Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
70 - 243
حلیہ کے لفظ یہ ہیں:
شرط صحتھا کونہ موضوعاامام المصلی ومن ھنا قالوا لاتجوز الصلٰوۃ علی غائب مطلقا۲؎۔
نمازِ جنازہ کی شرائطِ صحت سے ہے جنازہ کا مصلّی کے آگے ہونا۔اسی لئے ہمارے علماء نے فرمایا کہ مطلقاً کسی غائب پر نماز جائز نہیں۔
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
 (۲۱۴)متن تنویرالابصارمیں ہے:
شرطہا وضعہ امام المصلی۳؎۔
جنازہ کا نمازی کے سامنے ہونا شرطِ نماز جنازہ ہے۔
 (۳؎درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۱)
 (۲۱۵) برہان شرح مواہب الرحمن طرابلسی(۲۱۶) نہر الفائق (۲۱۷) شرنبلالیہ علی الدرر(۲۱۸) خادمی (۲۱۹) ہندیہ(۲۲۰) ابوالسعود ۔ (۲۲۱) درمختار میں ہے :
  شرطھا حضورہ فلاتصح علٰی غائب۴؎۔
جنازہ کاحاضر ہونا شرطِ نماز ہے لہذا کسی غائب پر نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔
 (۴؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۱)
 (۲۲۲) متن نورالایضاح میں ہے :
شرائطہا اسلام المیت وحضورہ ۵؎۔
صحتِ نمازِجنازہ کی شرطوں سے ہے میّت کا مسلمان ہونا اور نمازیوں کے سامنے حاضر ہونا۔
(۵؎ نورالایضاح     فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت    مطبع علیمی لاہور  ص۵۵۶)
 (۲۲۳) متن ملتقی الابحر میں ہے:
لایصلی علی عضو ولاعلی غائب۶؎۔
   میّت کا کوئی عضو کسی جگہ ملے تو اس پر نماز جائز نہیں ،نہ کسی غائب پر جائز ہے۔
(۶؎ ملتقی الابحر  فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت  موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ /۱۶۱)
(۲۲۴) شرح مجمع(۲۲۵) مجمع شرح ملتقی میں ہے:
محل الخلاف فی الغائب عن البلد اذلوکان فی البلد لم یجز ان یصلی علیہ حتی یحضر عندہ اتفاقا لعدم المشقۃ فی الحضور۱؎۔
امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ کا اس مسئلہ میں ہم سے خلاف بھی اس صورت میں ہے کہ میّت دوسرے شہر میں ہو اگر اسی شہر میں ہو تو نماز غائب امام شافعی کے نزدیک بھی جائز نہیں کہ اب حاضر ہونے میں مشقت نہیں۔
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    فصل فی الصلٰوۃ علی المیت    داراحیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۱۸۵)
 (۲۲۶) فتاوٰی خلاصہ میں ہے :
لایصلی علٰی میّت غائب عندنا۲؎۔
    ہمارے نزدیک کسی میّت غائب پر نماز نہ پڑھی جائے۔
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی   الصلٰوۃ علی الجنازۃ اربع تکبیرات    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۱ /۲۲۴)
 (۲۲۷) متن وافی میں ہے :
من استھل صلی علیہ والّالاکغائب۳؎۔
جوبچّہ پیداہوکر کچھ آواز کرے جس سے اس کی حیات معلوم ہو پھر مرجائے اس پر نماز پڑھی جائے ورنہ نہیں،جیسے غائب کے جنازہ پر نماز نہیں۔
 (۳؎ وافی)
 (۲۲۸)کافی میں ہے:
لایصلی علٰی غائب وعضو خلافا للشافعی بناء علی ان صلاۃ الجنازۃ تعاد ام لا ۴؎۔
کسی غائب یا عضو  پر نماز ہمارے نزدیک ناجائز ہے اوراس میں امام شافعی کا خلاف ہے اس بناء پر کہ نماز جنازہ ان کے نزدیک دوبارہ ہوسکتی ہے، ہمارے نزدیک نہیں۔
 (۴؎ کافی شرح وافی)
 (۲۲۹) فتاوٰی شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی میں ہے:
ان اباحنیفہ لایقول بجواز الصلاۃ علی الغائب۵؎۔
ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ جنازہ غائب پر نماز جائز نہیں مانتے۔
 (۵؎ فتاوٰی امام غزی تمرتاشی    کتاب الطہارۃ والصّلٰوۃ     مطبع اہل السنۃ والجماعۃ بریلی       ص۴)
