(ان دونوں کے الفاظ ہیں کہ۔ت) ولی دوسرے کو اذنِ نماز دے دے جب بھی اُسے تیمم روا ہے (کہ اب اُسے خوفِ فوت ہوگیا) اور جسے ولی نے اذن دیا اب اسے تیمم جائز نہیں جیساکہ خلاصہ میں تصریح فرمائی(کہ اب اُسے خوفِ فوت نہیں)
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۱)
(۱۸۷) فتاوٰی کبرٰی (۱۸۸) فتاوٰی قاضی خان(۱۸۹) خزانۃ المفتین(۱۹۰) جامع المضمرات شرح قدوری(۱۹۱) فتاوٰی ہندیہ(۱۹۲) فتح القدیر (۱۹۳) جواہر اخلاطی(۱۹۴) شرح تنویر میں ہے :
تیمم فی المصر وصلی علی جنازۃ ثم اتی باخری فان کان بینھما مدۃ یقدر علی الوضوء (قال فی الدرثم زال تمکنہ)یعید التیمم وان لم یقدرصلّی بذلک التیمم اھ قال فی الدربہ یفتی اھ قال فی المضمرات والجواھر والھندیۃ، علیہ الفتوٰی ۱؎۔
پانی ہوتے ہوئے بخوفِ فوت تیمم سے نمازِ جنازہ پڑھی اب دوسرا جنازہ آیا اگر بیچ میں اتنی مہلت پائی تھی کہ وضو کرلیتا اورنہ کیا اب وضو کرے تو یہ دوسرا جنازہ فوت ہوتو اس صورت میں دوبارہ تیمم کرے اور مہلت نہ پائی تھی تو اسی پہلے تیمم سے یہ بھی پڑھے اسی پر فتوٰی ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۱)
(درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۳)
(جواہر الاخلاطی فصل فی صلٰوۃ الجنازۃ قلمی نسخہ موجود لائبریری جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۲)
(فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ /۳۰)
(۱۹۵) برہان شرح مواہب الرحمن(۱۹۶) شرح نظم الکنز للعلامۃ المقدسی(۱۹۷) حاشیۂ علامہ نوح آفندی(۱۹۸) حاشیہ علامہ ابن عابدین میں ہے:
مجرد الکراھۃ لایقتضی العجز المقتضی لجواز التیمم لانھا لیست اقوٰی من فوات الجمعۃ والوقتیۃ مع عدم جوازہ لہما۲؎۔
یعنی صرف کراہت کے سبب تیمم کی اجازت نہیں کہ جمعہ یا پنجگانہ فوت ہونے کے خوف سے تیمم کی اجازت نہیں،
یہ اس سے زائد تو نہ ہوگی،بلکہ اجازت اس لئے ہے کہ جنازہ فوت ہو تو بدل ناممکن ہے۔
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۶۱)
تنبیہ: ماذکرنامن عدم جوازہ للولی نسبوہ لروایۃ الحسن عن الامام الاعظم وعزاہ فی الجوہرۃ للنوادر وصححہ فی الھدایۃ والخانیۃ والکافی والتبیین وکذانقل تصحیحہ فی الجوھرۃ والہندیۃ والمستخلص والمراقی وعلیہ مشی فی الخلاصۃ والعنایۃ والمنیۃ والھندیۃ والکافی والدرر والمجتبٰی وجامع الرموز وقال الصدر الشہید بہ ناخذ کما فی الخلاصۃ وکذاصححہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی کما فی الغیاثیۃ عن منتقی الشہید وفی الغنیۃ عن الذخیرۃ۔
تنبیہ: ہم نے جو ذکر کیا کہ ولی کے لئے تیمم جائز نہیں، اسے علماء نے امام اعظم سے حسن بن زیاد کی روایت بتایا ہے، اور جوہرہ میں اسے روایت نوارد کہا ہے۔ ہدایہ، خانیہ، کافی اور تبیین میں اسی حکم کوصحیح کہا،اسی طرح جوہرہ، ہندیہ، مستخلص اورمراقی میں اس کی تصحیح نقل کی، اسی پر خلاصہ ،عنایہ، منیہ، ہندیہ،کافی، درر، مجتبٰی اور جامع الرموز میں مشی کی اورصدر شہید نے فرمایا''بہ ناخذ ''(ہم اسی کو لیتے ہیں)جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔اسی طرح شمس الائمہ حلوانی نے اس کو صحیح کہا، جیسا کہ غیاثیہ میں صدرشہیدکی منتقی اورغنیـہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے۔
