Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
69 - 243
اقول ولقد کان احسن توفیقا لولاان نص الاصل والصغرٰی سواء کان مقتدیا اواماما ونص الظہیریۃ والخزانۃ لوکان اماما ونص الجواہرمقتدیااواماما اومن لہ حق الصلٰوۃ علیہ ونص النصاب یجوز التیمم للامام ومن لہ حق الصلٰوۃ فالصواب ابقاء الخلاف وتحقیق ان الحق ھوھذاالتفصیل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اقول یہ بہت عمدہ تطبیق تھی اگرمبسوط اورصغرٰی کی یہ تصریح نہ ہوتی کہ خواہ وہ مقتدی ہو یا امام، اور ظہیریہ و خزانہ کی یہ تصریح کہ اگر وہ امام ہو، اور جواہر کی یہ تصریح کہ مقتدی ہویاامام یا وُہ ہو جسے اس پر حق تقدم ہے اورنصاب کی یہ تصریح کہ تیمم جائز ہے امام کے لئے اور اس کے لئے جسے حقِ نماز ہے--تو صحیح یہ ہےکہ خلاف باقی رکھا جائے اورتحقیق یہ کی جائے کہ حق یہ تفصیل ہے(یعنی ولی کے لئے جواز جب اس سے زیادہ تقدم والا ہو ورنہ نہیں) اورخدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔
نوع یاز دہم:(۱۹۹) ہدایہ(۲۰۰) کافی(۲۰۱) تبیین(۲۰۲) فتح القدیر(۲۰۳) غنیـہ(۲۰۴) سراج وہاج(۲۰۵) امداد الفتاح

(۲۰۶) مستخلص (۲۰۷) طحطاوی علی المراقی: واللفظ للفتح ترک الناس عن اٰخرھم الصلٰوۃ علٰی قبرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولوکان مشروعالمااعرض الخلق کلھم من العلماء ولاالصالحین والراغبین فی التقرب الیہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بانواع الطرق عنہ فھذادلیل ظاھرعلیہ فوجب اعتبارہ ۱؎۔
 (فتح کے الفاظ ہیں۔ت) تمام جہان کے مسلمانوں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے مزار اقدس پر نماز چھوڑ دی۔ اگر یہ نماز بطور نفل جائز ہوتی تو مزار انور پر نمازسے تمام مسلمان اعراض نہ کرتے جن میں علماء اور صلحاء وہ بندے جو طرح طرح سے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں، تو یہ نماز جنازہ کی تکرار ناجائز ہونے پر کھلی دلیل ہے جس کا اعتبار لازم۔
 (۱؎ فتح القدیر        فصل فی الصلٰوۃ علی المیت        نوریہ رضویہ سکھر        ۲ /۸۴)
حاشیہ نورالایضاح کے لفظ سراج و غنیـہ و امداد سے یوں ہیں:
والایصلی علٰی قبرہ الشریف الٰی یوم القٰیمۃ لبقائہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کمادفن طریا بل ھو حی یرزق ویتنعم لسائر الملاذ والعبادات وکذاسائرالانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وقد اجتمعت الامۃ علی ترکھا۱؎۔
اس نماز کی تکرار جائز ہوتی تو مزار اقدس پر قیامت تک پڑھی جاتی کہ حضور ہمیشہ ویسے ہی تروتازہ ہیں جیسے وقتِ دفن مبارک تھے بلکہ وہ زندہ ہیں روزی دئےجاتے ہیں اورتمام لذتوں اور عبادتوں کے ناز و نعم میں ہیں اورایسے ہی باقی انبیا علیہم الصلٰوۃ والثناء،حالانکہ تمام امّت نے اس نماز کے ترک پر اجماع کیا۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح   فصل السلطان احق بصلوتہٖ  نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  ص۳۲۴)