 (۲۳۰) منظومۂ امام مفتی الثقلین میں ہے:
باب فتاوی الشافعی وحدہ        ومابہ قال قلنا ضدہ

وھی علی الغائب والعضوتصح    وذاک فی حق الشہید قدطرح۱۱؎
صرف اما م شافعی قائل ہیں کہ غائب اور عضوپر نماز صحیح ہے اور شہید کی نماز نہ ہو اور ان سب مسائل میں ہمارا مذہب اس کے خلاف ہے۔ ہمارے نزدیک غائب وعضو پر نماز صحیح نہیں اور شہید کی نماز پڑھی جائےگی۔
 (۱؎ منظومۂ امام مفتی الثقلین عمرالنسفی)
یہ ۸۶کتابوں کی ۲۳۰عبارتیں ہیں ،وﷲ الحمد مسئلہ اولٰی پر بحث دلائل النھی الحاجز میں بحمداﷲتعالٰی بروجہ کافی ہوچکی، یہاں بہت اختصار و اجمال کے ساتھ مسئلہ ثانیہ کے دلائل پر کلام کریں ۔

فنقول وباﷲ التوفیق حکم شرع مطہر کے لئے اوراس پر زیادت نا روا۔
اقول ای ماکان بدون اذنہ الخالص والعام ولو فی ضمن الارسال او السکوت فانہ بیان ولیس یسکت عن نسیان فھذہ ھی الزیادۃ حقیقۃ لاغیرہ اذا المستند ولو الی سکوتہ مستند الیہ لا زائد علیہ والمتبع الکف دون الترک فانہ لیس بفعل العبد ولامقدور کمانص علیہ الاجلّۃ الصدور بل ھوفی العقل مدلل فان الاعدام لاتعلل فافھم ان کنت تفھم۔
اقول یعنی وہ زیادتی جو شرع کے اذنِ خاص یا عام کے  بغیر ہو اگرچہ وہ ارسال یاسکوت کے ضمن میں ہو اس لئے کہ وہ بھی بیان ہے اس کا سکوت نسیان سے نہیں ہوتا، یہی زیادتی حقیقۃً زیادتی ہے ،اس کے علاوہ نہیں اس لئے جس کا استناد شرع سے ہو گو سکوت ہی سے ہو وہ شریعت کی طرف مستند ہے اُس پر زائد نہیں۔ اور اتباع کف (قصداً نہ ہونے میں نہیں(حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام قصداً کسی کام سے باز رہے تواس میں ان کی پیروی ہوگی اور یوں کوئی کام سرکار کے عمل میں نہ آیا تو وہ ممنوع نہ ہوگا نہ اس سے بچنا ضروری ہوگا) اس لئےکہ ترک بندے کافعل ہی نہیں،نہ ہی اس کی قدرت میں ہے جیسا اجلّہ بزرگانِ دین نے اس کی تصریح فرمائی، بلکہ عقل کے نزدیک بھی یہ دلیل رکھتا ہے کیونکہ عدم کی تعلیل نہیں ہوتی،اسے سمجھو اگر سمجھ والے ہو۔(ت)باز رہنے) میں ہوتی ہے۔
حضور پُرنور سیّد یوم النشور بالمؤمنین رؤف رحیم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کو نماز جنازہ مسلمین کا کمال اہتمام تھا ۔ اگر کسی وقت رات اندھیری یا دوپہر کی گرمی یا حضور کے آرام فرماہونے کے سبب صحابہ نے حضورکو اطلاع نہ دی اور دفن کردیا تو ارشاد فرماتے:
لاتفعلو ا ادعونی لجنائزکم ۱؎۔رواہ ابن ماجۃ ف ۱  عن عامر بن ربیعۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ ۔
ایسا نہ کرو مجھے اپنے جنازوں کے لئے بلالیا کرو، اسے ابن ماجہ نے عامر بن ربیعہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا،
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل  حدیث عامر بن ربیعہ   دارالفکر بیروت     ۳ /۴۴۴

التمہید   اباحۃ الصلٰوۃ علی القبرالخ    المکتبۃ القدوسیہ اردوبازار لاہور        ۶ /۱۶۷)
ف ۱: یہ حدیث ''تمہید'' میں بھی منقول ہے اس پر تحقیق والے نے جنائز ابن ماجہ کا حوالہ دیا لیکن مجھے یہ حدیث ابن ماجہ میں ان الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی البتہ مسند احمد بن حنبل میں انہی الفاظ سے یہ حدیث منقول ہے حوالہ ملاحظہ ہو۔    نذیر احمد
اور فرماتے :
لاتفعلوا لایموتن فیکم میّت ماکنت بین اظھرکم الا اذنتمونی بہ فان صلٰوتی علیہ رحمۃ۲؎۔رواہ الامام احمد عن زید بن ثابت ف۲ رضی اﷲتعالٰی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث اٰخر۔
