلین عماردہ بہ الحنفیۃ وھذا دیدن ھٰؤلاء المدعین للاجتھاد یقلدون المقلدین فی الغلط المبین ویحرمون تقلیدالائمۃ المجتہدین ۱۲منہ (م)
اس میں ان کی تقلید جامدکی ہے مجتہدِ وہابیہ شوکانی نے نیل الاوطار میں اوربھوپالی نے عون الباری میں۔اور اس کلام سے غافل رہے جس کے ذریعے حنفیہ نے اس جواب کو رَد کردیا ہے۔ یہی ان مدعیانِ اجتہاد کی عادت ہے کہ کھلی ہوئی غلط باتوں میں مقلدین کی تقلید کرتے ہیں اور ائمہ مجتہدین کی تقلید کوحرام ٹھہراتے ہیں۱۲منہ(ت)
 (۲؎ فتح الباری بحوالہ الکرمانی     باب الصفوف علی الجنازہ             مصطفی البابی مصر        ۳ /۴۳۲)

(۳؎ فتح الباری شرح بخاری    باب الصفوف علی الجنازہ             مصطفی البابی مصر        ۳ /۴۳۲)
اقول علٰی ان فی حدیث عمران نحن لانرٰی الا ان الجنازۃ قدامنا۱؎کما قدمنا اماحدیث مجمع بن جاریۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فصففنا خلفہ صفین ومانرٰی شیئا۲؎رواہ الطبرانی ف (وھم من نسبہ لابن ماجۃ مغترابقول الحافظ اصلہ فی ابن ماجۃ غافلا ان لیس عندہ ''ومانرٰی شیئا'' وھوالمقصود )ففیہ حمران بن اعین رافضی ضعیف علی ان کلاحکی عن حالہ فلاتعارض ولایعقل من عاقل اشتراط ان یری المیت الکل والالما صحت لماعداللصف الاول۔
اقول علاوہ ازیں حدیث عمران میں یہ ہے کہ ''ہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے ''جیسا کہ ہم پیش کرچکے۔ رہی مجمع بن جاریہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کی حدیث، ہم نے حضور کے پیچھے دو صفیں لگائیں اور ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے اسے طبرانی نے روایت کیا (جس نے ابن ماجہ کاحوالہ دیا اُسے وہم ہوا،دراصل ابن حجر کی اس عبارت سے کہ''اس کی اصل ابن ماجہ میں ہے'' وہ فریب خوردہ ہوگیا اوراس سے غافل رہا کہ ابن ماجہ میں یہ لفظ ''ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے''موجود نہیں جبکہ وہی مقصود ہے) اس میں حمران بن اعین رافضی ضعیف ہے۔علاوہ ازیں ہر راوی نے اپنا حال بیان کیا ہے، اس لئے کوئی تعارض نہیں،ورنہ پہلی صف کے علاوہ کسی کی نماز ہی نہ ہو۔(ت)
ف:معجم کبیر میں مُجَمّع بن جاریہ کی احادیث کے تحت بحوالہ ابن ابی شیبہ کے الفاظ یوں ہیں:
''فصففنا خلفہ صفین''
اس میں ''وما نرٰی شیئا''کے الفاظ نہیں ہیں۔ ملا حظہ ہو معجم کبیر حدیث ۱۰۸۶جلد ۱۹ص۴۴۶۔نذیر احمد
 (۱؎ شرح الزرقانی علی مواہب بحوالہ عمران بن حصین    النوع الرابع فی صلوٰتہ الخ    دارالمعرفۃ بیروت      ۸ /۸۷)

(۲؎ شرح الزرقانی علی مواہب بحوالہ طبرانی    النوع الرابع فی صلوٰتہ الخ    دارالمعرفۃ بیروت      ۸ /۸۷)

(فتح الباری شرح البخاری    باب الصلٰوۃ علی الجنازۃ         مصطفی البابی مصر        ۳ /۴۳۲)
ثالثاًنجاشی رضی اﷲتعالٰی عنہ کا انتقال دارالکفر میں ہوا وہاں اُن پر نماز نہ ہوئی تھی لہذاحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے یہاں پڑھی۔اسی بنا پر امام ابوداؤد نے اپنی سننن میں اس حدیث کے لئے یہ باب وضع کیا:
الصلٰوۃ علٰی مسلم یلیہ اھل شرک فی بلد اٰخر۳؎۔
دوسرے شہر میں ایسے مسلم کی نماز جنازہ جس کے قریب صرف اہلِ شرک ہیں۔(ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد        باب الصلٰوۃ علی المسلم یموت فی بلادشرک    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۰۱)
قال الحافظ فی الفتح ھذامحتمل الا انی لم اقف فی شیئ من الاخبار علی انہ لم یصل علیہ فی بلدہ احد۱؎اہ قال الزرقانی وھومشترک الالزام فلم یرو فی الاخبار انہ صلی علیہ احد فی بلدہ کماجزم بہ ابوداؤد محلہ فی اتساع الحفظ معلوم ۲؎اھ
حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں کہا یہ احتمال تو ہے مگر کسی حدیث میں یہ اطلاع میں نے  نہ پائی کہ نجاشی کے اہلِ شہر میں سے کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اھ علامہ زرقانی نے لکھا :یہ الزام دونوں طرف سے مشترک ہے کیونکہ کسی حدیث میں یہ بھی مروی نہیں کہ ان کے اہلِ شہر میں سے کسی نے ان کی نماز ِ جنازہ پڑھی تھی-- جیساکہ ابوداؤد نے اس پر جزم کیا ہے اور وسعتِ حفظ میں ان کا مقام معلوم ہے اھ۔
 (۱؎ فتح الباری شرح البخاری    باب الصفوف علی الجنازۃ      مصطفی البابی مصر        ۳ /۴۳۲)

(۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب     النوع الرابع            دارالمعرفۃ بیروت        ۸ /۸۷)
Flag Counter