النھی الحاجز میں چالیس کتابوں کی اکاون عبارتیں تھیں، یہ پچاسی۸۵کتب متون وشرو ح وفتاوٰی کی دوسوسات۲۰۷عبارات ہیں۔غرض صورت مذکورہ استثناء کے سوا نماز جنازہ کی تکرار ناجائز وگناہ ہونے پر مذہبِ حنفی کا اجماع قطعی ہے اور اس کا مخالف مخالفِ مذہبِ حنفی ہے۔ بعض نام کے حنفی برائےجہالت یا مغالطۂ عوام ان تمام روشن وقاہر تصریحاتِ مذہب کو چھوڑ کر یہاں دوکتب تاریخ تصنیفِ شافعیہ سے سند لیتے ہیں:
اوّل: تبییض الصحیفہ امام جلال الدین سیوطی شافعی میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جنازہ مبارک پر چھ دفعہ نماز ہوئی اور کثرتِ ازدحامِ خلائق سے عصر تک ان کےدفن پر قدرت نہ پائی۔

دوم:سیرالنبلا شمس الدین ذہبی شافعی میں ہے کہ شیخ تاج الدین ابوالیمن زید بن حسن کندی حنفی نے ۶شوال ۶۱۳ھ میں وفات پائی۔قاضی القضاۃجمال ابن الحرستانی نے نمازپڑھائی، پھر شیخ الحنفیہ جمال الدین حصیری نے باب الفرادیس میں ،پھرشیخ موفق الدین شیخ الحنبلیہ نے پہاڑ میں یعنی جبل قاسیون کوہِ دمشق میں۔اوّلاً :جمیع کتب مذہب کے صریح خلاف میں دو۲ کتابِ تاریخ پر کیسی جہالت شدیدہ ہے۔
ثانیاً: دنیا میں صرف حنفی ہی مذہب کے لوگ نہیں،خصوصاً پہلی صدیوں میں کہ خود مجتہدین بکثرت تھے اور ہر ایک کےلئے اتباع تھے۔اس حکایت میں یہ کہاں ہے کہ حنفیہ نے چھ۶بار پڑھی،بلکہ ہجومِ خلائق تھا ہرمسلک ہرمذہب کے لوگ جوق درجوق آتے تھے،غیر حنفیہ نے اگر سَوبار پڑھی تو حنفی مذہب میں اس کی کیا حجت ہوسکتی ہے، اﷲاکبر! امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ وُہ عظیم الشان جلیل البرہان امام ہیں کہ مستقل مجتہد مطلق سیّدنا امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ نے جب اس امام الائمہ سراج الامّہ کے مزارِ  پُرانوار کے پاس نمازِصبح پڑھائی بسم اﷲ آواز سے نہ پڑھی نہ رفع یدین کیا نہ قنوت پڑھی کسی نے سبب پوچھا ،فرمایا:ان صاحب قبر کے ادب سے
کما فی الخیرات الحسان للامام ابن حجرالمکی الشافعی
 (جیساکہ خیرات الحسان للامام ابن حجر مکی شافعی میں ہے۔ت) اور ایک روایت میں ہے مجھے حیا آئی کہ اس امام جلیل کے سامنے اس کا خلاف کروں
کما فی المسلک المتقسط للمولی علی قاری
 (جیساکہ المسلک المتقسط للمولی علی قاری میں ہے۔ت) سبحان اﷲ مجتہد مستقل تو ادبِ امام سے حضورامام میں اتباعِ امام اختیار کریں اور خود حنفیہ خاص جنازہ امام پر مخالفت  امام و ترکِ مذہب کرتے یہ کیونکر متصور ہوسکتا ہے۔
ثالثاً:پہلی نمازیں غیرولی نے پڑھیں تو ولی کو اختیارِ اعادہ تھا کہ امام کے ولی صاحبزادۂ جلیل حضرت سیدنا حماد ابن ابی حنیفہ تھے جب انہوں نے پڑھی پھر جنازۂ مبارک پر کسی نے نہ پڑھی۔امام ابن حجر مکی خیرات الحسان میں فرماتے ہیں:
مافرغوا من غسلہ الا وقد اجتمع من اھل بغداد خلق لایحصیھم  الا اﷲتعالٰی کانہم نودی لہم بموتہ وحرز من صلی علیہ فقیل:بلغواخمسین الفا، وقیل: اکثر، واعیدت الصلٰوۃ علیہ ستۃ مرات اٰخرھا ابنہ حماد ۱؎ ۔
ادھر امام ابوحنیفہ کے غسل سے فارغ ہوئے تھے کہ ادھر بغداد کی اتنی خلقت جمع ہوگئی جس کا شمار خداہی جانتاہے گویا کسی نے انتقال امام کی خبر پکار دی تھی، نماز پڑھنے والوں کا اندازہ کیاگیا تو کوئی کہتا پچاس ہزار تھے کوئی کہتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ تھے، اوران پر چھ بار نماز ہوئی۔آخر مرتبہ صاحبزۂ امام حضرت حماد  نے پڑھی ۔
 (۱؎ الخیرات الحسان        فصل ۳۳فی تجہیزہ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص ۱۴۷)
رابعاً:یُوں ہی واقعہ دوم میں کیاثبوت ہے کہ پہلی نماز باذن ولی تھی، بلکہ ظاہر  یہی ہے کہ نمازِدوم ہی باذنِ ولی ہوئی کہ جنازہ ایک عالم حنفی کا تھا اور وہاں اس وقت حنفیہ کے رئیس الرؤسا یہی امام جلال الدین محمودبن احمدحصیری تلمیذ خاص امام جلیل قاضی خان تھے جن کی تصانیف میں جابجاتصریح ہے کہ نمازجنازہ کی تکرار جائز نہیں۔تیسری نماز والے حنبلی مذہب تھے، حنبلیہ کے یہاں جواز ہے کہ ہم پر حجت نہیں۔ بالجملہ علماء وعقلاء کا اتفاق ہے کہ واقعۃ عین لا عموم لھاخاص واقعے محل ہرگونہ احتمال، ان سے استدلال محض خام خیال نہ کہ وہ بھی  اجماع قطعی تمام ائمۂ مذہب کے رد کرنے کو، جس پر جرأت نہ کرے گا مگر نااہل،
شدید الجہل لاحول ولاقوۃ الّاباﷲ العلی العظیم۔
جواب سوال دوم: مذہب مہذب حنفی میں جنازہ غائب پر بھی محض ناجائز ہے ۔ائمہ حنفیہ کا اس کے عدمِ جواز پر بھی اجماع ہے خاص ا سکا جزئیہ بھی مصرح ہونے کے علاوہ تمام عبارات مسئلہ اولٰی بھی اس سے متعلق کہ غالباً نمازِ غائب کو تکرار صلواۃ جنازہ لازم۔بلاد اسلام میں جہاں مسلمان انتقال کرے نماز ضرور ہوگی،اوردوسری جگہ خبر اس کے بعد ہی پہنچے گی، ولہذاامام اجل نسفی نے کافی میں اس مسئلہ کو اس کی فرع ٹھہرایا،اگرچہ حقیقۃً دونوں مستقل مسئلے ہیں۔اب اس مسئلہ کی نصوص خاصہ لیجئے ، اور بہ نظر تعلق مذکور سلسلہ عبارات بھی وہی رکھئے۔
(۲۰۸) فتح القدیر(۲۰۹) حلیہ(۲۱۰) غنیـہ(۲۱۱) شلبیہ(۲۱۲) بحرالرائق(۲۱۳) ارکان میں ہے:
وشرط صحتہا اسلام المیت وطہارتہ وضعہ امام المصلی فلھذا القیدلاتجوز علی غائب ۱؎۔
صحتِ نماز جنازہ کی شرط یہ ہے کہ میّت مسلمان ہو طاہر ہو، جنازہ نمازی کے آگے زمین پررکھا ہو ۔اسی شرط کے سبب کسی غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں۔
 (۱؎ فتح القدیر  فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ        ۲ /۸۰)

(غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی الجنائز   سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۸۳)
Flag Counter