ایسا نہ کرو جب تک میں تم میں تشریف فرماہوں ہرگز کوئی میّت تم میں نہ مرے جس کی اطلاع مجھے نہ دو کہ اُس پر میری نماز موجبِ رحمت ہے۔اسے امام احمد نے زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔اور اسے ابن حبان اورحاکم نے زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے حدیث کے آخر میں روایت کیا۔
ف۲: یہی حدیث ابن ماجہ نے یزید بن ثابت کے حوالہ سے نقل کی اورمسند احمد بن حنبل میں بھی یزید کے حوالے سے منقول ہے اور یزید زید کے بڑے بھائی ہیں۔   نذیر احمد
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث یزید بن ثابت        دارالفکر بیروت            ۴ /۳۸۸)
اور فرماتے:
ھذہ القبور مملوۃ ظلمۃً علی اہلھا وانی انورھا بصلٰوتی علیھم ۳؎۔صلی اﷲتعالٰی وبارک وسلم علیہ وعلٰی اٰلہ قدر نورہ وجمالہ وجاھہ وجلالہ وجودہ ونوالہ ونعمہ وافضالہ رواہ مسلم و ابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
بیشک یہ قبریں اپنے ساکنوں پر تاریکی سے بھری ہیں اور بیشک میں اپنی نماز سے انہیں روشن فرمادیتا ہوں۔ اﷲ تعالٰی رحمت وبرکت و سلامتی نازل فرمائے ان پر اوران کی آل پر ان کے نور وجمال ،جاہ  وجلال، جود ونوال، نِعَم وافضال کے حساب سے ۔حدیث مذکور کو مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۳؎ صحیح مسلم     کتاب الجنائز   نور محمد اصح المطابع کراچی        ۱ /۳۱۰)

(مسند احمد بن حنبل    مروی ازابوھریرہ رضی اﷲعنہ    دارالفکر بیروت    ۲ /۳۸۸)

(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان    فصل فی الصلٰوۃ الجنائز    موسسۃ الرسالۃ بیروت   ۵ /۳۵)
با ایں ہمہ حالانکہ زمانہ اقدس میں صدہاصحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے دوسرے مواضع میں وفات پائی، کبھی کسی حدیث صریح سے ثابت نہیں کہ حضور نے غائبانہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھی۔کیا وہ محتاج  رحمت والا نہ تھے، کیا معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو ان پر یہ رحمت وشفقت نہ تھی،کیا ان کی قبور اپنی نماز پاک سے پُرنور نہ کرنا چاہتے تھے،کیا جومدینہ طیبہ میں مرتے انہیں کی قبور محتاج نور ہوتیں اور جگہ اس کی حاجت نہ تھی۔یہ سب باتیں بداھۃًباطل ہیں تو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا عام طور پر ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیل روشن وواضح ہے کہ جنازہ غائب پر نماز ناممکن تھی ورنہ ضرور پڑھتے کہ مقتضی بکمال وفور موجود اور مانع مفقود۔لاجرم نہ پڑھنا قصداً باز رہنا تھا اور جس امر سے مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم بے عذر مانع بالقصد احتراز فرمائیں وُہ ضرور امرِ شرعی ومشروع نہیں ہوسکتا دوسرے شہر کی میّت پر صلٰوۃ کاذکر صرف تین واقعوں میں روایت کیاجاتا ہے۔واقعہ نجاشی و واقعہ معٰویہ لیثی و واقعہ امرائے موتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ان میں اوّل ودوم وبلکہ سوم کا بھی جنازہ حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حاضر تھا تو نماز غائب پر نہ ہوئی بلکہ حاضر پر، اور دوم وسوم کی سند صحیح نہیں، اور سوم صلٰوۃ بمعنی نماز میں صحیح نہیں۔ ان کی تفصیل بعونہ تعالٰی ابھی آتی ہے۔اگرفرض کیجئے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اور تمام اموات کے اس حاجت شدیدہ رحمت ونور قبور کے صدہا کیوں نہ پڑھی ، وہ بھی محتاج حضور و حاجتمند رحمت ونور،اور حضور ان پر بھی رؤف ورحیم تھے۔ نماز سب پر فرض عین نہ ہونا اس اہتمام عظیم کا جواب نہ ہوگا، نہ تمام اموات کی اس حاجت شدیدہ کا علاج۔ حالانکہ حریص علیکم ان کی شان ہے۔ دوایک کی دستگیری فرمانا اورصدہاکو چھوڑنا کب ان کے کرم کے شایان ہے۔ ان حالات واشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترک اورصرف دوایک باوقوع خود ہی بتا دے گا کہ وہاں خصوصیات خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہوسکتا۔حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بناپر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیر معونہ ہی دیکھئے۔ مدینہ طیبہ کے ستر۷جگر پاروں محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کےخاص پیاروں،اجلّہ علمائے کرام صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کو کفار نے دغا سے شہید کردیا۔مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو ان کا سخت و شدید غم والم ہوا۔ایک مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفار ناہنجار پر لعنت فرماتے رہے، مگر ہرگز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو۔
ع     آخرایں ترک وبایں مرتبہ بے چیزے نیست
 (آخر اجلہ صحابہ کرام کے شہید ہونے پر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ان کی نمازِ جنازہ کو ترک فرمانا بغیر کسی وجہ کے نہیں ہوسکتا) اہل  انصاف کے نزدیک کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا مگر ہم ان وقائع ثلٰثہ کا بھی باذنہ تعالٰی تصفیہ کریں۔
واقعۂ اولٰی: جب اصحمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ بادشاہ حبشہ نے حبشہ میں انتقال کیا۔سیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں صحابہ کرام کو خبر دی مصلّٰی میں جاکر صفیں باندھ کر چار تکبیریں کہیں۱؎۔
رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ والشیخان عن جابر کنت فی الصف الثانی اوالثالث۲؎ رضی اﷲ تعالٰی عنہما
 (اسے اصحابِ ستہ نے حضرت ابو ھریرہ سے روایت کیا اوربخاری و مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا، رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        باب الصفوف علی الصفوف علی الجنازہ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۷۶)

(۲؎ صحیح البخاری            باب من صف صفین       قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۷۶)
اوّلاًصحیح ابن حبان میں عمران بن حصین رضی اﷲتعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا سے ہے:
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال ان اخاکم النجاشی توفی فقوموافصلوا علیہ فقام رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وصفوا خلفہ فکبر اربعاوھم لایظنون الا ان جناز تہ بین یدیہ۳؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا بھائی نجاشی مر گیا، اٹھو اس پر نماز پڑھو۔ پھر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کھڑے ہوئےصحابہ نے پیچھے صفیں باندھیں۔حضورنے چار تکبیریں کہیں، صحابہ کو یہی ظن تھا کہ ان کا جنازہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔
 (۳؎ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان    فصل فی الصّلٰوۃ علی الجنائز    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۵ /۴۰)
صحیح ابوعوانہ میں انہیں میں سے ہے:
فصلینا خلفہ ونحن لانری الا ان جنازۃ قدامنا۴؎۔
ہم نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی اورہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے۔
(۴؎ فتح الباری بحوالہ ابی عوانہ    باب الصفوف علی الجنازہ     مصطفی البابی مصر        ۳ /۴۳۲)
Flag Counter