اقول فماوقع فی ابن کمال پاشا من نسبۃ تصحیح خلافہ لشمس الائمۃ وتبعہ عبدالحلیم علی الدرر و الشامی علی الدرفکانہ سبق نظر۔
اقول توعلامہ ابن کمال پاشاسے جواس کے خلاف کی تصحیح کا انتساب شمس الائمہ کی طرف ہُوا اورحاشیۂ دررمیں عبدالحلیم رومی نے اورحاشیۂ دُرمختار میں علامہ شامی نے اس کی پیروی کی گویا یہ سبقت نظر ہے۔
علماء نے کہا :ظاہر الروایۃ میں ولی کے لئے بھی تیمم جائز ہے اس لئے کہ جنازہ میں انتظار مکروہ ہے۔اس کا جواب وُہ ہے جو ابھی ہم نے برہان اور اس کے بعد ذکر شدہ کتابوں سے نقل کیا۔ اور اسے (ولی کے لئے جواز تیمم کو)خلاصہ میں اصل(مبسوط)اور فتاوٰی صغرٰی کے حوالے سے بیان کیااور اسی پرظہیریہ و خزانۃ المفتین میں مشی کی ،اور جواہرالاخلاطی میں اسے صحیح کہااور حاشیۂ عبدالحلیم میں اس کی تصحیح خواہر زادہ کی طرف ،اور رحمانیہ میں نصاب، غیاثیہ، فتاوٰی غرائب اور ظہیریہ کے حوالے سے حاشیۂ شیخ الاسلام کی طرف منسوب کی۔
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۶۱)
اقول لکن الذی رأیت فی الغیاثیۃ ماقدمت ان قال الحلوانی الصحیح روایۃ الحسن ونفتی بھٰذا ۱؎ اھ فلعلھا العتابیۃ بمھملۃ فتاء قرشت فموحدۃ۔
اقول لیکن غیاثیہ میں جو میں نے دیکھا وہ جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا یہی ہے کہ حلوانی نے فرمایا صحیح روایت حسن ہے اور ہم اسی پر فتوٰی دیتے ہیں اھ۔تو ہوسکتا ہے یہ عین مہملہ پھرتاے قرشت پھر ایک نقطے والی ب سے''عتابیہ''ہو۔
(۱؎ فتاوٰی غیاثیہ فصل فی التکفین مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۴۰)
اقول وقد اسمعناک التنصیص علی استثناء الولی عن المختصر والبدایۃ والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والوافی والغرر والھدایۃ وقصرالاجازۃ علی خوف الفوت عنہا وعن الطحطاوی والکنز والتنویر والملتقی ونورالایضاح وھذہ کلہا متون المذھب المعتمد علیھا الموضوعۃ لنقل المذھب فلااقل من ان یکون ایضاً ظاھرالروایۃ وقد تظافرت علیہ تصحیحات الجلۃ ولایذھب علیک ما لہ من قوۃ الدلیل فعلیہ یجب الاعتماد والتعویل۔ وقد اشارفی الحلیۃ الی التوفیق بان عدم الجواز للولی اذالم یحضر من ھو اقدم منہ والجواز اذا حضر و الیہ یومی کلام الغنیۃ والبحر۔
اقول ہم جواز تیمم سے استثنائے ولی کی تصریح مختصر قدوری،بدایہ، وقایہ، نقایہ، اصلاح، وافی ،غرر اور ہدایہ کے حوالے سے پیش کرآئے اور صرف اندیشۂ فوت کے وقت اجازت تیمم ہونے کو کتب مذکورہ اورطحاوی، کنز، تنویر، ملتقی اور نورالایضاح کے حوالے سے بیان کیا--یہ سب متون مذہب ہیں جن پر اعتماد ہے اور جونقل مذہب کے لئے ہی لکھے گئے ہیں تو کم سے کم اتناضرور ہے کہ یہ (ولی کےلئے عدم جواز تیمم) بھی ظاہرالروایۃ ہوگا--اس پر جلیل القدر علماء کی تصحیحات بھی مجتمع ہیں اس میں دلیل کی جو قوت ہے وہ بھی عیاں ہے تو اسی پر اعتماد ضروری ہے۔حلیہ میں تطبیق کی جانب اشارہ کیا ہے کہ ولی کے لئے عدمِ جواز اُس وقت ہے جب اس سے زیادہ تقدم رکھنے والا موجود نہ ہو اور جواز اُس وقت ہے جب اس پر تقدم والا موجود ہو--اسی کی طرف غنیـہ اوربحر کی عبارتوں میں بھی اشارہ ملتا ہے۔