Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
67 - 243
وکذلک قید فی النافع بقولہ ان حضرقال فی شرحہ المستصفی انماقدم السلطان بعارض ولہذا قال ان حضر۲؎اھ
اسی طرح''نافع'' میں یہ قید لگائی ہےکہ ''اگر وہ موجود ہو''۔ اس کی شرح مستصفےٰ میں فرمایا:سلطان کو تقدم عارض کی وجہ سے ہے :اسی لئے فرمایا"اگر وہ موجود ہو  "اھ
  (۲؎ المستصفٰی شرح الفقہ النافع للنسفی)
وفی المجتبٰی صلی الولی لم یجزان یصلی احد بعدہ ھذا اذالم یحضرالسلطان امااذاحضرصلی الولی یعید السلطان۱؎اھ
مجتبی میں ہے  ولی نے پڑھ لی تو اس کے بعد کوئی نہیں پڑھ سکتایہ اُس صورت میں ہے جب سلطان موجود نہ ہو، اگراس کی موجودگی میں ولی پڑھ لے تو وہ پھر پڑھ سکتاہے اھ--
(۱؎ المجتبٰی)
ومثلہ فی الفاتح وفی الدرلوصلی الولی بحضرۃ السلطان مثلااعادالسلطان۲؎اھ وفی المعراج والحاوی عن المجتبٰی، للسلطان الاعادۃ اذاصلی الولی بحضرتہ۳؎اھ
اسی کے مثل فاتح شرح قدوری میں ہے-- درمختارمیں ہے: اگر ولی نے مثلا سلطان کی موجودگی میں پڑھ لیا تو سلطان دوبارہ پڑھ سکتاہے اھ معراج اورحاوی میں مجتبٰی کے حوالے سے ہے: سلطان کوحقِ اعادہ حاصل ہے اگر ولی اس کی موجودگی میں پڑھ لے اھ
(۲؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز   مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۳)        (۳؎ المعراج)
  وفی ط علی المراقی صلی ولی وارادالسلطان ان یصلی علیہ فلہ ذٰلک ،جوہرہ ،یعنی اذاکان حاضراوقت الصلٰوۃ ولم یصل مع الولی ولم یاذن لاتفاق کلمتھم ان الحق للسلطان عندعدم حضورہ نھر۴؎ اھ فظہر سقوط ماوقع لعبدالحلیم علی الدرر من قولہ ان السلطان اذالم یحضرفصلی من دونہ فحضرالسلطان یعیدھا ان شاء۵؎اھ فلیتنبہ وباﷲ التوفیق۔
-- حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے:ولی نے نماز پڑھ لی اور سلطان چاہتاہے کہ وہ بھی پڑھے تو اسے اس کا حق حاصل ہے،جوہرہ-- یعنی جب سلطان وقتِ نماز موجود رہا ہو اور ولی کے ساتھ نہ پڑھا  نہ ہی اجازت دی ہو اس لئے کہ عباراتِ عُلماء اس بارے میں متفق ہیں کہ سلطان کو غیر موجودگی کی حالت میں کوئی حق نہیں ،نہر اھ --اس سے واضح ہے کہ وہ کلام ساقط الاعتبار ہے جوعبدالحلیم رومی کے قلم سے حاشیہ دررمیں درج ہوا کہ سلطان کی غیر موجودگی میں اس سے کم درجہ والے نے جنازہ پڑھ لیا پھر سلطان آیا تو اگر وہ چاہے توپھر  پڑھ سکتا ہے اھ۔ا س سے آگاہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے(ت)
 (۴؎ طحطاوی علی المراقی     فصل فی السلطان احق بصلوتہٖ    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۲۴)

(۵؎ حاشیۃ الدرر علی الغرر    عبدالحلیم باب الجنائز    مطبعہ عثمانیہ ترکی        ۱ /۱۰۸)
نوع دہم:حدیہ کہ جنازہ ہوااور بے وضوکو وضو کرنے یا جنب یا حیض یا نفاس سے فارغ ہونے والی کو نہانے میں فوتِ نماز کا اندیشہ ہوتوشرع نے اجازت فرمائی کہ تیمم کرکے شریک ہوجائے کہ ہوچکی تو پھر نہ پڑھ سکے گا جیسے نمازِ عید، ولہذا سلطان وغیرہ جو ولی سے مقدم ہیں جب حاضر ہوں تو ولی کو بھی تیمم جائز ہے، بلکہ اگر ولی نے دوسرے کو اجازتِ امامت دے دی تواب ولی بھی تیمم کرسکے گا کہ اجازت دے کر اختیارِ اعادہ نہ رہا، یونہی اگر وضو یا غسل کے تیمم سے ایک جنازہ پڑھاگیا کہ دوسرا آگیا اور وضویا غسل کی مہلت نہ پائی تو اسی تیمم سے دوسرااورتیسرا جہاں تک ہوں پڑھ سکتے ہو۔
 (۱۴۶)کنز(۱۴۷) تنویر(۱۴۸) ملتقی(۱۴۹) نورالایضاح(۱۵۰) محیط میں ہے:
صَحّ لخوف فوت الجنازۃ۱؎
اندیشہ فوتِ جنازہ کے لئے تیمم جائز ہے۔
(۱؎ کنز الدقائق        باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی            ص۱۷)
 (۱۵۱) مختصر قدوری(۱۵۲) ہدایہ(۱۵۳) وقایہ(۱۵۴) نقایہ(۱۵۵) اصلاح(۱۵۶) وافی(۱۵۷) غرر  (۱۵۸)منیہ میں ہے :
واللفظ للاصلاح و الوقایۃ ھولمحدث وجنب وحائض ونفساء عجزواعن الماء لخوف فوت صلٰوۃ الجنازۃ لغیر الولی۲؎اھ مثلہ فی الغرر غیرانہ قال لغیرالاولٰی ۳؎۔
 (اصلاح اوروقایہ میں ہے۔ت) مرد یا عورت جسے وضو یا غسل کی حاجت ہو اوراس میں نماز جنازہ فوت ہوجانے کا خوف کریں ان کو تیمم جائز ہے سوا اس کے جو اس نماز کا احق ہوکہ اسے خوفِ فوت نہیں۔اور اسی طرح غرر میں ہے مگر وہاں غیرولی کی بجائے غیر اولٰی کہا۔(ت)
 (۲؎ غررالاحکام مع شرح الدررالحکام    باب التیمم    مطبعہ احمد کامل الکائنۃ فی دارالسعادت بیروت    ۱ /۲۹ ، ۳۰)

(۳؎ غررالاحکام مع شرح الدررالحکام    باب التیمم    مطبعہ احمد کامل الکائنۃ فی دارالسعادت بیروت   ۱ ۱/۲۹ ۲۹، ۳۰۳۰  )
مختصر وقایہ کے لفظ یہ ہیں:
مایفوت لاالٰی خلف کصلٰوۃ الجنازۃ لغیر الولی۴۴؎۔
جواز تیمم کے عذروں سے ہے ایسے واجب کا فوت جس کا بدل نہ ہوسکے جیسے غیروالی کے لئے نمازِ جنازہ۔
 (۴؂ النقایۃ مختصر وقایۃ         فصل التیمم        نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی        ص۶)
 (۱۵۹) منتقی امام حاکم شہید (۱۶۰) فتاوٰی غیاثیہ میں ہے :
لایجوز التیمم لمن ینتظرہ الناس فلو لم ینتظر وہ اجزاہ۱؎۔
جس کا انتظار ہوگا یعنی ولی و اولٰی اسے تیمم جائز نہیں اور جس کا انتظار نہ ہوگا یعنی غیر اولٰی اسے تیمم جائز ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی غیاثیہ         فصل فی التکفین        مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص ۴۴)
 (۱۶۱) طحطاوی علی الدر میں ہے:
یعتبر الخوف بغلبۃ الظن۲؎
خوفِ فوت میں غالب گمان کا اعتبار ہے
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر    باب التیمم            دارالمعرفۃ بیروت        ۱ /۱۲۹)
 (۱۶۲) امام اجل طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
قد رخص فی التیمم فی الامصار خوف فوت الصلٰوۃ علی الجنازۃ وفی صلٰوۃ العیدین لان ذلک اذا فات لم یقض۳؎۔
نمازِ جنازہ یا عید فوت ہونے کے خوف سے پانی ہوتے ہوئے شہروں میں تیمم کی اجازت ہے اس لئے کہ ان دونوں نمازوں کی قضا نہیں۔
 (۳؎ طحاوی شرح معانی الآثار    باب ذکر الجنب والحائض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۴)
 (۱۶۳) ہدایہ(۱۶۴) مجمع الانہرمیں ہے:
لانہ لاتقضی فیتحقق العجز۴؎
اس لئے کہ نماز جنازہ کی قضا نہیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔
 (۴؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب التیمم    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۴۱)
 (۱۶۵) حلیہ (۱۶۶) برجندی (۱۶۷) مراقی الفلاح(۱۶۸) فتاوٰی خیریہ میں ہے :
انھا تفوت بلاخلف (زادالبرجندی) بالنسبۃ الٰی غیرالولی۵؎۔
نماز ہوچکے تو غیرولی کے لئے اس کا بدل نہیں۔
 (۵؎ شرح النقایہ للبرجندی    	باب التیمم            نولکشور لکھنؤ        ۱ /۴۶)

(مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی    باب التیمم         نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۶۳)
 (۱۶۹)کافی میں دونوں لفظ جمع فرمائے کہ :
صلٰوۃ الجنازۃ والعیدتفوتان لا الی بدل لانھما لاتقضیان فیتحقق العجز ۶؎۔
نماز جنازہ وعید فوت ہوجائیں تو ان کا بدل نہیں کہ وُہ قضا نہیں کی جاتیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔
 (۶؎ کافی شرح وافی)
 (۱۷۰)عنایہ میں ہے:
کل مایفوت لا الٰی بدل جاز ادائہ بالتیمم مع وجود الماء وصلٰوۃ الجنازۃ عندناکذلک لانھا لاتعاد۱؎۔
ہر واجب کہ فوت پر بدل نہ رکھتا ہو پانی ہوتے ہوئے اسے تیمم سے اداکرسکتے ہیں اور نمازِ جنازہ ہمارے نزدیک ایسی ہی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں ہوسکتی۔
(۱؎ العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر    باب التیمم   نوریہ رضویہ سکھر      ۱ /۱۲۲)

ؕؕؕؕؕ
Flag Counter